بالی وڈ اور غیر ملکی فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں اس وقت غیر ملکی فنکاروں کے شامت آئی ہوئی ہے اور پہلا نمبر لگا ہے نگار خان کا۔ ممبئی میں foreign regional registration office کی خصوصی برانچ نے نگار خان کو واپس ان کے وطن ناروے روانہ کر دیا۔ نگار خان کہتی رہیں کہ ان کی شادی ایک بھارتی شہری سے ہو چکی ہے۔ بقول نگار کے انہوں نے گزشتہ ستمبر میں ساحل خان سے شادی کی تھی لیکن جس وقت روتی بلکتی نگار خان کو پولیس پکڑ کر لے جا رہی تھی تب ان کے یہ بھارتی شوہر کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ ہاں بعد میں انہوں نے رپورٹروں سے ایک ملاقات میں اسے ناانصافی کا نام دیا۔ بہرحال اس کیس کے بعد غیر ملکی فنکاروں کے بالی وڈ میں کام کرنے کے معاملے پر ایک بحث سی چھڑ گئی ہے۔
اب ایسے موقع پر بھلا مشہور پلے بیک سنگر ابھیجیت کیسے چپ رہ سکتے تھے جو کافی پہلے سے غیر ملکی فنکاروں کی انڈسٹری میں بقول ان کے گھس بیٹھے ہیں اور مختلف موقعوں پر اپنے چھالے پھوڑتے رہتے ہیں۔ ابھیجیت بھیا نے جھٹ ٹی وی پر آ کر غیر ملکی فنکاروں کی بھاری بھاری کمائی کا رونا رونا شروع کر دیا۔ ابھیجیت انکم ٹیکس والوں کو کوس رہے تھے کہ وہ بھارتی فنکاروں کے گھروں پر تو چھاپے مارتے ہیں لیکن ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کرتے جو ایک ایک گانے کے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ اب سمجھ میں آیا کہ ابھیجیت کا اصلی درد کیا ہے دراصل یہ پاپی پیٹ کا سوال ہے اور بالی وڈ میں گانے والے کچھ ایسے فنکاروں کے موٹے موٹے بینک بیلنس سے تکلیف ہے جو بھارتی نثراد نہیں ہیں ۔ خیر ابھیجیت کو سمجھنا چاہیے کہ فن اور فنکار کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں اور فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو بھی اس بات کا خیال کرناچاہیے کہ وہ ان سرحدوں اور ضابطوں کا لحاظ کریں جو دنیا نے بنائی ہیں۔
خبر ہے کہ گریندر چڈھا جین آسٹن کی’ برائیڈ اینڈ پریجیوڈس‘ کے بعداب چترا بینرجی دیواکرونی کے ناولMistress of spice پر ہاتھ صاف کریں گی، خدا خیر کرے ۔ قیامت کے روز جین آسٹن کے علاوہ پتہ نہیں اور کون کون گریندر کا گریبان پکڑنے والوں میں شامل ہوگا۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ اس مرتبہ بھی ایشوریہ کو ہی بطور ہیروئین لے رہی ہیں۔ بہرحال یہ کہانی خیر سے ایک ہندوستانی عورت کی ہے جو آکلینڈ میں مسالوں کی دوکان چلاتی ہے اور لوگوں کا علاج جادوئی طاقت سے کرتی ہے۔ چلیے ایک بار پھر ہماری نیک تمنائیں گریندر جی کے ساتھ ہیں۔
ایشوریہ کے بارے میں ایک اور تازہ بلکہ کہنا چاہئی کہ ان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ چند روز قبل بھارت کے ایک بڑے ٹی وی چینل نے ووٹنگ کا سلسلہ رکھا جس میں سوال پوچھا گیا تھا کہ اس وقت انڈسٹری میں کونسی ہیروئین نمبر ون کی حقدار ہے۔ ووٹنگ میں یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا ایشوریہ اب بھی نمبر ون کے پائیدان پر ہیں؟ جواب میں ایشوریہ کے حق میں صرف 16 فیصد ووٹ آئے اور 84 فیصد نے رانی مکھرجی کو بالی ووڈ کی اصل ہیروئین کہا یعنی ادکاری نے حسن کو ہرا دیا۔ سنجے لیلا بنسالی کی فلم بلیک میں رانی کی اداکاری کو بہت سراہا گیا ہے۔ بلیک کے بعد اب بالی ووڈ بلیو ہونے والا ہے جی ہاں ڈیڈی مہیش بھٹ اور پوجا بے بی ’بلیو فلم‘ نام کی فلم لیکر آرہے ہیں فلم ’پاپ‘اور ’جسم‘ کے بعد پتہ نہیں اب یہ کیا دکھانے والے ہیں۔ نیہا دھوپیا جولی میں جم کر بولڈ سین کرکے کامیابی کا مزہ چکھنے کے بعد اب شیسے میں نظر آئیں گی میرا مطلب ان کی نئی فلم ’شیشہ‘ سے ہے ۔سنا ہے کہ اس فلم میں وہ جولی سے بھی کچھ زیادہ کر گزری ہیں۔ یوں بھی نیہا جی کا کہنا ہے کہ انہیں سیکس سمبل کہلانے میں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ جو بھی کرتی ہیں وہ فلم کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیہا جی ضرورت کس کی ہوتی ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||