سرائیوو: بوسنیا کے قدیم مسودوں کو سرب فوج کے ہاتھوں تباہی سے بچانے کی کہانی

    • مصنف, محمد حامد زمان
    • عہدہ, محقق

سرائیوو میں سمت کا تعین کرنے کا بندوبست قدرت نے بخوب کر رکھا ہے۔ شہر کے وسط سے گزرتا دریائے ملیاکا کسی بھی کاغذ یا موبائل فون پر موجود نقشے سے زیادہ درست بھی ہے اور وفادار بھی۔ اس پر اعتماد کسی بیٹری اور کسی تہہ شدہ ورق سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

دریا کا بہاؤ شہر کی تاریخ کی طرح، مشرق سے مغرب کی جانب ہے۔ مشرق میں شہر کے قدیم حصے واقع ہیں، اور مغرب میں شہرِ نو کی عمارات۔

جن دنوں میں سرائیوو میں تھا، دریائے ملیاکا اپنے دو کناروں کے درمیان اسی طرح لیٹا ہوا تھا جیسا کہ پطرس کا راوی لاہور میں۔ پانی کی سطح اس قدر کم تھی کہ اگر پائنچے اٹھا کر دریا عبور کرنے کی کوشش کرتے تو شاید ٹخنے بھی گیلے نہ ہوتے۔

گو اس نسبتاً خاموش اور نرم سیرت دریا پر بہت سے پل ہیں، مگر ان میں سے ایک پل تاریخِ عالم میں بالخصوص شہرت کا حامل ہے۔ لاطینی پل کے نام سے جانے جانا والا یہ پل تاریخ کے ایک سیاہ ترین باب کا نقطہ آغاز ہے۔

28 جون 1914 کو اس پل کے برابر، ایک سرب قومیت پسند، گاوریلو پرنکپ نے آسٹریا و ہنگری کی ریاست کے ولی عہد فرانز فرڈینیند کو قتل کر دیا جو پہلی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن گیا۔

لاطینی پل کے شمال میں چند سو فٹ دور سرائیوو کا پرانا بازار اور قدیم کاروباری مرکز، باشچارسیہ ہے۔ اس بازار کا پیشتر حصہ فرہادیہ نامی سڑک پر واقع ہے جو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مختص ہے۔ گاڑیوں کی آمد ورفت کی یہاں پر ممانعت ہے۔

فرہادیہ بھی سرائیوو میں قدیم اور جدت کے امتزاج کی غماز ہے۔ یہ سڑک 16ویں صدی کے ایک مقامی گورنر فرہاد بے کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

اس سڑک پر اگر مزید آگے جائیں تو قدیم چوکور پتھروں سے تراشی کچھ عمارات ملیں گی۔ بازار کی گہماگہمی میں پہلی بار میں بھی ان پر نظر جمائے بغیر گزر گیا۔ عمارات کا یہ مجموعہ پانچ مختلف عمارات پر مشتمل ہے اور تمام عمارات غازی خسرو بیگ سے منسوب ہیں۔

غازی خسرو بیگ صاحب یونان میں پیدا ہوئے تھے، اور اپنے ننھیال کی وساطت سے عالمگیر شہرت کے حامل عثمانی فرمانروا سلیمان اول کے قریبی رشتہ دار تھے۔ یہ 16ویں صدی کے آغاز میں سرائیوو کے گورنر مقرر ہوئے جن کی سرپرستی میں یہ معمولی قصبہ ثقافت، علم اور فن کا ایک غیر معمولی مرکز بن گیا۔

یہ عمارتیں خسرو صاحب نے خود تعمیر کروائیں اور ان کے نظم و نسق کا ایک وسیع خاکہ اپنی وصیت میں چھوڑ گئے۔ عمارتوں کا یہ جھرمٹ ان کے وقف کی بدولت، ان کے انتقال کے 500 برس بیت جانے کے بعد آج بھی مجھ جیسوں کو اپنی طرف ایک غیر معمولی قوت سے کھینچتا ہے۔

ان میں سب سے مشہور غالب غازی خسرو بیگ کے نام سے منسوب وہ مسجد ہے جو 1530میں تعمیر ہوئی۔ یہ مسجد اپنے صحن کی وسعت اور نمازیوں کے گنجائش کے حوالے سے شاید ہی کسی فہرست میں شامل ہو، مگر میرے نزدیک اپنی زیبائش و جمال، تعمیراتی تناسب اور روحانی حلاوت کے اعتبار سے دنیا کی خوبصورت ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ اس کے چست مینار، دلکش خطاطی اور نمازیوں کے استقبال کے لیے حوض میں ایک عالیشان شگفتگی ہے۔

مسجد کے امام کی قرآت کی فصاحت سے مجھے احتمال ہوا کہ محترم غالباً مشرقِ وسطیٰ کے کسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں، مگر جب ان سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ خالصتاً مقامی ہیں، اور کبھی کسی غیر ملکی مدرسے جاننے کا اتفاق نہیں ہوا۔

میرے سوال کے جواب میں وہ بولے ’دروازے کے اس پار، وہ سامنے والا مدرسہ دیکھ رہے ہیں؟‘ میں نے سر گھما کر دیکھا تو ایک عمار ت نظر آئی۔ ’میں وہاں سے پڑھا ہوں‘، امامِ مسجد مسکرا کر بولے۔

یہ غازی خسرو بیگ مدرسہ کہلاتا ہے جس کی پرانی عمارت اب ایک عجائب گھر ہے۔ یہاں پر وہ بے مثل قرآنی مسودے بھی ہیں جو بلغاریہ میں کئی سو برس پہلے مقامی خطاطوں کی فنِ تخلیق سے آراستہ ہیں اور وہ قلمی تحریریں بھی جن کی بدولت غازی خسرو بیگ وقف، 500 برس، اور استعمار کے کئی ادوار کے باوجود آج بھی پائندہ ہے۔

تیسری عمارت مسجد کے عین سامنے لنگر خانہ ہے جہاں اب غازی خسرو بیگ وقف کے دفاتر ہیں۔ چوتھی عمارت اس قدیم بازار کی ہے جو وقف کے نظم و نسق کے لیے سرمایہ مہیا کرتا تھا۔ یہ بازار کچھ زیادہ وسیع و عریض نہیں مگر تہران کے بازارِ بزرگ، مراکش کے شہر فاس کے مدینہ اور شام کے شہر حلب کے اسواق کی طرح کھلی راہداری اور مزین چھت پر مشتمل یہ بازار آج بھی قائم اور با رونق ہے۔

مسجد، لنگر خانہ، سوق اور مدرسہ سے منسلک ایک اور عمارت ہے جو 500 سال تو درکنار، 50 برس پرانی بھی نہیں۔ یہ عمارت لائبریری کی ہے۔

اگر آپ اس مقام سے 1992 میں گزرتے تو یہاں کچھ بھی نہ پاتے۔ سرائیوو شہر میں اس وقت قدیم مسودات تین مقامات پر محفوظ تھے۔ ان میں سے ایک شہر کے وسط میں موجود قومی لائبریری تھی، ثانیاً اورئینٹل انسٹی ٹیوٹ، اور ثالثاً غازی خسرو بیگ لائبریری جو دریائے ملیکا کی دوسری جانب مسجدِ سلطان کے پہلو میں تھی۔

ان تمام مقامات کے پاس اپنے اپنے خزائنِ علم و ہنر تھے، مگر غازی خسرو بیگ لائبریری میں سب سے قدیم اور بیش قیمت مسودے تھے جن میں امام غزالی کی شہرہ آفاق تصنیف احیاء علوم الدین اور سرائیوو کی پہلی لکھی گئی قلمی تاریخ بھی شامل تھے۔

بوسنیا میں جنگ چھڑی تو سرائیوو کا ایسا حصار ہوا جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اس حصار نے جہاں انسانی وحشت اور ظلم کے تاریک ترین ابواب تخلیق کیے وہیں دلیری، علم دوستی اور محبت کی داستانیں بھی تخلیق کیں۔ یہ لائبریری اندھیرے اور اجالے کی اسی کشمکش کا نتیجہ ہے۔

جب بوسنیا نے سابق یوگوسلاویہ کی ریاست چھوڑ کر آزادی کا اعلان کیا تو ڈاکٹر مصطفٰی یحیتش غازی خسرو بیگ لائبریری کے ایک نوجوان مہتمم اعلٰی تھے اور پانچ سال سے اس عہدے پر فائز تھے۔ جس زمانے میں کمیونسٹ نظام میں عمر اور بزرگی کے ساتھ ہی عمومی طور پر ترقی ملا کرتی تھی۔

33 سالہ نوجوان کا ایک بڑے ادارے کی صدارت پر معمور کیا جانا ایک غیر معمولی امر تھا۔ مگر مصطفیٰ نے اپنی قابلیت، ذہانت اور علم دوستی سے بہت سوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ مصطفٰی نے غازی خسرو بیگ مدرسے سے بھی تعلیم حاصل کی تھی اور سراییوو یونیورسٹی سے بھی۔ بوسنیائی زبان کے علاوہ عربی اور ترکی میں بھی مہارت رکھتے تھے اور قدیم مسودات پر کتب بھی تصنیف چکے تھے۔

1992 کے موسمِ بہار میں سرائیوو میں حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔ جو ملک سے باہر جا سکتا تھا اس نے نقل مکانی کی راہ لی۔ مصطفٰی بھی اگر چاہتے تو شاید یورپ کے کسی پر امن شہر میں منتقل ہو جاتے۔ مگر ان کے پیارے صرف ان کے اہلِ خانہ نہ تھے، بلکہ وہ ہزاروں مسودات بھی تھے، جن سے ان کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔

مصطفٰی خود کہتے ہیں کہ ان مسودوں کو چھوڑ جانا ایسے ہی تھا جیسے کوئی اپنی جان بچا لے مگر اپنے بچوں کو جلتے گھر میں چھوڑ جائے۔

اپریل 1992 میں سرب حصار نے سرائیوو کو مفلوج کردیا۔ اشیاء خوردونوش کی قلت روزمرہ کا معمول بن گئی۔ ایسے میں 18مئی 1992 کو سرب افواج نے اوریئنٹل انسٹی ٹیوٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا۔ بمباری سے عمارت اور عمارت میں موجود بوسنیائی تاریخ کا لازوال ورثہ راکھ ہو گیا۔

مصطفٰی کو معلوم تھا کہ غازی خسرو بیگ لائبریری کی باری آنے کو ہے۔ انھوں نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو جمع کیا اور سب نے مل کر مسودات کو بچانے کا کام شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں ہر ایک مسودے کو، جن کی کل تعداد دس ہزار سے زائد تھی، لائبریری کی بالائی منزل سے پہلی منزل منتقل کیا گیا۔

مگر کچھ ہی عرصے بعد مصطفٰی کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ سرب جارحیت اس عمارت کو مکمل طور پر زمیں بوس کر دے گی۔ اگر مصطفٰی کے ذہن میں کوئی شک تھا بھی تو وہ 25 اگست 1992 کی شام دور ہو گیا۔

منگل، 25 اگست 1992۔ یہ دن سرائیوو کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ غروبِ آفتاب کو ابھی صرف گھنٹہ بھر گزرا تھا کہ سراییوو کو محصور کی ہوئی سرب افواج نے بھاری اسلحے سے بوسنیا کی قومی لائبریری پر فاسفورس بموں سے بمباری شروع کر دی۔

لائبریری میں فوراً آگ لگ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرائیوو کے پہاڑوں پر بندوقیں تانے سرب فوجیوں نے مشین گنوں سے لائبریری کے ارد گرد گولیاں برسانا شروع کر دیں تاکہ آگ بجھانے والا عملہ آگے نہ بڑھ سکے۔

عینی شاہدین اور غیر ملکی صحافیوں کے مطابق جلتی کتب سے نکلنے والا دھواں اس قدر گہرا تھا کہ دور دور تک آسمان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آگ، تپش اور سانس کو منتشر کر دینے والے دھوئیں کے باوجود اہلیانِ سراجیوو باہر نکلے اور انھوں نے ایک انسانی زنجیر بنائی تاکہ کتابوں کو بچایا جا سکے۔

کچھ لوگ شعلوں میں گھری لائبریری کے اندر گئے۔ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے اور اس طرح کتابیں منتقل ہونا شروع ہوئیں۔ ان میں مسلمان بھی تھے اور عیسائی بھی، کیتھولک بھی اور آرتھوڈاکس بھی۔ وہ لوگ بھی جو اپنے آپ کو بوسنیائی کہتے تھے، اور وہ سرب بھی جن کے دلوں میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔

مگر یہ سلسلہ کچھ ہی دیر چل سکا۔ سرب افواج کی بمباری اتنی شدید تھی کہ قومی لائبریری کے وہ ستون جو کبھی کتابوں کی محفل میں ان کے روبرو ہوا کرتے تھے، اب بوسیدہ ہو چکے تھے۔ یکے بعد دیگرے یہ ستون اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ منگل 25 اگست 1992 کو بوسنیا کی قومی لائبریری اور اس میں موجود تقریباً زیادہ تر کتابیں، مسودے، نوادرات جل کر تباہ ہو گئے۔

آگ بجھانے والے عملے نے بلند شعلوں اور گرتی عمارت کے خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے، آخری لمحے تک پوری کوشش کی کہ شاید ایک کتاب اور بچ جائے۔ جب ایک بین الاقوامی جریدے سے منسلک صحافی نے اس عملے کے سربراہ سے اس کا سبب پوچھا تو جواب ملا: ’میں کیسے رک سکتا تھا؟ یہ لوگ میرے تن کا ایک حصہ جلا رہے تھے۔‘

1992 میں اگست کے آخر تک سرائیوو کی تین قدیم لائبریریوں میں سے دو ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی تھیں۔ مصطفٰی نے عہد کیا کہ وہ تیسری کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے اپنے قریب ترین ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ سب لوگ متفق تھے کہ مسودات کو ہر قیمت پر بچانا ہے مگر مسودوں کو منتقل کرنا آسان کام نہیں تھا۔

سرائیوو میں چند ہی محفوظ مقامات تھے اور ان میں سے ایک بھی لائبریری کے قریب نہ تھا۔ شہر کی تمام ٹرانسپورٹ تباہ ہو چکی تھی۔ یہ وہ دن تھے کہ جب شہر کی بڑی بڑی عمارات پر بینر لگے ہوتے تھے جن پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہوتا تھا: ’Pazite, Snajper‘ یعنی خبردار، سنائپر! (سنائپر اس نشانہ باز کو کہتے ہیں جو بندوق تانے اپنے دشمن کی تاک میں چھپ کر اس کا نشانہ لینے کو تیار بیٹھا ہو)۔

مصطفٰی کے گھر اور لائبریری جانے کا راستہ ایک قبرستان سے گزرتا تھا۔ گو باقی راستوں کی نسبت یہ راستہ مختصر بھی تھا اور قدرے محفوط بھی، مگر یہ بھی، باقی شہر کی طرح سرب افواج اور سنائپروں کی زد میں تھا۔

اس قبرستان میں مسلمان قبور بھی تھیں اور عیسائی مراقد بھی۔ مسلمان قبروں کے کتبے پتلے اور عیسائی قبور کے کتبے چوڑے تھے۔ مصطفٰی اس راستے سے ہر روز گزرتے تھے۔ جب مسلمان حصے سے گزرتے تو اسی سرعت کا مظاہرہ کرتے جو ہر جان بچانے والا شخص کرتا اور جب عیسائی حصے میں پہنچتے تو ان چوڑے کتبوں کی آڑ میں گھڑی دو گھڑی سانس لیتے کہ سنگِ مرمر کے ان مستطیل کتبوں کو گولیاں نہیں چیر سکتی تھیں۔

ان تمام خطرات کے باوجود مصطفٰی کی قیادت میں یہ گروہ ہر روز لائبریری میں ملتا، مسودات کو احتیاط سے ڈبوں کے اندر رکھتا اور ہر شخص ایک ڈبہ اٹھا کر بندوقوں سے لیس نشانہ باز سرب فوجیوں سے آنکھ مچولی کھیلتا ایک محفوظ مقام تک لے جانے کا سفر شروع کرتا۔

ان دنوں شہر میں بے چینی بھی تھی اور بھوک بھی۔ صاف پانی اور بنیادی اشیاء خورد ونوش کی قلت تھی۔ایک دن مصطفٰی اور ان کے ساتھی، ہاتھوں میں ڈبے اٹھائے ایک محفوظ مقام کی طرف، سرب گولیوں سے بچتے، دیوار کے برابر چل رہے تھے تو اچانک ان کے سامنے 16-17 سالہ پانچ لڑکوں کا ایک گروہ آ گیا۔

جینز میں ملبوس لڑکا، جو غالباً اس گروہ کا سردار تھا، غصے سے بولا ’رکو۔‘ مصطفیٰ کے قدم زمین پر جم گئے۔ ’کہاں جا رہے ہو؟‘ لڑکے کی آواز میں بے رحمی سی تھی۔ سلگتی سگریٹ کا ایک کش لگا کر اس نے بے نیازی سے سگریٹ سڑک پر پھینکا اور مصطفیٰ کو گھور کر سوال کیا۔

مصطفیٰ اور ان کے پیچھے ان کے چار ساتھی، جو دیوار کے ساتھ ایک لکیر بنا کر چل رہے تھے، اب اپنی جگہوں پر منجمد تھے۔ یہ سب بدستور خاموش رہے۔ مصطفٰی اور ان کے ساتھیوں کی نگاہ نوجوان لڑکے اور اس کے ساتھ کے گروہ پر نہ تھی۔ کن انکھیوں سے وہ ان عمارات کی طرف دیکھ رہے تھے کہ جن کی شکستہ کھڑکیوں کے پیچھے نہ جانے کون بندوق تانے، اپنی دوربین سے نشانہ لے رہا ہو۔

نوجوان لڑکے نے غرا کر کہا: ’ان ڈبوں میں کیا ہے؟‘

مصطفیٰ اور ساتھی بدستور خاموش رہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں گتے کا ایک بند ڈبہ تھا۔ اس ڈبے پر کیلوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ان کی ساخت سے ظاہر تھا کہ یہ ڈبے کیلوں کو منڈی اور بازار منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایک کڑوی مسکراہٹ کے ساتھ لڑکے نے کہا ’تم لوگ تازہ پھلوں کی لذتوں سے اپنے گھروں میں عیاشی کر رہے ہو، اور ہم کو روٹی کا باسی ٹکڑا بھی میسر نہیں۔‘ لڑکے نے مصطفیٰ کے ہاتھ میں موجود بکس چھیننے کی کوشش کی۔ مصطفیٰ نے کچھ مزاحمت کی، مگر لڑکوں کا گروہ زیادہ طاقتور تھا۔

مصطفیٰ اس کھلی سڑک پر، جس کے ارد گرد کی عمارتیں سرب سنائپروں کے لیے بہترین پناہ گاہیں تھیں، مزید ایک لمحے کے لیے رکنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ لڑکے نے جب ڈبہ دوبارہ کھینچا، تو مصطفیٰ نے اس بارخاموشی سے اسے جانے دیا۔

لڑکے نے ڈبہ کھولا۔ اس میں تازہ کیلے تو درکنار کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ کتابیں، اور وہ بھی پرانی اور بوسیدہ۔گروہ کے سردار نے مصطفٰی کی طرف بے رحمی سے دیکھا اور کتابوں کا ڈبہ سڑک پر پھینک دیا۔

مصطفٰی اور ان کے ساتھی لمحے بھر کے لیے ایک اور کشمکش میں مبتلا ہوئے۔ سڑک کے عین درمیان جانا سرب سنائپروں کے دام میں آنے کے مترادف تھا۔ مگر کتابوں کو چھوڑا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ساتھیوں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، اور پھر بھاگ کر کتابوں کو سمیٹا۔ دور سے کچھ گولیوں کی آوازیں بھی آئیں، مگر اس بار بھی مصطفٰی اور ان کے ساتھی محفوظ رہے۔

سب سے بیش قیمت مسودے، جن میں امام غزالی کی خود نوشت تصنیفات بھی شامل تھیں، بینک کے محفوظ ترین والٹ میں رکھی گئیں، مگر بینک میں اتنی جگہ نہ تھی کہ دس ہزار مسودوں کو سنبھالا جا سکتا۔

مزید برآں اگر سرب افواج کو معلوم ہو جاتا کہ بنک میں سارے مسودے موجود ہیں تو وہ بنک کا وہی حشر کرتے جو انھوں نے قومی لائبریری کا کیا تھا۔ مصطفی اور ان کے ساتھیوں نے مسودوں کو ایک فائر سٹیشن میں رکھا مگر یہ مقام بھی عارضی تھا۔

جیسے جیسے حالات بدلتے گئے، اور کچھ نئی جگہیں محفوظ ہوئیں، اور کچھ پرانے مقامات پر حفاظت غیر یقینی ہوئی، مصطفٰی اور ان کے ساتھی مسودوں کو نئے مقامات پر منتقل کرتے گئے۔ دورانِ جنگ تمام مسودات کو آٹھ بار منتقل کیا گیا۔

یہ جانتے ہوئے کہ ان تمام انتظامات کے باوجود، اس بات کا قوی امکان تھا کہ شاید ایک دن کسی گولی اور بارود کی زد میں آ کر یہ سب کچھ ضائع ہو جائے، مصطفٰی نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔

انھوں نے فیصلہ کیا کہ تمام مسودات کی مائیکرو فلم بنا دی جائے، کہ اگر خدا نخواستہ ان مسودات کی اصل باقی نہ بھی رہی، تو بھی آئندہ نسلیں اس علم سے محروم نہیں ہو جائیں گی۔

عام دنوں میں بھی اس منصوبے کے لیے جن وسائل کی ضرورت تھی، وہ بوسنیا میں دستیاب نہ تھے۔ محصور شہر جس میں گولیوں کی گھن گرج ایک معمول تھی، جہاں پانی اور بجلی کی فروانی ایک خواب تھی، وہاں پر یہ سوچنا بھی کہ ان مسودوں کی مائیکرو فلم تیار ہو سکے گی، جنوں کی اگلی منازل سے بھی کچھ فزوں تر بات تھی۔

مگر مصطفٰی ڈٹے رہے۔ ایک دوست، جو مائیکرو فلم کے کام سے واقف تھے، اس سے دریافت کیا : ’سارے مسودوں کی فلم بنانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟‘

’20 سے 25 سال‘، جواب آیا۔

مصطفٰی کے ماتھے پر شکن نہ آئی۔ کچھ بیرونِ ملک احباب سے رابطہ کیا گیا۔ بالآخر ملائیشیا کے اسلامی تحقیقاتی ادارے نے مشینیں بھیجنے کی حامی بھری۔ یہ مشینیں راتوں رات ایک خفیہ سرنگ کے ذریعے سرائیوو لائی گئیں۔ چونکہ شہر میں بجلی نہیں تھی، اس لیے پرانی موٹر گاڑیوں کی بیٹری سے ان مشینوں کو چلایا گیا، اور جو کچھ تھوڑا بہت پانی کہیں سے میسر آتا تھا، اسی کو بچا بچا کر کام چلایا گیا۔

مصطفٰی کے وہ دوست جو مائیکرو فلم کا کام جانتے تھے، دن رات مسودوں کی مائیکرو فلم بنانے میں جت گئے۔ کبھی کسی فائر سٹیشن میں، اور کبھی کسی تہہ خانے میں اک شمع کے سہارے، انھوں نے مسودوں کو مائیکرو فلم میں محفوظ کرنا شروع کیا۔جب تک جنگ چلتی رہی، مائیکروفلمنگ کا خفیہ کام بھی جاری رہا۔

1996 میں جنگ ختم ہوئی تو یہ امر کسی معجزے سے کم نہ تھا کہ ایک بھی کتاب کو ذرا برابر نقصان نہیں پہنچا تھا۔

ساری کتابوں کو اکٹھا کر کے مصطفٰی اور ان کے ساتھی جب غازی خسرو بیگ کی پرانی لائبریری لے کر آئے تو وہاں پر عمارت تو موجود تھی، مگر تمام شیلف غائب تھے۔

شدید سردی کے دنوں میں، بجلی، گیس اور تیل کی قلت کے نتیجے میں اہلیانِ سرائیوو کو جو میسر آیا انھوں نے اسی سے اپنے چولہوں اور اپنے گھر کو گرم کیا۔

مصطفٰی اور ان کے ساتھیوں نے کتابوں کو احتیاط سے زمین پر سجایا مگر اس کے ساتھ ساتھ ہی وہ لائبریری کے لئے ایک نئی، جدید اور محفوظ عمارت کی تعمیر کے لیے کوشاں ہو گئے۔ ایک نئی عمارت کی تعمیر بوسنیا کی جنگ کے آلام سے شکستہ حکومت کے بس کی بات نہیں تھی۔

نئی عمارت کے خواب کی تکمیل کے لیے مصطفی کو کبھی لندن اور کبھی مشرقِ وسطی، کبھی کسی سرکاری دفتر اور کبھی کسی رئیس کی رہائش گاہ کے چکر لگانے پڑے۔ بالآخر یہ کوشش رنگ لائی۔

قطر کی حکومت نے غازی خسرو بیگ مدرسے کے برابر کی زمین پر ایک جدید، خوبصورت، نئی ٹیکنالوجی سے لیس اور محفوظ عمارت بنانے کی حامی بھر لی جس کا افتتاح 2010 میں ہوا۔

یہی وہ جدید عمارت ہے، جو اس احاطے کی 500 سالہ عمارتوں کی تاریخ سے مقابلہ تو نہیں کر سکتی، مگر اس کی رگوں میں محبت اور دلیری کے قدیم اور اولین جذبے کا لہو دوڑ رہا ہے۔

تین منزلہ یہ عمارت لائبریری بھی ہے اور میوزیم بھی۔ یہاں ایک چھوٹا سا کیفے بھی ہے اور ایک لیکچر ہال بھی۔ یہ سیاحوں کے لیے ایک درخشندہ مقامِ آگہی ہے اور محققین کے لیے ایک جیتا جاگتا مرکزِ علم۔

مائیکرو فلم بنانے کی جو کاوش بلقان جنگ کے تاریک ترین دنوں میں شروع ہوئی تھی، وہ 2013 میں مکمل ہوئی۔ اس عمارت کے تمام مسودات اب بلا معاوضہ مائیکرو فلم پر دستیاب ہیں۔ وقت کے ساتھ مصطفی اور ان کے احباب کی داستان علم کے عشاق تک پہنچی۔ کچھ نے مقالات لکھے اور بی بی سی اور الجزیرہ نے ان کی غیر معمولی کہانی پر فلمیں بھی بنائیں۔

اس عمارت میں آ کر اس بات کا شدت سے احساس ہو ا کہ محافظ صرف وہ نہیں ہوتے جو وردی پہن کر سرحدوں کی حفاظت کریں۔

جب تک سرائیوو میں رہا اور ان گلی کوچوں سے گزرتا رہا، جہاں سے مصطفٰی اور ان کے ساتھی کتابوں کے ڈبے تھامے سنائپر کی گولیوں سے جاں بچاتے تھے، میں اسی تجسس میں رہا کہ خدارا، یہ محافظ کس مٹی سے تخلیق پاتے ہیں؟

بہت کوشش کے بعد، کچھ احباب کی وساطت سے ڈاکٹر مصطفیٰ یحیتش کا نمبر ملا۔ گو میں اس وقت تک سرائیوو سے کوچ کر چکا تھا، مگر میں ڈاکٹر صاحب کی صحبت سے، بھلے وہ ویڈیو کال پر ہی کیوں نہ ہو، کسی صورت بھی محروم نہیں ہونا چاہتا تھا۔

ڈاکٹر صاحب انتہائی شفقت سے ملے۔ میرے ہر غیر ضروری سوال کا جواب دیا۔ جنگ کے مشکل دنوں کی باریکی سے تصویر کشی کی۔ یہ داستان بھی سنائی کہ جنگ میں منہدم ہونے والے کچھ گھروں کی بنیادوں سے صدیوں پرانی دستاویزات اور مسودے نکلے۔ مسکرا کر بولے کہ جنگ سے ہمارے مسودے نہ صرف ضائع نہ ہوئے، بلکہ ان کی تعداد میں اچھا خاصا اضافہ ہو گیا۔

ڈاکٹر صاحب نے میرا رابطہ اپنے ایک اور ساتھی سے کرایا جن کا اسمِ گرامی عباس لٹمبا ہے۔ عباس کا اصل تعلق کانگو سے ہے۔ علم کی تلاش میں مصر اور سوڈان سے ہوتے ہوئے سرائیوو پہنچے۔ 1992 میں وہ غازی خسرو بیگ لائبریری میں رات کو گارڈ کی ڈیوٹی دیا کرتے تھے۔

جب جنگ چھڑی تو عباس مصطفٰی کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ گو ڈاکٹر مصطفی اب ریٹائر ہو گئے ہیں، مگر عباس آج بھی لائبریری سے منسلک ہیں۔

عباس صاحب سے میں نے بصد احترام عرض کیا کہ: ’عباس صاحب آپ تو اس علاقے کے باسی بھی نہیں، پھر آپ کو کیا سوجھی کہ جب سب اپنی جان بچا رہے تھے، تو آپ ایک دو بار نہیں، سینکڑوں بار نہتے ہاتھ ،صرف گزرے وقتوں میں تحریر کردہ سطور کو بچانے کی غرض سے، بندوق تانے قاتلوں کی عین سامنے سے گزرتے رہے؟‘

اس لمبے سوال کا عباس نے بلا تامل جواب دیا: ’زندگی تو محبت سے عبارت ہے۔ اگر معشوق باقی نہ رہے تو ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟‘