شاہد اور کرینہ کپور کی کیمسٹری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابھرتے ہوئے اداکار شاہد کپور کا کہنا ہے کہ جب تک وہ سٹار نہیں بن جاتے بڑے ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے کیونکہ ان کے ساتھ کام کرکے کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اب یہ بات تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ خود کامیاب ڈائریکٹرز ان کے ساتھ کام کرنا چاہیں گے یا نہیں کیونکہ اگر ان کی اگلی کچھ فلموں کا حال بھی ان کی پچھلی فلم ’فدا‘ کی طرح ہوا تو نئی فلموں کے بارے میں شاہد یہی کہتے رہ جائیں گے یہ دل مانگے مور ۔ جی ہاں! یہی نام ان کی حال ہی میں رلیز ہونے والی فلم کا بھی ہے جس میں وہ ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین ہیروئینوں کے ساتھ عشق کرتے نظر آئیں گے ۔اپنی ایک اور آنے والی فلم ’ملینگے ملینگے ‘ کے بارے میں شاہد کا کہنا ہے کہ اس فلم میں انہیں کرینہ کے ساتھ کام کرکے پہلے سے زیادہ اچھا لگا شاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بہت ہی خوبصورت اور میٹھی love story ہےجہاں ان کے اور کرینہ کے درمیان کی اصل کیمسٹری دیکھنے کو ملیگی۔ شاہد بھائی! ایسی ہی کیمسٹری آپ پہلے بھی دکھانے کی کوشش کر چکے ہیں جو ناکام رہی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ مہیش بھٹ’ بلیو فلم ‘بنانے کی تیاری کر رہے ہیں گھبرائیے نہیں یہ صرف ان کی نئی فلم کا ٹائٹل ہے یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو فحش مواد کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو اب تک بھٹ کیمپ کی فلمیں نام سے نہ سہی لیکن دیکھنے میں کسی بلیو فلم سے کم نہیں رہی ہیں۔’جسم اور پاپ‘ جیسی فلمیں بنانے کا پاپ تو وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اب ایک اور فلم ملاحظہ کیجئے جس کا نام ہے ’روگ‘ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بھٹ کیمپ نے جسم کی نمائش کے لئے جنوبی افریقہ کی ایک حسینہ کا انتخاب کیا ہے۔
فلم میں اس بیچاری ہیروئین نے اِتنے ہی کپڑے پہنے جتنے اس کو دیئے گئے۔فلم میں اگر کچھ قابلِ ذکر ہے تو وہ ہے عرفان خان جو شاید فلم میں تھوڑا وزن پیدا کر سکیں۔ حال ہی میں کرن جوہر نے ایک انٹر ویو میں خواہش ظاہر کی کہ اگر وہ دوبارہ پیدا ہوں یعنی اگر اگلا جنم لیں تو ایشوریہ رائے بننا چاہیں گے۔ ان کے خیال میں ایشوریہ دنیا کی حسین ترین عورت ہیں ۔ بھئی کرن صاحب یہ تو پوری دنیا نے تسلیم کر لیا لیکن اگر آپ کی بات پر غور کیا جائے تو تصور کرکے ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے کہ ایشورہ کا اگلا جنم کیسا ہوگا۔ اور اگر کہیں سلمان خان نے یہ بات سن لی تو وہ اس جنم میں ہی توبہ کر لیں گے۔ خیر بھگوان آپ کی منوکامنا (دعا) پوری کرے ۔ اب کہیں آپ ایشوریہ کو اگلے جنم میں کرن جوہر بن کر پیدا ہونے کی بد دعا نہ دے بیٹھیے گا۔ زاید خان یعنی فلم’ میں ہوں نہ‘ کے سائیڈ ہیرو کہتے ہیں کہ یوں تو فلم انڈسٹری میں یہ چلن عام ہے کہ فلم سٹارز کے بچوں کے لئے اکثر ان کے والدین ہی پہلی فلم میں لانچ کرتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور ایسا جان بوجھ کر کیا گیا کیونکہ وہ خود ہی اپنا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ اب زاید صاحب کو کیا معلوم کہ ان کے ابا جی اپنے بھائی فیروز خان ، راج ببر، اور دیو آنند جیسے کئی بڑے فلم سٹارز کا حال دیکھ چکے ہیں جنہیں نے اپنے اپنے صاحبزادوں کے لئے فلمیں بنائیں اور بری طرح ناکام رہے اسے لئے وہ یہ غلطی دہرانا نہیں چاہتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||