ٹرالی کو بھول جاؤ، ستارو تم تو سو جاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے دنوں ایک شوٹنگ کے سلسلے میں لاہور جانا ہوا اپنے کچھ کلیگز کے ساتھ۔ ایک ٹی وی کے اشتہار کے لیے۔ واسطہ کرکٹرز سے پڑنا تھا۔ ایئرپورٹ پر ایک بندہ ہمارے ناموں کا کارڈ لیے کھڑا تھا۔ اس سے سلام علیک کر کے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اس اگلے منحوس کا انتظار کرنے لگے جس کے لیے وہ ہمارا تیل نکال رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میرے ایک ساتھی نے پوچھا تو بولا کہ شیما کمال کا انتظار کر رہا ہوں۔ میرے کلیگ نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا تمہیں محمود غزنوی نظر آرہی ہیں؟ اپنے سے زیادہ ہونق شخص سے مل کر اتنی خوشی ہوئی کے بس کیا بتاؤں۔ خیر اس سے عرض کی کہ اگر ناراض نہ ہو تو عرض کروں دل اب سائے میں جانے کو چاہتا ہے۔ اللہ سب پر ماں باپ کا سایہ قائم رکھے، جون میں لاہور پہنچ کر اندازہ ہوا کہ سایہ کس شے کا نام ہے۔ پھجے کے پائے، بانو بازار کی چاٹ خوش نصیبوں کے حصہ میں آتی ہیں۔ ہم کو تو ایم ایم عالم روڈ کے نظارے بھی نہ ملے۔ ملے تو صرف کرکٹ کے ستارے۔ ہوٹل میں پوری رات انضمام اور شعیب اختر بجائے چوکے چھکے لگانے کے صرف ٹرالیاں ہی گھسیٹتے رہے۔ نیند میں یہی سمجھ آیا کہ شاید لڑکی والے انہیں دیکھنے آرہے ہوں گے۔ صبح پتا چلا کہ ویٹر دراصل کچھ پاپیوں کے پیٹ بھر رہے تھے۔ شریف ہوتے تو سوتے اور سونے دیتے۔ لشٹم پشٹم کرکٹ اکیڈیمی پہنچے تو دھوپ نے پھر جلوہ دکھانا شروع کر دیا۔ لہٰذا جوں ہی ایک آم کا پیڑ دکھائی دیا سب اس کے نیچے پناہ لینے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ حالات کے حساب سے یہ گانا فٹ تھا ’ آمبوا کی چھاؤں تلے، مورا جیا جلے‘۔ بلآخر کرکٹ کے ستاروں کو پریکٹس سے واپس آکر اپنی ٹھنڈی گاڑیوں میں روانہ ہو کر ڈنڈی مارتے دیکھ کر سب نے اپنی کمر کس لی اور جیسے ہی ایک دوسرے مشہور حضرت برآمد ہوئے، انہیں فوراً درآمد کر کے ان کا میک اپ کیا گیا۔ ستاروں کو گویا چاند کا ٹکڑا بنا کر میری باری آئی کہ انہیں ڈائیلاگ یاد کراؤں۔ ساتھ میں یہ بھی یاد آیا کہ کلائینٹ نے کہا تھا ’ یو ہیو ٹو ڈیلیور‘۔ مجھے آغا خان یاد آنے لگا جہاں یہ کام میں نے یہاں سے بہتر انجام دیا تھا۔ اب آپ کے مرضی مانیں یا نا مانیں۔ شکر کہ شوٹنگ بھی کامیاب رہی اور دن بھر کندن بن کر جب ہم اپنی بھوتوں جیسی شکلیں لیے ایئرپورٹ پہنچے تو ایئرلائنوں کی سروس سے ڈرے ہوئے مسافر اور ڈر گئے۔ رات ہوچکی تھی، ستارے نکل آئے تھے۔
شاہدہ اکرام، یو اے ای: عبدالوحید خان، برمنگھم: نذیر عباس، کراچی: خان، پشور: یوسف اقبال، یو اے ای: جاوید اقبال ملک، چکوال: سرفراز حبیب، جڑانوالہ: اظفر خان، ٹورنٹو : ساجد پردیسی، کینیڈا: عباس، اسلام آباد: ہومو سیپئن، زمین: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||