BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 June, 2006, 16:17 GMT 21:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرالی کو بھول جاؤ، ستارو تم تو سو جاؤ


اٹھارہ جون: ’ستارو تم تو سوجاؤ‘


پچھلے دنوں ایک شوٹنگ کے سلسلے میں لاہور جانا ہوا اپنے کچھ کلیگز کے ساتھ۔ ایک ٹی وی کے اشتہار کے لیے۔ واسطہ کرکٹرز سے پڑنا تھا۔

ایئرپورٹ پر ایک بندہ ہمارے ناموں کا کارڈ لیے کھڑا تھا۔

اس سے سلام علیک کر کے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس اگلے منحوس کا انتظار کرنے لگے جس کے لیے وہ ہمارا تیل نکال رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میرے ایک ساتھی نے پوچھا تو بولا کہ شیما کمال کا انتظار کر رہا ہوں۔ میرے کلیگ نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا تمہیں محمود غزنوی نظر آرہی ہیں؟

اپنے سے زیادہ ہونق شخص سے مل کر اتنی خوشی ہوئی کے بس کیا بتاؤں۔

خیر اس سے عرض کی کہ اگر ناراض نہ ہو تو عرض کروں دل اب سائے میں جانے کو چاہتا ہے۔ اللہ سب پر ماں باپ کا سایہ قائم رکھے، جون میں لاہور پہنچ کر اندازہ ہوا کہ سایہ کس شے کا نام ہے۔

پھجے کے پائے، بانو بازار کی چاٹ خوش نصیبوں کے حصہ میں آتی ہیں۔ ہم کو تو ایم ایم عالم روڈ کے نظارے بھی نہ ملے۔ ملے تو صرف کرکٹ کے ستارے۔

ہوٹل میں پوری رات انضمام اور شعیب اختر بجائے چوکے چھکے لگانے کے صرف ٹرالیاں ہی گھسیٹتے رہے۔ نیند میں یہی سمجھ آیا کہ شاید لڑکی والے انہیں دیکھنے آرہے ہوں گے۔ صبح پتا چلا کہ ویٹر دراصل کچھ پاپیوں کے پیٹ بھر رہے تھے۔ شریف ہوتے تو سوتے اور سونے دیتے۔

لشٹم پشٹم کرکٹ اکیڈیمی پہنچے تو دھوپ نے پھر جلوہ دکھانا شروع کر دیا۔ لہٰذا جوں ہی ایک آم کا پیڑ دکھائی دیا سب اس کے نیچے پناہ لینے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ حالات کے حساب سے یہ گانا فٹ تھا ’ آمبوا کی چھاؤں تلے، مورا جیا جلے‘۔

بلآخر کرکٹ کے ستاروں کو پریکٹس سے واپس آکر اپنی ٹھنڈی گاڑیوں میں روانہ ہو کر ڈنڈی مارتے دیکھ کر سب نے اپنی کمر کس لی اور جیسے ہی ایک دوسرے مشہور حضرت برآمد ہوئے، انہیں فوراً درآمد کر کے ان کا میک اپ کیا گیا۔ ستاروں کو گویا چاند کا ٹکڑا بنا کر میری باری آئی کہ انہیں ڈائیلاگ یاد کراؤں۔ ساتھ میں یہ بھی یاد آیا کہ کلائینٹ نے کہا تھا ’ یو ہیو ٹو ڈیلیور‘۔ مجھے آغا خان یاد آنے لگا جہاں یہ کام میں نے یہاں سے بہتر انجام دیا تھا۔ اب آپ کے مرضی مانیں یا نا مانیں۔

شکر کہ شوٹنگ بھی کامیاب رہی اور دن بھر کندن بن کر جب ہم اپنی بھوتوں جیسی شکلیں لیے ایئرپورٹ پہنچے تو ایئرلائنوں کی سروس سے ڈرے ہوئے مسافر اور ڈر گئے۔

رات ہوچکی تھی، ستارے نکل آئے تھے۔


آپ کی چٹھی:

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
شیما، آپ نے لاہور کی گرمی شاید پہلی مرتبہ دیکھی ہے جبھی اتنی رنگین ہورہی ہیں۔ مراد لال پیلے ہونے سے ہے۔ پھر پھجے کے پائیوں کا تیا پانچا کیا یا نہیں اور شعیب سے کیا گل کھلایا؟ آغا خان کی ڈلیوری تو زبردست رہی ہوگی کلائینٹ نے اس ڈلیوری کے بارے میں کیا کہا؟ دعائیں۔

عبدالوحید خان، برمنگھم:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اور اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں وغیرہ وغیرہ۔

نذیر عباس، کراچی:
یہ منہ اور مسور کی دال، انظمام کو کبھی خواب میں بھی دیکھا ہے کیا؟ جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

خان، پشور:
شیما جی، یہ بلاگ ہے یا آنپ شانپ؟

یوسف اقبال، یو اے ای:
بہت ہی خوب، شیما جی آپ کی حسِ مزاح بہت شاندار ہے۔ ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا۔ اب آپ اس اشتہار کے بارے میں بھی بتا دیں تاکہ جب ہم دیکھیں تو یاد آجائے کہ اس نے کچھ لوگوں کو بھوت بنا دیا تھا۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
شیما بہن، آپ کو اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ آپ کی ملاقات انضی بھائی سے ہوگئی، ایک ایسے ستارے سے جسے دیکھنے کے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ کو شاید کرکٹ پسند نہیں تو آپ کو کیا اچھا لگتا ہے؟

سرفراز حبیب، جڑانوالہ:
ارے اپ خوش قسمت ہیں کہ کرکٹ کے ستارے دیکھ لیے ورنہ ہم نے تو جب بھی کوشش کی بادل ہی چھا گئے۔ آپ کو جون میں لاہور آنے کا کس نے کہا تھا؟ مشورہ ہی کر لیتیں۔ یہاں تو دسمبر کے علاوہ کبھی نہ آئیں۔

اظفر خان، ٹورنٹو :
شیما بی بی آپ بی بی سی کی نوکری سے پہلے کیا کرتی تھیں۔ کچھ تو سر پیر باتوں میں ہونا چاہیے۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں کی ہانک رہی ہیں۔

ساجد پردیسی، کینیڈا:
سچ بات تو یہ ہے کہ آپ نے بہت بور بلاگ لکھا ہے۔ کسی اور موضوع پر طبع آزمائی کیجئے۔

عباس، اسلام آباد:
پیار بھرا سلام

ہومو سیپئن، زمین:
کیا آپ اسے تحریر کہتی ہیں؟ واقعی ذرا مجھے بتائیے کیا آپ کے لیے لکھنا اتنا ہی ضروری ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
حسن بلاگ ’بی بی سی محلہ‘
فرائیڈ کی بیٹی اور بش ہاؤس کا پاک ٹی شاپ
اسد علیپڑھائی، چائے، قوّالی
کیا کبھی آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ اسد علی
ہم کتنے بھوکے ہیںہم کتنے بھوکے ہیں
عارف شمیم کا نیا بلاگ بھوک کے بارے میں
میلاد کی تقریباتمیلاد کی تقریبات
’کیا یہ محرم کی تقریبات کا مقابلہ ہے؟‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد