پردے کے پیچھے کیا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کی گپ شپ یوں تو ہم ہمیشہ سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کبھی خبروں میں تو کبھی فلمی میگزین میں لیکن بالی ووڈ کی اندر کی باتوں کے لائیو ٹیلی کاسٹ کا نہ نیا سلسلہ کچھ زیادہ ہی دلچسپ ہے ۔ کبھی فلمی دنیا کی لڑکیوں کے مبینہ طور پر جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث ہونے کی خبروں سے سنسنی پھیلائی گئی تو کبھی مدھر بھنڈارکر کا بھانڈا پھوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اب انڈیا ٹی وی نے اپنی رپوٹر کو بھیس بدل کر فلم پروڈیوسروں اور ادکاروں کے پاس بھیجنا شروع کیا اور اس لڑکی نے ظاہر کیا کہ وہ ہیروئین بننا چاہتی ہے اور اس کے بعد کی تمام کاروائیوں کو ریکارڈ کر لیا گیا اب اس تمام چکر میں سب سے پہلے پھنسنے والوں میں پردے کے ولن شکتی کپور تھے۔ بیچارے بڑے میاں نے لڑکی کے ساتھ جو لبرٹی لینے کی کوشش کی تھی وہ ریکارڈنگ ملک بھر کے لوگوں نے ٹی وی پر دیکھی خیر بڑھاپے میں اس طرح کے شوق سے یا تو جان پر بنتی ہے یا پھر نام پر۔ انڈیا ٹی وی کے سی ای او رجت شرما کا کہنا ہے کہ ان کے اس آپریشن کا مقصد چھوٹے شہروں کی ان بھولی بھالی لڑکیوں کو چوکنا کرنا ہے جو بڑے بڑے خواب لیکر اس شہر میں آتی ہیں اور غلط راستوں پر نکل جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شکتی کپور کی فیملی کو دکھ پہنچانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن انڈے کو پھوڑے بغیر آپ آملیٹ نہیں بنا سکتے ۔ اب رجت صاحب نے تو آملیٹ پکا لیا لیکن بیچارے بڑے میاں کی عزت کا جو کچرا ہوا وہ وہی جان سکتے ہیں رجت شرما نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ وہ اور بھی بڑے لوگوں کا پردہ فاش کرنے والے ہیں ۔ اب پتہ نہیں سنسنی پھیلا کر اپنے چینلز کو مشہور کرنے کی آج کی اس دوڑ میں کن کن لوگوں کی عزت کا جنازہ نکلنے والا ہے۔لیکن فلم انڈسٹری میں یہ کوئی نئی بات نہیں اگر بہت سی بڑی ہیروئینوں کے ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے تو اس طرح کی بے شمار سنسنی خیز کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے جنہوں نے کچھ پانے کے لئے بہت کچھ کھویا بھی ہوگا۔
خبر ہے کہ ایشورہ رائے اپنے اور ہالی ووڈ کے رشتوں کی باتوں سے خاصی پریشان ہیں ۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ بالی ووڈ میں ان کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوگیا ہے کہ اب وہ ہالی ووڈ کا ایک طرف کا ٹکٹ کٹوا کر نکل جائیں گی اس لیے انہیں کوئی بڑے بینر کی فلمیں بھی آفر نہیں کی جا رہیں۔ اور جو فلمیں انہوں نے اب تک کی ہیں مثلا ’شبد‘اور ’ کیوں ہو گیا نہ ‘وغیرہ ان کا حشر بھی سب کو معلوم ہے اب ایش ہر پریسں کانفرنس میں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ بالی ووڈ ہی میرا گھر ہے ، اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، میں اسے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس تمام معاملے کا دوسرا پہلو بھی ہے اوروہ یہ کہ محترمہ کی ہالی ووڈ کے زیادہ تر پراجیکٹ پٹری پر نہیں آسکے۔ بس گریندر چڈھا ہی ان کا آخری سہارا ہیں اسی لیے ایش بار بار صفائی پیش کر رہی ہیں کہیں ان کا وہی حال نہ ہو کہ’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ‘۔ رانی مکھرجی جیسی باصلاحیت ادکاراؤں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بالی ووڈ میں صرف خوبصورتی کے بل پرہی ہیروئین کو نمبر ون بنا کر نہیں بٹھایا جا سکتا۔ ویسے بھی ایشورہ نے سنجے لیلا بھنسالی جیسے ہدایتکار کی فلم ’باجی راؤ مستانی ‘ کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا کیونکہ سنجے سلمان خان کو ان کے مقابلے ہیرو لینا چاہتے تھے۔ ایشوریہ جی یہ وہی سنجے بھنسالی ہیں جنہوں نے فلم ’ہم دل دے چکے صنم ‘ اور دیو داس جیسی فلموں سے آپکو آج اس مقام پر پہنچایا ہے۔ وقت رہتے سنبھل جائیے ورنہ اس انڈسٹری میں بستر گول ہوتے دیر نہیں لگتی ۔
ویسے بھی سلمان خان ایک مرتبہ پھر کامیابیوں کے گھیرے میں ہیں پہلے ’تیرے نام‘ پھر ’گرو‘اور ، مجھ سے شادی گروگی کی زبردست کامیابی کے بعد تو اب انہیں ایشوریہ بھی مل گئی۔ ارے صاحب ایشوریہ رائے نہیں بلکہ ان کی ہمشکل کہی جانے والی سنیہا جو ان کی فلم ’لکی نو ٹائم فار لو‘ میں سلمان کی ہیروئین ہے۔ اس فلم کا خوبصورت میوزک عدنان سمیع نے دیا ہے اور گانے پہلے ہی دھوم مچا چکے ہیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||