BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں‘


یکم جنوری، دو ہزار سات:
(آٹھ مارچ دو ہزار سات کو کراچی میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک ریلی منعقد ہوئی، جس میں مختار مائی نے بھی حصہ لیا۔ یہ پوسٹر اسی ریلی کے موقع پر لگایا گیا تھا۔)
صبح چہل پہل زیادہ رہی کیونکہ آج بکرا عید ہے۔ کچھ مہمانوں نے کراچی سے آنا تھا جو کہ ایک ٹی وی چینل سے عید کے دن میری مصروفیات ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کی ٹیم کے رکن عمران حنیف بھائی نے ٹیلیفون پر بتایا کہ ان کو مظفر گڑھ میں کار حادثے کی وجہ سے انہیں واپس ملتان جانا پڑ رہا ہے۔ مجھے بے حد افسوس ہوا۔ ان کی وجہ سے میں پریشان رہی۔ وہ میرے مہمان ہیں ، میں نے کئی دفعہ فون پر ان کی خیریت معلوم کی اور گھر میں آنے والے لوگوں سے بھی ملتی رہی۔

بعد میں سینٹر برائے خواتین میں گئی جہاں بشیراں بی بی اور اس کی والدہ اقبال مائی سے ملی اور ان کو عیدی دی۔ کچھ ٹائم ان کے ساتھ گزارا تاکہ وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہ کریں۔ بشیراں کی ماں کو اس کے باپ نے طلاق دے کر گھر سے کافی عرصہ قبل نکال دیا تھا اور خود دوسری شادی کر لی تھی۔ بشیراں کی ایک بہن شادی شدہ ہے۔ بشیراں خود ایک بھولی بھالی سی لڑکی ہے۔ اس کا باپ اسے مارتا پیٹتا ہے جس سے تنگ آ کر وہ اپنی ماں کے پاس بھاگ آئی۔ جس پر اس کے والد اور ان کی برادری کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے ماں بیٹی کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو یہ بےچاری ماں بیٹی چھپ چھپا کر میرے پاس پہنچ گئیں۔ اور اب وہ کرائسس سینٹر شیلٹر میں ہیں جہاں ان کو ہر ممکنہ سکیورٹی اور سہولیات حاصل ہیں۔

حسب معمول آدھا دن عید کا میرے گھر گزرا اور پھر میں نسیم کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی۔ شام کو ہم واپس میروالہ آئے تو کچھ اور مہمان جو کہ شہر سلطان اور علی پور کے سماجی کارکن ہیں۔


دو جنوری، دو ہزار سات

صبح ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ میرے بھائی کے بیٹے یعقوب نے کہا کہ کوئی وکیل ملنے آیا ہوا ہے ۔ آفس میں آئے تو خبریں اخبار کے نمائندے رانا منان بھائی تھے۔ یہ میرے بھائی کی طرح ہیں۔ یہ وہی انسان ہیں جنہوں نے اس ظلم کے خلاف میری آواز میں آواز ملا کر خبریں اخبار میں خبر لگائی تھی۔ ان سے کافی دیر بات ہوتی رہی۔


تین جنوری، دو ہزار سات

میری دوست نسیم نے میری بہن رحمت مائی اور بھائی منیر کو ملتان کے لیے روانہ کیا اور خود گھر رہی۔ میں مصروفیات کے باعث فون پر نسیم سے رابطے میں رہی۔ عید کی چھٹیاں ہیں، اسکول بھی بند ہے۔ سردی کی لہر نے سب کو محدود کر دیا ہے۔ گاؤں میں سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ چاروں طرف زمینوں میں کاشت ہو رہی ہے کیوں کہ کپاس کا سیزن ختم ہوگیا ہے۔ گندم کی بوائی کا سیزن ہے۔ سردیوں کے موسم میں شادیاں بھی زیادہ کی جاتی ہیں۔ کیوں کہ گاؤں کے بہت سے لوگ کاشت کاری پر انحصار کرتے ہیں لہٰذا سردیوں میں کپاس سے آنے والی آمدنی کا ایک حصہ شادی بیاہ پر خرچ کیا جاتا ہے۔

گاؤں میں اکثر کم عمری میں شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ گاؤں کے لوگ اس کو اپنا فرض اور خوشی تصور کرتے ہیں۔ اس طرح میرے اپنے ماموں نے اپنے پانچویں کے طالب علم بیٹے کی شادی طے کر دی ہے، جس کے امتحان سر پر ہیں۔

مگر لوگوں کو کسی قسم کی پرواہ بھی نہیں۔

ایک اور بچی کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور آج کل کے تقاصے بھی کچھ اور ہیں۔ اگرچہ گاؤں میں پہلے بھی اس طرح ہوتا تھا اور میری سمجھ میں یہی سب کچھ ٹھیک تھا مگر اب جو میں نے تھوڑا بہت دنیا کو دیکھا ہے جن میں پڑھے لکھے لوگ، ترقی یافتہ ممالک کے لوگ جن کے رہن سہن، کام کا ڈھنگ اور سوچنے کا انداز بالکل مختلف ہیں۔ وہ ایک علیحدہ اور مختلف قسم کی دنیا ہے اور ادھر ہمارے گاؤں کی زندگی اپنے وکھرے انداز میں رواں دواں ہے۔

اتنی بات میری سمجھ میں آتی ہے۔


چار/ پانچ جنوری، دو ہزار سات
آج صبح گھر والوں کے ساتھ ہم آگ سینکنےجا بیٹھے۔ ہمارے ہاں مٹی کے کچھ چولہوں میں لکڑی جلائی جاتی ہے اور لوگ چاروں طرف بیٹھ کر آگ سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ نسیم ابھی بیٹھی ہی تھی کہ میری امی نے کہا کہ ’تمہارا بھتیجا تنویر‘، جوکہ پانچویں کلاس کا ہی طالبعلم ہے، ’کہتا ہے کہ میری شادی کرو۔‘ اس پر نسیم نے جوتی اٹھائی اور تنویر سے کہا ’تم بھی وہی کچھ سوچ رہے ہو جو باقی سوچتے ہیں، جبکہ ہم ان باتوں کو سمجھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ہمارے سکول میں کئی بچیاں کم عمری کی شادی کا شکار ہو چکی ہیں۔ اگر اپنے گھر والے بھی یہ کریں گے تو ہماری کوششیں سرے سے ناکام ہو جائیں گی۔ شادی کرنی چاہیے لیکن اس کا ایک مناسب وقت اور ذمہ داریوں کو اٹھانے کی جرآت اور سمجھ بوجھ ہونی چاہیے۔‘

آٹھ نو سالہ میرا بھتیجا خاموش بیٹھا سب کچھ سنتا رہا۔ پھر کہتا ہے کہ ’میں نہیں کرتا شادی۔‘ نسیم نے اسے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کرو اور دل لگا کر پڑھو ورنہ ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نسیم بہت جلد جذبات میں آ جاتی ہے۔ ان ساری باتوں پر وہ فوراً بولتی ہے اور قائل کرنے کی صلاحیت اس میں موجود ہے۔ آج میں سوچتی رہی کہ ہمارے گاؤں میں تبدیلی اتنی جلد اور آسانی سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے صبر اور وقت کی ضرورت ہے۔


چھ جنوری، دو ہزار سات

آج میرے ماموں کے بیٹے کی خالہ کی بیٹی سے شادی تھی۔ عموماً میں شادی بیاہ میں شرکت نہیں کرتی تھی مگر ممانی کی وفات کے بعد میں اپنی ممانی کے چھوٹے بچوں سے پیار کرتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ ان کو ماں کی کمی کا زیادہ احساس نہ ہو۔ اس لیے میں نے آج اس چھوٹے بچے کی شادی میں شرکت کی۔ میں نے اس کم عمر کی شادی پر ماموں کو سمجھایا تھا مگر وہ نہ سمجھے۔


سات جنوری، دو ہزار چھ

صبح آٹھ بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ نسیم نے دروازہ کھولا اور میرے بہنوئی ریاض نے بتایا کہ تین مرد ہیں اور ایک بچی ان کے ساتھ ہے، ملنا چاہتے ہیں۔ نسیم نے انہیں فوراً بلایا اور آفس والے کمرے میں انہیں بٹھایا۔ تھوڑی دیر بعد نسیم اس بچی کو میرے پاس لے آئی۔ آٹھ نو سالہ شہناز بی بی کو اس کے چچا کے بدلے میں زبردستی ونی بنا دیا گیا۔ اس کے والد بخت علی نے بتایا کہ دوسری برادری نے اس کے بھائی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ان کی لڑکی کے ساتھ دوستی لگائی ہوئی ہے لہٰذا انہوں نے کچھ دن قبل ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور مارنے کی دھمکیاں دیں۔ ہم ان کی منت سماجت کرتے رہے۔ انہوں نے میری بیٹی شہناز بی بی کو ونی مانگ لیا۔ علاقے کے لوگوں نے کہا کہ فساد نہ کرو، جھگڑا ختم ہوتا ہے تو فوراً ان کی مرضی کے مطابق کر دو۔ خیر وہ قاضی یعنی نکاح خواں کو لے آئے اور میری بیٹی کا نکاح اپنے لڑکے کے ساتھ کر گئے۔

بچی بالکل خاموش بیٹھی ہوئی تھی اور کمرے میں لگی ہوئی تصویروں کو دیکھ رہی تھی۔ بالکل ہی بےخبر کبھی اپنے باپ کو روتا دیکھتی تو پریشان ہو جاتی تھی ورنہ وہ ان حالات کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر تھی۔ خیر ہم نے متعلقہ تھانہ صدر علی پور میں اطلاع کی اور انہیں ادھر بھیجا مگر وہ خوف کے مارے تھانے نہ گئے۔


آٹھ جنوری، دو ہزار سات

صبح تھانہ صدر کے سب انسپکٹر کا فون آیا کہ کل شہناز بی بی اور اس کا والد بخت علی تھانے نہیں پہنچے لہذا ان کا پتہ بتائیں۔ ہم نے اپنے پاس لکھا ہوا پتہ بتا دیا۔


نو/دس جنوری، دو ہزار سات

ڈاکٹر ریا نے ہالینڈ سے ہماری این جی او کے مسائل پر کہا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں اپنی ایمبیسی میں درخواست کی کہ این جی او ہونے کے باوجود ہمارے پاس آفس نہیں ہے۔ جبکہ ایک کمرے پر مشتمل آفس میں سکول، این جی او کا دفتر اور دیگر پراجیکٹ کے کام بھی ہوتے ہیں۔ آفس کا عملہ بھی ادھر رہائش پزیر ہے اور آنے جانے والے مہمانوں کو بھی اسی کمرے میں ٹھہراتے ہیں۔ ڈاکٹر ریا کی کوششوں سے نیدرلینڈ ایمبیسی نے آفس بنانے کے لیے فی الحال پاکستانی تین لاکھ روپے دیے ہیں۔ یہ دو دن ہم نے نقشہ کے ماہر قاضی صاحب کو بلایا، پلاٹ دکھایا اور ایسٹی میٹ لگوایا کہ آفس کی کتنی بنیادیں اتنی رقم سے کھڑی ہو سکتی ہیں۔ میری کوشش اور خواہش ہے کہ تھوڑے بہت جو کام ہیں وہ پایہ تکمیل کو پہنچیں۔


گیارہ/ بارہ جنوری، دو ہزار سات

صبح سردار مائی آئی۔ اس نے کہا کہ ’میری بکریاں علاقے کا ایس ایچ او باندھ کر لے گیا ہے۔ میرے بیٹے پر پرچہ ہے۔ اس کی پاداش میں ایس ایچ او مجھ غریب عورت کی بکریاں باندھ کر لے گیا ہے۔‘ اتنی ٹھنڈ میں وہ بےچاری پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے آئی تھی۔ کہیں چوری ہو جائے، کسی کی زمین کا معاملہ ہو، ہر طرح کے متاثر لوگ میرے پاس آ جاتے ہیں اور یہی توقع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ملک میں اللہ تعالٰی کے بعد آپ پر امید کرتے ہیں۔ ہماری کوئی نہیں سنتا، ہم کیا کریں‘۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔ کیونکہ میرے بارے میں تمام تاثر یہی ہے کہ میں سب کچھ کر سکتی ہوں، جبکہ ان غریب لوگوں کو خود معلوم نہیں ہے کہ میں کتنی بےبس، مجبور اور ایک عام انسان ہوں۔ چھوٹے سے میرے کام ہیں۔ جن میں بچوں اور بچیوں کی تعلیم اور خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے خلاف لڑنا، ان سب مسئلوں کے پیچھے میں کہاں تک بھاگ سکتی ہوں؟ یہ برائیاں اور زیادتیاں ہم میں کم ہونے کی بجائے بد قسمتی سے ان کی جڑیں پھیل رہی ہیں۔


چودہ جنوری، دو ہزار سات

دن دس بجے اٹھی، نسیم کو اٹھایا اور فوراً تیار ہو کر جتوئی میں ’لائسم‘ سکول پہنچے تو ہم کوئی دو گھنٹے لیٹ ہو چکے تھے۔ بچے اور بچیاں انتظار کر رہے تھے کیوں کہ اس پروگرام میں میں چیف گیسٹ تھی۔ مجھے ندامت کا احساس ہوا ۔ خیر میں نے سب سے معافی مانگی۔ بچوں نے پرجوش ہو کر پروگرام میں حصہ لیا جس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ ان بچوں کو دیکھ کر میرے من میں ننھی سی کرنیں چمکنے دمکنے لگتی ہیں۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ علی پور چلے گئے۔ فروزہ زہرہ میری بہن کی طرح ہیں۔ ایس پی او میں کام کرتی ہیں اور ہماری این جی او کو تکنیکی مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔


پندرہ جنوری، دو ہزار سات

صبح نو بجے ہم مظفر گڑھ کے لیے روانے ہوئے۔ مظفر گڑھ میں ’میٹ دی پریس‘ میں مہمان ہوں۔ پہلے فروز زہرہ کو ان کے آفس مظفر گڑھ میں چھوڑا اور اس کے بعد میں نے اپنی بہن رحمت مائی کی دوائی ملتان سے لی۔ ایک ڈیڑھ بجے پریس کلب مظفر گڑھ پہنچے۔ یہاں کوئی ساٹھ ستر کے قریب صحافی بھائی موجود تھے۔ تلاوت قرآن پاک سے آغاز ہوا۔ پریس کلب کے سکریٹری نے خطاب کیا۔ اس کے بعد پریس کلب کے صدر نعیم بھائی نے خطاب کیا اور اس کے بعد مجھے بولنے کی دعوت دی گئی۔ بعد میں سوال جواب کا سلسلہ ہوا۔ بہت سے سوالوں میں سے ایک یہ بھی سوال تھا کہ ’صدر صاحب کہتے ہیں کہ بس اب مختار مائی کے باب کو ختم ہونا چاہیے۔ آپ اس پر کیا کہتی ہیں۔‘

میں نے کہا کہ ظلم و زیادتی کا باب صدر صاحب بند کرائیں کیونکہ میں تو ایک ادنی سی سوشل ورکر ہوں اور ظلم اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہوں۔

تقریباً شام میں گھر واپس آئے ۔ کافی تھک چکے تھے، کھانا کھایا اور سو گئے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مختار مائیہمارے کلچر کی مٹھاس
’اب تم بھی پسند کی شادی کرلو‘
مائی بلاگمائی بلاگ
امریکہ کا سفر اور عورتوں کی حالت زار
مائی بلاگمائی بلاگ
’دردناک سچائی روز در پر کھڑی ہوتی ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’اب یہ میری زندگی نہیں رہی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد