شاہ رخ خان، سمیرا ریڈی اور ’مسافر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلموں میں سے چند توقعات سے کم رہیں تو کچھ کا معاملہ اس کے بر عکس بھی تھا۔ مثلاً ’ویر زارا‘ اور ’اعتراض‘ توقعات کے مطابق نہیں تھیں تو اس کے بالکل برعکس بھی نہیں رہیں۔ لیکن سنجے گپتا کی فلم’مسافر‘ اور آرندم چودھری کی فلم ’روک سکو تو روک لو‘ نے کافی حد تک مایوس کیا۔ دیکھا جائے تو ان فلموں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ماضی کی کامیاب فلموں کو دہرانےکی ناکام کوشش ہے۔ مثال کے طور پر ’مسافر‘ فلم کو نئی طرز پر بنا نے کی کوشش کی گئی اور ’روک سکو تو روک لو‘ فلم ’جو جیتا وہی سکندر‘ کی نقل نظر آئی۔ فلمسازوں کو ان فلموں کی ناکامی سے سبق سیکھتے ہوئے سمجھ لینا چاہیے کہ شائقین اتنا مہنگا ٹکٹ لیکر کچھ نیا اور دلچسپ دیکھنے کی امید میں تھیٹر آتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں آشوتوش گواریکر کی فلم ’سو دیس‘ پر ہیں ۔ اس فلم کے بارے میں اب تک اتنا کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ لوگوں کا شوق، تجسس اور توقعات انکی فلم ’لگان‘ کی کامیابی کی وجہ سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ’لگان‘ کے لیے انکار کرنے کے بعد شاہ رخ خان نے اس بار پہلی ہی پیشکش پر اس فلم میں کام کرنا قبول کر لیا ۔ یوں تو ’لگان‘ ہی کی طرح ’سودیس‘ میں بھی حب الوطنی اور اپنے وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور پیغام ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ’سودیس‘ کا ٹریٹمنٹ مختلف انداز میں کیا گیا ہے ۔
’لگان‘ آزادی سے پہلے اپنے حق اور وقار کی لڑائی کی عکاسی کرتی ہے تو ’سودیس‘ آزادی کے بعد کے ہندوستان کو اور خاص طور پر اس کے دیہات کو اکیسویں صدی میں ترقی کی اونچائی پر پہنچانے کا خواب پروتی ہے ۔ خبر ہے کہ شاہ رخ خان اس فلم سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دیہات کی عورتوں کے لیے کچھ کریں گے ۔بحرحال یہ تو بعد کی بات ہے شاہ رخ بھائی پہلے آپ اس جمعہ کو فلم کی ریلیز کے موقع پر اس کی کامیابی کی دعا کریں ۔ جہاں تک دعاؤں کا تعلق ہے تو شاہ رخ نے اپنی پیاری دوست فرح خان کو ان کی شادی کے موقع پر ڈھیر ساری دعائيں دی ہیں لیکن اس سے پہلے فرح کی مہندی والے دن دو روٹھے دوستوں میں صلح کا منظر بھی دیکھنے کو ملا ۔ خبر ہے کہ جب مہندی کی رات سٹیج پر ایک سنگر نے فلم ’مرڈر‘ کا یہ گانا گایا ’بھیگے ہونٹھ تیرے پیاسا دل میرا‘ تو سلمان خان اپنی جگہ سے اٹھ کر شاہ رخ خان کے پاس گۓ اور انہیں گلے سے لگا لیا اور شاہ رخ خان نے بھی پوری گرمجوشی کا مظاہرہ کیا ۔ جب دونوں الگ ہوئے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔اب اس گانے پر دونوں کےجذباتی ہونےکا کیا مطلب تھا یہ تو وہی جان سکتے ہیں ۔ شاہ رخ اور سلمان کے درمیان تلخیوں کی وجہ شاید ایشوریہ رائے تھیں ۔ اور معاملہ اس وقت زیارہ شدید ہوگيا تھا جب عزیز مرزا کی فلم ’چلتے چلتے‘ کی شوٹنگ کے دوران ایشوریہ سے ملنے کی کوشش میں سلمان نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور ایشوریہ رائے کو فلم سے ہاتھ دھونا پڑا تھا ۔ آہستہ آہستہ سلّو بھائی کے بدلتے روپ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عشق کا بھوت اب ان کے سر سے اتر چکا ہے۔ حال ہی میں ونیتا نندہ کی فلم ’وہائٹ نؤئیز‘ کی نمائش پاکستان میں کارا فلم فیسٹیول میں کامیاب رہی ۔ شو کی ٹکٹیں دیکھتے ہی دیکھتے فروخت ہو گئیں۔ لیکن فلم کی سکرینگ کے دوران پروجکٹر میں آگ لگ گئی اور ائیر کنڈیشن بھی خراب ہو گيا ۔ فلم کو دوبارہ شروع کرنے میں 45 منٹ لگے لیکن کیا مجال کہ کوئی اپنی نشت چھوڑ کر اٹھا ہو۔ لوگوں نے پوری فلم دیکھ کر اسے ہندوستانی فلموں میں ایک نۓ دور کا آغاز کہا ۔ ہندی فلموں میں جسم کی نمائش اور جنسی مناظر کے بارے میں سمیرا ریڈی فرماتی ہیں کہ ہاٹ ہونے کا مطلب کپڑے اتارنا نہیں ہے ، ان کا کہنا ہے کہ پروقار انداز میں سیکس کو اسکرین پر دکھانا کوئی مذاق نہیں۔ جسم کی نمائش کے لۓ بھی ادا کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس طرح کے سین یا رول اس وقت کريں گی جب کہ سین کا کوئی جواز ہو۔ سمیرا جی آپ کی حالیہ فلموں کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہےکہ آپ کو ایسے رول اور کپڑے پہننے کا ٹھوس جواز ملا ہے ۔ جسم کی نمائش کے بارے میں ادا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ بات تو واقعی آپ کو بھی سمجھنی چاہیۓ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||