BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 November, 2005, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعمیرِ نو اور نئے شہر

مظفر آباد کی خیمہ بستی
تعمیرِ نو کی منصوبہ بندی آسان نہیں
پاکستان اور کشمیر میں آنے والا ہولناک زلزلہ بلاشبہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد تباہی ہے۔ ایک ماہ سے زائد گزر جانے کے باوجود جہاں اس کے نقصانات کا حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکا، وہیں بحالی اور تعمیرِ نو کے مشکل اور طویل مرحلے کے بارے میں بھی بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی اور صلاحیت بہت محدود ہے لیکن ضروریات اور مطالبات کی فہرست طویل ہے۔

اس ضمن میں ہر طبقہِ فکر کے لوگ اپنی تجاویز اور آراء حکومت کو دے رہے ہیں۔ بہت سے حلقوں کی جانب سے یہ تجویز بہت پرزور انداز میں دی جا رہی ہے کہ متاثرہ علاقوں کی مشکل جغرافیائی صورتحال اور ان کی زلزلے کے علاقے میں موجودگی کی وجہ سے دوبارہ آبادکاری ایک غلط فیصلہ ہوگا، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ بے گھر ہو جانے والے متاثرین کے لیے میدانی علاقوں میں نئے شہر تعمیر کرے تاکہ یہ مسئلہ مستقل بنادوں پر حل ہو سکے۔ اس سلسلے میں وہ حکومت کی ان علاقوں میں تعمیرِ نو کے منصوبوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

کہنے کی حد تک تو یہ خیال بہت اچھا ہے، لیکن شائد ایسی تجاویز دیتے وقت ان کے قابلِ عمل ہونے اور ایسے منصوبوں کے تمام مضمرات کو پرکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس ضمن میں چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

درختوں کا ذخیرہ لگانا انسان کے بس میں ہے لیکن اسے جنگل بنانا اس کے علم اور وسائل سے باہر ہے۔ جنگل کی زندگی ایک زنجیر کی صورت میں ہوتی ہے جسے ایکو سسٹم ecosystem بھی کہہ سکتے ہیں۔ جانور نباتات پر پلتے ہیں، بڑے جانور چھوٹے جانوروں کو کھاتے ہیں، ان کے مرنے کے بعد کچھ مخلوقات انکے جسموں کو اپنی خوراک بنا کر ایسے مادہ جات خارج کرتی ہیں جن سے نباتات خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اسکی تمام کڑیاں نہ تو پوری طرح انسان کے علم میں ہیں اور نہ ہی انہیں ایک جگہ پر اکٹھا کرنا اس کے بس کی بات ہے۔

اسی طرح شہری زندگی کے نظام کو نئے سرے سے بنانا تو کیا سمجھنا بھی ایک مشکل امر ہے۔ رہائش انسانی زندگی کا صرف ایک پہلو ہے جو اس کے دوسرے پہلوؤں کے ساتھ زنجیر کی کڑیوں کی مانند جڑا ہوا ہے۔ اسے زنجیر سے علیحدہ کیا جائے تو نہ صرف زنجیر بے کار ہو جاتی ہے بلکہ یہ کڑی خود بھی بے معنی ہوجاتی ہے۔

انسانی زندگی میں اس کا ماضی، ثقافت اور ذریعہِ معاش ایسی ہی چند اہم کڑیاں ہیں۔ جس طرح ماہرینِ معاشیات اس بات پر متفق ہیں کہ منڈیاں بنائی نہیں جا سکتیں بجکہ خود بخود بنتی ہیں، اسی طرح شہر بھی ایک طویل عمل سے گزر کر وجود میں آتے ہیں اور راتوں رات شہر بنانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

مظفر آباد میں تعمیرِ نو
اپنی مدد آپ کے تحت تعمیرات شروع

چند ہزار یا لاکھ لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے انہیں رہائش فراہم کر دینا ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے۔ ہر شخص کے لیے روزگار کا مسئلہ حل کرنے کی منصوبہ بندی ایک سعیِ لاحاصل ہو گی۔ لوگ ضرورت کے مطابق اپنے روزگار کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ کام حکماً نہیں کیا جا سکتا اور اس میں بہت وقت درکار ہوتا ہے۔

ایسا کرنے کا مطلب ہو گا کہ ہم کمیونسٹ ملکوں کی طرح کنٹرولڈ اکانومی کا ایک ماڈل بنائیں جو ہماری ملکی معیشت اور عالمی حالات سے بالکل مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اس ماڈل کے اندر اندرونی اور بیرونی منڈیاں بنائیں، لوگوں کی صلاحیتوں کا مطالعہ کیا جائے، لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ تمہیں فلاں کام کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے ماڈل نہ صرف دنیا میں ناکام ہو چکے ہیں بلکہ یہ حکومت پر مستقل بوجھ ہوگا۔

ایسے نئے شہر میں بے یقینی، بے چینی اور بد امنی کا پھیلنا ایک قدرتی عمل ہو گا۔ اگر ہم کچی آبادیوں پر ہونے والی تحقیق کا مطالعہ کریں توہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکومتوں کی ایسی تمام کوششیں ناکام ہوئیں جن میں ان لوگوں کو وسائل سے محروم جگہوں سے نکال کر صاف ستھری نئی آبادیوں میں منتقل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نئی آبادیاں شہروں کے مصافاتی علاقوں میں بنائی گئی تھیں اور ان سے لوگوں کا نظامِ روزگار متاثر ہوا۔

دیہاتی علاقوں سے شہروں میں ہجرت کر کے آنے والوں کو رہائش برائے رہائش کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کی رہائش کے فیصلے کا تعلق ذریعہِ معاش سے ہوتا ہے۔ نتیجتاً لوگوں نے واپس گنجان علاقوں میں رہنے کے طریقے نکال لیے۔

اس سلسلے میں کچھ لوگ شائد اسلام آباد کی مثال دیں لیکن اس کے لیے دو چیزوں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اولاً یہ کہ اسلام آباد میں دارالحکومت کا قیام شہر کے وجود اور کامیابی کی وجہ بن گیا، اور دوئم یہ کہ اسے شہر بنتے بنتے کئی دہائیوں کا وقت لگا۔ اس وقت ایسے لوگوں کا مسئلہ نہ تھا جنہیں فوری طور پر آباد کیا جانا ضروری ہو۔

غربت میں کمی کے لیے کی جانے والی تحقیق بھی اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ بنے بنائے بیرونی نسخوں سے لوگوں کی حالت نہیں بدلی جا سکتی، بلکہ لوگوں کے پاس موجود وسائل کو استعمال میں لا کر ہی کچھ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ لوگوں کے پاس موجود ان وسائل کی فہرست کچھ یوں ہے:

انسانی سرمایہ:(human capital) جس میں ان کی اپنے علاقے کے بارے میں معلومات شامل ہیں، مثلاً پہاڑی علاقوں کے رہنے والوں کے لیے پہاڑوں پر چڑھنا اور پہاڑی رستوں کا علم ایک سرمایہ ہے۔

مادی سرمایہ:(physical capital) اس میں سڑکیں گھر اور وہ تمام مادی اشیاء شامل ہیں جن سے اس زلزلے کے بعد یہ لوگ محروم ہو چکے ہیں۔

مالی وسائل:(financial capital) یہ وسائل جن میں سرمایہ اور قرض وغیرہ شامل ہیں، ذریعہِ معاش کے لیے بہت ضروری ہیں۔

معاشرتی سرمایہ:(social capital) لوگوں کی معاشرتی زندگی اور اس میں موجود نظام ان کے لیے ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے مثلاً معاشرتی تعلقات، معاشرتی حقوق، اعتبار کا سرمایہ، خاندانی نظام، قبائلی روایات وغیرہ

قدرتی سرمایہ:(natural capital) اس میں زمین، پانی کی فراہمی اور نباتات وغیرہ شامل ہیں

سیاسی سرمایہ:(political capital) وہ نظام جس میں لوگ اپنی بات منوانے کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

جرگہ
معاشرتی مسائل کے حل کے لیے ہر علاقے کا اپنا اپنا نظام ہے

اب ان تمام اجزائے ترکیبی کو ذہن میں رکھ کر ذرا سوچیں کہ کیا ان کا مرکب بنانا آسان ہے؟ کیا ایک نئے شہر میں ان تمام وسائل کی فراہمی حکومت کے بس کی بات ہے؟ یا بہتر ہو گا کہ لوگوں کو مادی وسائل ان کے علاقوں میں فراہم کر دیے جائیں تاکہ وہ اپنے قدرتی، معاشرتی، انسانی اور دوسرے وسائل کو استعمال میں لا کر خود اپنی زندگی کا دوبارہ آغاذ کر سکیں۔

ان وسائل کی موجودگی، اہمیت اور انسان کی ان سے وابستگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس مشکل ترین وقت میں بھی لوگ اپنے تباہ شدہ گھر اور علاقے چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔

ان مضمرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل حل یہی تجویز کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے علاقوں میں ہی امداد فراہم کی جائے۔ یہ طریقہ نہ صرف حقائق کے مطابق ہے بلکہ کم خرچ اور پائدار بھی ہے۔

اسی بارے میں
ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق
11 November, 2005 | پاکستان
زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر
06 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد