وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
| | اٹھائیس اپریل: ’بھنگی اور چھنال‘ |  |
گٹر کھولنے والا جمعدار جسے ہم بھنگی ، چوڑا، مصلی کہتے ہیں۔ یہی بھنگی، چوڑا اور مصلی زہریلی گیسوں سے بچنے والے ماسک، لمبے بوٹوں اور دستانوں کے بغیر منہ پر ڈھاٹا باندھ کر روزانہ لمبے بانس کے ساتھ گٹر لائن کھولتا ہے تاکہ ہماری گلیاں اور سڑکیں ہماری ہی ابلی ہوئی غلاظت سے پاک رہیں اور ہم ان سڑکوں اور گلیوں پر سے ناک بند کئے بغیر اکڑتے ہوئے گذر سکیں۔آپ کو صرف ایک گٹر کھولنے کا کتنا معاوضہ چاہئے؟ جو بھی رقم آپ کے زہن میں آئے بس اتنا ہی اس گٹر میں روزانہ اترنے والے کا بھی معاوضہ ہونا چاہئے۔ اور اسی تناسب سے اسکی عزت بھی کرنی چاہئے۔ دوکاندار ملاوٹ کرسکتا ہے، جعلی شے فروخت کرسکتا ہے، کم تول سکتا ہے۔ کروڑ پتی شوگر مل مالک ذخیرہ اندوزی کرکے مزید کئی کروڑ بنا کر بھی معزز رہ سکتا ہے۔ سیاستداں جھوٹے وعدے کر کے بھی ہر بار جیت سکتا ہے۔ حکمراں بھاری کمیشن کھانے کے باوجود دلال کے لیبل سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ صنعت کار اور زمیندار اربوں کے قومی قرضے ہڑپ کرسکتا ہے۔ ٹریول ایجنٹ جعلی ویزے لگوا کر بھی دھڑلے سے کاروبار جاری رکھ سکتا ہے۔ لیکن طوائف کو ایسی کوئی رعائیت حاصل نہیں۔ وہ سماجی گٹر کی گندگی کی نکاسی کی پائپ لائن ہونے کے باوجود نہ تو اپنی پروڈکٹ میں کوئی ملاوٹ کرسکتی ہے، نہ ذخیرہ اندوزی، نہ جعلی پروڈکٹ فروخت کرسکتی ہے، نہ معاوضہ لے کر اپنی خدمات میں ڈنڈی مارسکتی ہے، نہ گاہک سے رقم لے کر کل کے وعدے پر ادھار کرسکتی ہے۔ اسے اپنے کاروبار میں رہنے کے لئے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل ایمانداری برتنا ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی کمائی حرام اور بدکرداری کی کمائی ہے۔ وہ رنڈی، چھنال، گشتی، دو ٹکے کی عورت، حرامزادی اور گندی نالی کا کیڑا جیسے خطابات سے سرفراز ہے۔ تو کیا ایسی صورتحال میں گٹر کھولنے والے جمعدار کو سینیٹری ورکر اور طوائف کو کمرشل سیکس ورکر کہنے سے ان کے دن پھر جائیں گے۔ فرض کرلو مل گئی سب کائنات اجر کیا سارا مجھے مل جائے گا۔ | | ’آپ کیا کہتے ہیں‘ |  |
فیصل بھگت، پاکستان دونوں کا اصل مسئلہ غربت ہے۔ ایک چند پیسوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے اور دوسریچند روپے کے لیے خود کو بیچتی ہے۔ اور غریب کی عزت کر کے کیوں ہم اسے سر پر چرھائیں؟ وہ کونسا انسان ہے؟مرزا ریاض بیگ، حیدرآباد یار وہ بھی انسان ہیں۔ اگر ان کو ذلت سے نہیں نکال سکتے تو اچھے نام سے پکارنے میں کیا ہرج ہے؟ فیض نے کہا ہے : ’تم بھی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام‘ صدف عالم، کراچی دل کو چھو لینے والی تحریر ہے۔ ہمارے یہاں منفی سود خور ذخیرہ اندوز بے ایمان سیاست دانوں تک کو سر پر بٹھایا جاتا ہے، تاہم ان لوگوں کے ساتھ برا سلوک رکھا جاتا ہے۔ محفوظ رحمان، اسلام آباد ہم سب اپنے اندر کا گند صاف کر دیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ امجد عزیز ملک، جہلم کیا ایسا کالم لکھنے سے اقدار میں آپ کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں نہیں۔ تو پھر صرف نظریہ ہی رہا اور نظریات کی آج کی دنیا میں سب سے کم قیمت ہے۔ چاہے اس کے لیے انسان طوائف کی طرح اپنا جسم بیچے۔۔۔ آصف قریشی، سعودی عرب پروفیشن کی بنا پر کسی کی عزت یا تذلیل ٹھیک نہیں ہے۔ ایک سویپر کو بھی اتنی ہی عزت ملنی چاہیے جو ایک انسان ہونے کے نطاے اس کا حق ہے۔ لیکن سیکس ورکر کے بارے میں بات ’مکس اپ‘ کیوں ہو گئیآ جس کے کام سے اللہ نے منا فرمایا ہے اور بتا دیا ہے کہ اس میں ذلت ہے تو پھر ہم اس میں عزت کیسے پا سکتے ہیں؟ آپ ہی بتائیں۔۔۔ طارق شیخ، دبئی بھائی جان آپ نے لکھا تو بہت اچھا ہے لیکن میں آپ کو اتنا بتا دوں کہ طوائفوں کا تو مجھ کو اتنا تجربہ نہیں ہے، لیکن بھنگی بھی چیٹِنگ کرتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں ہر ہفتے گٹر بند ہو جاتا ہے اور وہ گٹر کون بند کرتا ہے؟ وہ بھنگی ہی کرتا ہے۔ کئی دفعہ تو بھنگی نے مار بھی کھائی ہے۔ وہ صرف اس لیے کرتا ہے کیونکہ اسے کھولنے کےتین سو روپے مانگتا ہے۔ محمد طاہر جمال، قطر وسعت بھائی، آپ بھی سادت حسن منٹو بنتے جا رہے ہیں۔ منٹو کے ایک افسانے پر بنی فلم یاد آگئی’ایک گناہ اور سہی‘، جس میں مامی کہتی ہے ’ہم گٹر ہیں۔ اگر ہم جیسے گٹر نہ ہوتے تو آپ عزت دار لوگوں کے گھر کی گندگی کہاں جاتی؟‘ بہت اچھے وسعت بھائی۔ پاشا اظہر، سعودی عرب بھائی آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ طوائف جیسا نیک کام کرنا اچھا ہے؟ اعجاز احمد، کینیڈا وسعت اللہ خان صاحب، آپ نے بھنگی کی جان جوکھم والے کام اور پیشہ کرنے والی کے حالات تو بیان کر دیے لیکن حل نہیں لکھا۔ ذرا اس پر بھی قلم کاری کریں۔ یعنی ہمارے ماحول کو صاف کرنے والوں کو جدید مشینیں دیں اور ہمارے دماغ کا گند صاف کرنے والیوں کو قانونی اور محفوظ بازار دیں تاکہ چھوٹے بچے، لڑکے یا لڑکیاں ذنا کر کے قتل ہونے سے بچ سکیں۔ جیسے جنرل ایوب خان کے دور میں تھا۔ کم از کم لوگ اپنا منہ کالا کر کے کسی معصوم کا قتل نہیں کرتے تھے۔ اب پلیز اسے اسلامی مسئلہ بن کر نہیں بلکہ انسانی مسئلہ سمجھ کر حل کریں۔ آصف اچکزئی،چمن آپ کا یہ کارا بلاگ صحیح معنی میں ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کا یہ بلاگ پڑھ کر احساس ہوتا ہے ہم سے تو وہ ’بھنگی‘ اور ’طوائف‘ ہی اچھے جو کم از کم اپنے کام میں ایمان داری تو کرتے ہیں۔ آپ کو اللہ اور بھی لمبی زندگی دے۔ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: وسعت بھائی اس قدر کھرا بلاگ شاید آپ ہی لکھ سکتے ہیں۔ اس طرح کے باغی اور بقول لوگوں کے فضول خیالات، ذھن میں تو بہت دفعہ آئے لیکن صرف ذھن تک ہی محدود رہے۔ گٹر کھولنے والا بھنگی ہو یا وہ بدنام زمانہ عورت، جن کے پاس سے ہم ناک منہ بند کر کے گزر جاتے ہیں، کیا میں انہیں انمول کہہ سکتی ہوں۔ وسعت بھائی یہ سب کچھ لکھتے ہوئے مجھے ابھی بھی زمانے کا ڈر محسوس ہو رہا ہے۔ کیوں؟ ثناءخان، کراچی: عزت تو آجکل بےعزت لوگوں کو ملتی ہے اس لیے جمعداروں اور طوائفوں کو دل پہ نہیں لینا چاہیے۔ بے چارہ جمعدار تو ہوتے ہی اقلیت سے ہیں، ان کا حال تو کوئی معجزہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔ عامر عبادت، لندن: آپ نے اچھا لگا مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر معاشرے کی کچھ اقدار ہوتی ہیں اگرچہ ہماری اقدار اور اقتدار دونوں ہی کا جنازہ نکتا رہتا ہے۔ پھر بھی اگر جسم فروشی ہماری اقدار کے خلاف ہے تو کم تولنا، ذخیرہ اندوزہ کرنا اور جھوٹے وعدے کرنا بھی خلاف ہے۔ سارے مسائل کا حل اسلام ہی ہے۔ عدنان محمد، لندن: اک بار پھر وسعت صاحب نے بڑا اچھا لکھا اور ایک بار پھر میرا دماغ ہلا دیا۔ |