’مہربان موسم کی وجہ سے نہیں آسکے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ تربت، کیچ اور گوادر کے علاقے سیلاب میں پھنسے ہوئے دو عینی شاہدین کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔
رات ڈھائی بجے مجھے ڈی سی او گوادر اقبال ندیم صاحب نے فون کر کے اطلاع دی تو میں فوراً گوادر سے نکلا اور یہاں پہنچا۔ اس علاقے میں نہ بجلی ہے اور نہ ٹیلیفون اس لیے گھر گھر جا کر لوگوں کو سیلاب کی آمد سے خبردار کرنا پڑا۔ یہاں لوگ صرف بی بی سی سنتے ہیں۔ میں نے سنڈسر کے ایس ایچ او کی بھی مدد لی اور انہیں آگے کے علاقوں میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اطلاع دیں۔ اللہ کا شکر ہے سیلاب رات کے وقت نہیں آیا۔ جمعرات کی رات کو ہم لوگوں کو نکال کر پہاڑوں پر لے آئے تھے۔ سیلاب جمعے کے روز آیا۔ اس سے آگے ہم لوگوں کو لے جا بھی نہیں سکتے کیوں کہ ہم سرحدی علاقے میں رہتے ہیں اور آگے ایران ہے۔ ہم نے پڑوس کے گاؤں سے بھی پر جا کر لوگوں کو نکالا۔ اللہ کا شکر ہے کہ باقی علاقوں کے نسبت یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ہمارے گاؤں میں دس پندرہ سپیڈ بوٹ ہیں جو ہم اپنے استعمال کے لیے رکھتے ہیں اور ان کی مدد سے ہم نے لوگوں کو پانی سے نکالا۔ جمعے کے روز جو سیلاب آیا اس سے پہلے دو سیلاب آئے تھے، ایک 1998 میں اور دوسرا 2005 میں۔ حال میں آنے والا سیلاب ان دونوں سیلابوں سے بڑا تھا۔ اس میں یونین کونسل سنڈسر کے چھتیس گاؤں سب تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ یہاں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جس کا گھر بچا ہو۔ کوئی گھر نہیں بچا بلکہ خدا کا گھر مسجد بھی نہیں بچی ہے۔ سیلاب کے باعث دریا دشت کے دونوں جانب کا علاقہ ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ ہمارے کچھ رشتے دار ایران میں رہتے ہیں جو اپنی گاڑیوں پر راشن لے کر آئے ہیں اور ہم نے یہ سامان اپنے گاؤں اور آس پڑوس کے گاؤں میں بھی تقسیم کیا ہے۔ ہمارے ساتھ اس وقت دو گاؤں کے لوگ ہیں جو کہ تقریباً دو سے ڈھائی ہزار افراد ہیں اور ہم سب یہاں پہاڑ پر اکٹھے ہیں۔ سب کچھ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حکومت کی طرف سے ہیلتھ کی جو امدادی ٹیم تشکیل دی گئی ہے وہ بھی نہیں آئی۔ ہمارے اپنے مہربان دوست ڈاکٹر عزیز نے یہاں کلاتو میں دو دن کیمپ لگایا اور لوگوں کا علاج کیا۔ کل ہم نے سپیڈ بوٹ کے ذریعے انہیں دوسرے گاؤں میں منتقل کیا۔ حکومت کی طرف سے ہمارے کچھ مہربان آج آنے والے تھے لیکن شاید موسم کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ حکومت کی سستی بڑا مسئلہ ہے۔ اگر کسی کو پانی چاہیے اور اسے تین دن بعد پینے کو پانی ملے تو وہ تو پیاس سے ہی مر جاتا ہے۔ کل حکومت کی طرف سے چار ہیلی کاپٹر آئے تھے انہوں نے دس ٹینٹ دیئے اور کچھ سامان دیا۔ حکومت دعوے تو کر رہی ہے، کوشش بھی کر رہی ہے لیکن یہاں پہنچ نہیں رہی۔ ہم تو گلہ بھی نہیں کرتے اور تنقید بھی نہیں کرتے۔ اب ہماری یہ عادت بن چکی ہے۔ تین مارچ 1998 کو جو سیلاب آیا تب بھی ہم نے جو کیا وہ اپنی مدد آپ کے تحت ہی کیا اور 2005 میں بھی ایسا ہی ہوا۔
دیکھیں جو سیلابا آیا ہے اس سے تو صرف تربت ہی نہیں پورا کیچ (کا علاقہ) متاثر ہوگیا ہے۔ کم وبیش کوئی ڈھائی لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں اور ڈھائی لاکھ افراد کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے کسی امداد کے منتظر ہیں۔ اس وقت تو سب سے بڑا جو چیلنج ہے وہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ شیلٹر کا ہے اور بحالی کا ہے۔ لوگ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ حکام دعویٰ تو یہ کر رہے کہ پہلے وہ ضروری خوردو نوش اور بنیادی زندگی کی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور پھر بحالی کریں گے۔ حکام کوئی صاف طور پر نہیں کہہ رہے کہ کتنے دن میں بحالی عمل میں لائی جائے گی۔ ہمارے جو وزیرِ اعظم صاحب ہیں وہ تو کہہ رہے ہیں کہ جلد بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا لیکن یہ بحالی کا عمل شروع کب ہوگا یہ انہوں نے واضح نہیں کیا ہے۔ وہ (شوکت عزیز) آئے تھے، انہوں نے علاقے کا ایک فضائی جائزہ لیا۔ نیچے تو وہ اترے لیکن ایئرپورٹ پر ہی۔ ایف سی کے ایک اہلکار نے انہیں ایئرپورٹ پر ہی بریفنگ دی۔ بہ نفسِ نفیس وہ متاثرہ علاقوں میں نہیں اترے اور متاثرین سے ملاقات نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایئرپورٹ لاؤنج پر ہی کچھ متاثرین سے ملاقات کی۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||