زندگی میں آیا ایک نیا مروڑ۔۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاید آپ نے یہ گانا سنا ہو: ’ہاں اسی موڑ پر‘، یا ہو سکتا ہے آپ نے یہ والا سنا ہو: ’اِس موڑ سے آتے ہیں کچھ سست قدم راستے‘ مگر چند موڑ ایسے بھی آتے ہیں کہ جہاں سستی کی بجائے پھرتی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ورنہ بڑا شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ موڑ کے نزدیک ہی واقع ہے مروڑ کبھی کبھی اپنی یا کسی دوسرے کی بیوی کے پیار بھرے ہاتھوں کے پکے ہوئے کھانے سے بھی اُٹھ سکتا ہے یہ مروڑ اور اگر ’اپنی‘ سے شکایت کی جائے تو شوہر حضرات کی گردن بھی مروڑی جا سکتی ہے تاکہ مُڑ مُڑ کے شوہر کو یہ بات یاد آئے اور عبرت دلائے۔ پچھلے دنوں خالی پیٹ بہت ساری دعائیں کھانے سے عجیب پیچ و تاب اور نشیب و فراز سے وجود میں آ رہے تھے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے کہاں جانا چاہئے، میں وہاں نہیں جا سکتی تھی۔ اس لئے کہ ایمرجنسی بنیاد پر مجھے کچھ ایک ہیڈلائن لکھنی تھی جس میں لوگوں کو ایک کروڑ تک جیتنے کی خوشخبری دینی تھی۔ آپ نے پیٹ پکڑ کر ہنسنا سنا ہوگا۔ میں اس وقت پیٹ پکڑ کر لکھ رہی تھی۔ (آپ کو یہاں مجھ سے ہمدردی کرنی چاہیئے اور مجھے پتہ ہے کہ شاہدہ اکرام تو کریں گی کیونکہ وہ میرا ’درد، سمجھ سکتی ہیں۔) میں پیٹ کی ہلکی نہیں ہوں مگر اُس وقت میری زندگی کا اولین مقصد ہی یہی تھا۔۔۔۔اور دوسری جانب میری ٹیم کے ممبرز ہمہ تن گوش تھے۔ تیسری جانب مجھے رات کو نوش فرمائی چڑھائی کی کڑاہی کے گوشت پر مکمل شک تھا۔ بہرحال، بُرا حال اور پھر میرے سینیئر باس آ پہنچے، جن کے نہ پیٹ میں آنت نہ منہ میں دانت۔ تھوڑے بہت دانت تو تھے مگر ہیڈ لائن پڑھ کر اتنے کچکچائے کہ باقی نہ رہے۔ کیونکہ دل کی بات صرف زباں تک آنی چاہیئے، مگر یہاں وہ منظرِعام پر آ چکی تھی۔ ہیڈ لائن تھی ’زندگی میں آیا ایک نیا مروڑ، جیتو کم از کم ایک کروڑ، آخر پیٹ تو سب کے ساتھ لگا ہے۔
محمد یوسف اقبال، دبئی اسداللہ نظامانی، ٹنڈو قیصر شازیہ خان، کراچی عدنان محمد، لندن نعیم نجمی، کراچی جاوید اقبال ملک، چکوال |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||