لندن کا غریب الوطن فقیر بے نوا، ’بڈھا نصرانی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں اپریل کے اس اختتامی شام مجھے میرا دوست اسلم خواجہ یاد آیا جو ایک دن کراچی کے گورا قبرستان میں گھومتا گھامتا ایک قبر کے کتبے پر رک گیا تھا جس پر، بقول خواجہ، تحریر تھا: ’زندگی کے خوبصورت گال پر موت ایک کالا تِل ہے۔‘ لیکن لندن کی اس شام میں اور میرے دوست مظہر زیدی اور محمد حنیف جس قبرستان کو گئے تھے وہاں موت اپنی تمام خوبصورتیوں اور رعنائیوں کیساتھ سورہی ہے اور وہ مقام ہے ، ’ہائیگیٹ سیمیٹری۔‘ لندن کے اس مہنگے قبرستان میں نظام سرمائے کا مخالف پیغمبر کارل مارکس، اسکی بیوی جینی اور بیٹی دفن ہیں۔
مارکس، یہ اب ایک متروک اور مفلوج نظام کا عظیم فلسفہ دان، سپر ہیومن بینگ، لندن کا غریب الوطن فقیر بے نوا، ’بڈھا نصرانی‘۔ اگرچہ اس قبرستان میں اور بھی بہت سی شخصیات دفن ہیں لیکن اب یہ قبرستان بہت ہی دنوں سے کارل مارکس کی وجہ سے زیادہ مشہور ہے جسے علاقے کی معمر خواتین چلاتی ہیں۔ مارکس کی قبر پر حاضری بھرنے والوں میں اسکے ہم وطن جرمن سیاح بھی تھے۔ اپریل کی آخری شام، برستی ہلکی بارش میں ہائیگيٹ سیمیٹری کی دیوار کے اس پار پارک کے سبزہ زار پر ایک لڑکی کے کیساتھہ بیٹھے ہوئے لڑکے کے ہاتھوں بجتی ہوئی افریقی ڈھول کی آواز، ہائیگیٹ سیمیٹری میں بھانت بھانت کی انجانی بولیوں میں گیت گاتے ہوئے انجانے دیسی اور پردیسی پرندے۔ کارل مارکس کے بازو والی قبروں کے بلاک مین جنگلی پھولوں کے پہلو میں دفن جلاوطن عراقی کیمونسٹ، کرد شاعر اور ایرانی طنز نگار سمیت بہت سے شاعر ، موسیفار، مصوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی قبریں بھی ہیں۔ اور اسی طرح یہ قبرستان لندن کے سیاسی جلاوطنوں اور پردیسی عاشقوں کی آخری آماجگاہ بھی ٹہرا۔
یہاں ناول نگار جارج ایلیٹ، برطانوی جگر صحافی اور سیاستدان پال فوٹ (جسکی قبر پر کوئی ’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے،‘ یا ’جسم و جاں کی قید سے پہلے‘ ٹائپ کتبہ تحریر تھا) اور عراقی سوشلسٹ ورکرز پارٹی کے بانی منصور بھی دفن ہیں۔ سائنسدان پال وولف کی قبر کے کتبے پر لکھا تھا: ’میں یہ کبھی نہیں مانوں گا کہ خدا دنیا سے کھیل کھیل رہا ہے۔‘ مارکس کی قبر پر اسکے سر اور کولہوں کے مجسمے کے نیچے وہی اسکے دو قول تحریر تھے: ’دنیا کے مزدورو! متحد ہو جاؤ،‘ کسی نے ازراہ مذاق کہا ’لیکن سندھ میں نہیں۔‘ اور یہ بھی تحریر تھا: ’دنیا کے مفکروں نے دنیا کی اپنے اپنے خیال سے تعریف و توضیع کی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسے تبدیل کیا جائے۔‘ کسی نے اس فقیر صفت پیغمبر نما فلسفی کو یہاں بھی نہیں بخشا اور اس کی قبر پر کچھ عرصہ قبل کہتے ہیں بم پھوڑ دیا تھا۔ خراب خبر یہاں کے مقبروں میں جوڑوں کا سیکس کرنا نہیں۔ کابل کی ایک مسلمان ’کامریڈ‘ صفورا سکندری کی قبر پر کلمہ لکھا تھا- بڑی بڑی صلیبں اور یسوع اور’فرشتوں‘ کے مجسمے سجے تھے۔ قبرستان کی ایک سڑک کو ’ایجیپشن ایونیو‘ اور ایک دوسری کو ’لبنانی ایونیو‘ کہتے ہیں بقول شخصے موت کے وکٹوریائی تصور اور گاتھک طرز تعیمر کا حسین سنگم یہ قبرستان ہی ہے۔ ایک بچے کی قبر پر چھوٹی سے لالٹین کا ماڈل، ننھے منھے پھول رکھے تھے۔ یعنی کہ خدا کا دنیا سے کھیلے جانیوالا کھیل جاری تھا۔ ایک جوان لڑکی نے نیلے جنگلی پھول توڑے اور ان سے گلدستہ بنایا۔ تو پس پیارے پڑھنے والو! ابِکے میرا لندن کا سفر تمام ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||