BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی ووڈ 2004 میں

News image
’گرل فرینڈ‘ میں ہم جنسیت جیسے نازک مسئلہ کو اٹھایاگیامگراس کو گلیمرائز بھی کیا گیا۔
ہر سال کی طرح یہ سال بھی بالی ووڈ کے لۓ ہنگامہ خیز رہا ۔ لیکن اس سال بالی ووڈ میں دو دلچسپ پہلو نظر آئے ۔ ان میں سے پہلا بالی ووڈ میں عورتوں کی بدلتی تصویر اور دوسراہندوستان اور پاکستان کے درمیان بدلتے حالات کے سبب بالی ووڈ میں دوستی اور پیار کا نیا پیغام لانے والی’ میں ہوں نا‘ اور ’ ویر زارا‘جیسی بڑی فلموں کا کامیاب ہونا۔

2004 کی شروعات ہوئی عورت کی شخصیت کے ایک چھپے ہوئے پہلو پر بنی مشیہ بھٹّ پروڈکشنز کی فلم ’ مرڈر‘ سے ۔ فلم کی اداکارہ ملکہ شیراوت اپنی پہلی فلم’خواہش‘ میں 17 بوسے دینے کے بعد ایک بار پھر خبروں میں آگئ ۔ مرڈر فلم میں نہ صرف عورت کے غیر مرد کے ساتھ رشتوں کو دکھایا گیا بلکہ ملکہ شیراوت کے جسم کی بھرپور نمائش کی گئ اور ’بیڈروم سینز‘ بیڈ روم سے باہر نکل کر پردے پر آگۓ۔ ٹریٹمنٹ اچھا ہونے کی وجہ سے نہ صرف فلم خاصی کامیاب رہی بلکہ اس نے بالی وڈ کو ایک نیا’ٹرینڈ‘ بھی دیا ۔ اسی فلم کی طرز پر دو فلمیں ، کرن رازدان کی ’ہوس‘ اور ارونا راجے کی ’ تم‘ رلیز ہوئیں ۔ ان فلموں کا موضوع تو ’ایکسٹرا میریٹل افیئر‘ ہی تھا اور ہیرؤنوں کے جسم کی نمائش بھی کی گئ لیکن فلمیں باکس آفس پر نہیں چل سکیں ۔ لیکن ’سیکس‘ اور عورتوں کے جسم کی نمائش کسی نہ کسی انداز میں پردے پر لانے کا سلسلہ تھما نہیں۔

نئے ٹرینڈ!
 اس ’ٹرینڈ‘ کی شروعات امریکہ سے ہوئی تھی جب کیبل اور ٹیلی ویژن سے فلموں کو کڑا مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا ، اس وقت فلم انڈسٹری میں قائم رہنے کے لۓ لوگوں نے فلموں میں ’سیکس اور کرا‏ئم‘ کا سہارا لیا۔‘
مہیش بھٹ

مشہور ہدایت کار اور مرڈر فلم کے فلم ساز مہیش بھٹ نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوۓ بتایا کہ ’ دراصل اس ’ٹرینڈ‘ کی شروعات امریکہ سے ہوئی تھی جب کیبل اور ٹیلی ویژن سے فلموں کو کڑا مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا ، اس وقت فلم انڈسٹری میں قائم رہنے کے لۓ لوگوں نے فلموں میں جنس اور جرم کا سہارا لیا۔‘ مسٹر بھٹ نےاعتراف کیا کہ انہوں نے راز، اور جسم جیسی فلموں سے بالی ووڈ میں یہ ٹرینڈ شروع کیا اور "مرڈر" میں اس ٹرینڈ کا مکمل طور پر استعمال کیا گیا ۔ لیکن مسٹر بھٹّ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف ’سیکس‘ کسی فلم کی کامیابی کی وجہ نہیں بن سکتی نتیجتا دوسری کوئی بھی فلم مرڈر جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔

فرح خان اور شاہ رخ خان
فرح خان اور شاہ رخ خان۔ فرح خان کی ’میں ہوں ناں‘ میں پہلی بار انڈیا پاکستان دوستی کی بات ہوئی۔

کسی نہ کسی طرح عورتوں کے جسم کی نمائش پر مبنی فلموں کی تعداد بڑھتی رہی ۔ کچھ فلموں نے تو اپنے گانوں اور فلم کے پروموز کے ذریعے شائقین کے دلوں میں امیدیں جگائیں لیکن جب فلمیں رلیز ہوئیں تو اصلیت سب کے سامنے تھی۔فلموں میں صرف سیکس اور جسم کی نمائش تھی ۔عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں نے بھی بلا کسی جھجھک کے اپنے جسم پردے پر دکھائے۔

ایسی فلموں میں عباس مستان کی ’اعتراض‘ ، سدھیر مشرا کی ’چمیلی‘ ، آدتیہ چوپڑا کی ’دھوم‘ ، دیپک شیودسانی کی ’جولی‘ ، اشوک ٹھکاریا کی ’مستی‘ اور کرن رازدان کی ’گرل فرینڈ‘ جیسی فلمیں شامل تھیں۔ جس میں ’گرل فرینڈ‘ میں میرا نائر کی فلم ’فائر‘ کے بعد ایک بار پھر عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات یعنی ہم جنسی کا موضوع سامنے لایاگیا۔ جہاں فائر میں شبانہ اعظمی اور نندیتا داس نے اپنی بہترین اداکاری سے اس فلم کو ایک یادگار فلم بنا دیا تھا وہیں "گرل فرینڈ" میں صرف امریتا اروڑا اور ایشا کوپکر کے جسموں کی نمائش کی گئ۔ نتیجتًا فلم نہیں چلی۔

ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں میں حالیہ بہتری کا اثر بالی ووڈ کی فلموں میں بھی نظر آیا ۔ گزشتہ برسوں میں بالی ووڈ میں جہاں ’غدر‘ ، ’دا ہیرو‘ ، ’ایل او سی‘ جیسی فلمیں بنائی گئیں جس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نفرت کی لہر دوڑ رہی تھی وہیں اس سال ہندوستانی لڑکے ویر اور پاکستانی لڑکی زارا کی محبت کی داستان سال کی سب سے بڑی ہٹ فلم کے طور پر سامنے آئی۔

ویر زارا
 اس سال ہندوستانی لڑکے ویر اور پاکستانی لڑکی زارا کی محبت کی داستان سال کی سب سے بڑی ہٹ فلم کے طور پر سامنے آئی۔

اسی طرز پر کوریوگرافر فرح خان کی بطور ہدایتکار پہل فلم "میں ہوں نا " میں ہندوستان اور پاکستان کے جنگی قیدیوں کو واپس اپنے اپنے ملک بھیجنے کا معاملہ اٹھایا گیا۔ شاہ رخ خان ، سشمیتا سین ، سنجے خان کے بیٹے زید خان کی اداکاری اور انو ملک کی موسیقی نے فلم کو کامیاب بنایا۔

تقافت پر اثرات
 ’عام طور سے ہندوستانی سمجھتے ہیں کہ ان بدلتے رجحانات کے سبب انکی ثفافت میں بھی تبدیلی آرہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے یہ تبدیلیاں صرف سطحی طور پر ہوتی ہیں‘
شیام بینیگل

فلم ہدایتکار شیام بنیگل نے فلم انڈسٹری کےرجحان کے بارے میں بات کرتے ہوۓ بی بی سی کو بتایا’عام طور سے ہندوستانی سمجھتے ہیں کہ ان بدلتے رجحانات کے سبب انکی ثفافت میں بھی تبدیلی آرہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے یہ تبدیلیاں صرف سطحی طور پر ہوتی ہیں اصل میں فیشن بدلتا ہے۔ لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ کہیں یہ بدلتا رجحان عام اخلاقی قدروں کو کوئی نقصان نہ پہنچاۓ۔‘

اس سال زیادہ تر فلمیں باکس آفس پر درمیانہ بزنس ہی دے سکیں لیکن کم لاگت میں بننے کے سبب فلمسازوں کو زیادہ مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ ایسی فلموں کی فہرست میں سودھیر مشرا کی چمیلی ، رام گوپال ورما کے پروڈکشن ہاؤس کی’ ایک حسینہ تھی‘، راج کمار سنتوشی کی’ خاکی‘، اشوک ٹھکاریا کی ’مستی‘ ، ڈیود دھون کی ’مجھ سے شادی کروگی‘، ریوتی کی’ پھر ملیں گے‘ ، اور مہیش بھٹ پروڈکشنز کی’ تم سا نہیں دیکھا‘ جیسی فلمیں شامل ہیں ۔

2004 میں ان فلموں کی تعدادخاصی زیادہ رہی جن سے پوری انڈسٹری کو کافی امیدیں تھیں لیکن شائقین نے انھیں ناپسند کیا۔ایسی فلموں میں فرہان اختر کی ’لکشیہ‘ ، وویک اؤبرائے اور اشوریہ رائے کی ’ کیوں ہو گیا نہ‘ ، پش آدتیہ چوپڑا کی ’دھوم ‘ ، منی رتنم کی ’یوا‘ آشوتوش گواریکر کی ’سودیس‘ اور امیتابھ بچن کی دو بڑی فلمیں’ دیو‘ اور ’دیوار‘ شامل تھیں ۔

سال کی ہٹ فلموں میں ہدایت کار انوراگ باسو کی’ مرڈر‘ ، کنال کوہلی کی ’ہم تم‘ ، فرح خان کی ’میں ہوں نہ‘ اور یش چوپڑا کی ’ویر زارا‘ ہیں۔

فلم رائٹر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے سال دو ہزار چار کے ٹرینڈ کے متعلق بی بی سی کو بتایا ’شائقین کی نبض پکڑنا فلم والوں کے لۓ آسان تو بالکل نہیں ہے لیکن اگر اس سال کی ہٹ فلموں پر نظر ڈالی جائے تو آپ دیکھیں گے کہ اس سال کامیابی انہیں فلموں کو حاصل ہوئی جن میں جذبات ، ڈرامہ اور کامیڈی تو اپنے عوروج پر تھی لیکن سنجیدہ سماجی مسائل کا دور دور تک ذکر نہیں تھا۔‘

جاوید اختر
جاوید اختر:’شائقین کی نبض پکڑنا آسان نہیں‘
بالی ووڈ ہیرو کے لۓ پچھلے کچھ سال کی طرح یہ سال بھی شاہ رخ خان کے نام رہا ۔’ میں ہوں نا‘ اور ’ویر زارا‘ کی کامیابی نے انکا سپرسٹار کا خطاب برقرار رکھا ۔

پہلی بار سیف علی خان نے ’ہم تم ‘ میں مکمل طور پر ایک فلم کی ذمہ داری اپنے کندھے پر اٹھائی جس میں وہ کامیاب رہے ۔ ساتھ ہی اسی سال رلیز ہوئی فلمساز رام گوپال ورما کی فلم’ ایک حسینہ تھی‘ میں بھی سیف کو ’نیگیٹو رول ‘ میں کافی سراہا گیا ۔

تقریبا ہر دوسری فلم میں نظر آنے کے باوجود امیتابھ بچن کاجادو شائقین پر کوئی اثر نہ دکھاسکا ۔ انکی کوئی بھی فلم باکس آفس پر پہلے کی طرح کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔

اداکاراؤں میں یہ سال رانی مکھر جی اور پریتی زنٹا کا رہا ۔ جہاں رانی مکھر جی کی اداکاری’ ہم تم‘ اور ’ویر زارا‘ دونوں میں ہی سراہی گئ وہیں اس سال ’کل ہو نہ ہو‘ کی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے پریتی زنٹا نے ’ویر زارا‘ میں شائقین کی خاصی داد حاصل کی ۔

ادھر کرینہ کپور کے لۓ یہ سال کچھ خاص نہیں رہا۔ انکی ’ فدا‘ ، ’چمیلی‘، ’اعتراض‘ اور ’یووا‘ جیسی فلمیں تو ریلیز ہوئیں لیکن کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اسی طرح ایشوریہ رائے کے لۓ بھی یہ سال کچھ کمال نہ دکھا سکا۔ ’کیوں ہو گیا نہ‘ اور ’ بّلے بّلے امرتسر ٹو ایل اۓ ( برائڈ انڈ پرجیڈس) ‘ جیسی فلمیں کب ریلیز ہوئیں اور کب سینما گھروں سے اترگئیں کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔

کرینا کپور کے لیے یہ سال کچھ اچھا نہیں تھا
کرینا کپور کے لیے یہ سال کچھ اچھا نہیں تھا

فلم انڈسٹری میں اس سال جہاں کرینہ کپور اور شاہد کپور کے بوسے نے پوری انڈسٹری کو ہلا دیا وہیں دوسری طرف ایشوریہ رائے اور وویک اوبرائے کا عشق ٹھنڈا پڑتا نظر آیا ۔ ایک دہائی سے زیادہ شادی کے رشتے سے باہر آنے کے بعد عامرخان اور انکی فلموں کی اسسٹنٹ کرن راو کی شادی کی خبروں کا خاصا چرچہ رہا ۔ اسی طرح سیف علی خان اورامریتا سنگھ ایک دوسرے سے الگ ہو گۓ اور ساتھ ہی نئ گرل فرینڈ ’روزا‘ کے ساتھ انکی دوستی کے چرچے بھی شروع ہوگۓ ۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد