BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 January, 2006, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کے مسئلہ کا حل کیا؟
ایران کے مسئلہ کا حل کیا؟
روس نے کہا ہے کہ تہران پر اقتصادی پابندیاں لگانا ایران کے مسئلے کا بہتر اور واحد حل نہیں ہے۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی تشویش کے بارے میں ایران کو قائل کرنے کے اور بھی طریقۂ کار ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران اور یورپی یونین میں معطل مذاکارت کی بحالی کے لیے سب فریقوں کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیئے اور تحمل سے کام لینا چاہیئے۔

ماضی میں ایران سے جوہری معاملات پر مذاکرات کرنے والے تین ملکوں جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی کے ای اے کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایران کے حالیہ اقدامات پر مزید غور کیا جاسکے۔

آپ کو کیا لگتا ہے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں جاری تنازعے کو حل کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کیا آپ کی رائے میں امریکہ اور یورپی ممالک کا موقف صحیح ہے یا پھر چین اور روس کا؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

محفوظ رحمان، اسلام آباد، پاکستان:
ایران کو صرف اسلامی ملک ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ شمالی کوریا کا امریکہ نے پہلے ڈرامہ رچایا لیکن اس کا اصل ہدف ایران ہی تھا۔ صرف اللہ سے خیر کی توقع رکھیں۔ یہ مذاکرات بھی ڈرامہ ہیں۔

محمد فیصل، جرمنی:
جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ایران کو یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، جس طرح پاکستان نے کیا۔ بہتر یہی ہے کہ اب مصلحت کے تحت کچھ اقدامات کر لیے جائیں کیوں کہ بش کی لاٹھی بے آواز ہے۔

حسن عباس، راولپنڈی، پاکستان:
پر امن مزاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں۔ ایران آئی اے ای اے سے مزاکرات کر رہا ہے اور اس کو اب اپنے موقف پر نظر ثانی نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں روس کا موقف بالکل درست ہےجیسا کہ ہم پہلے عراق کے خلاف ہوئی کارروائی دیکھ چکے ہیں۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
میں روس اور چین کے بیانات سے اتفاق کرتا ہوں۔ آخر دوسری عالمی جنگ بھی تو مزاکرات ہی سے ختم ہوئی تھی۔ ہر جنگ آخر میں مزاکرات پر ہی ختم ہوتی ہے۔

علی، جاپان:
اب صدر مشرف ایران کے معاملے پر امریکہ سے بات چیت پر مرکزی کرادار ادا کرسکتے ہیں۔ اس وقت صدر مشرف زیادہ پیسے بنا سکتے ہیں اور پاکستان میں طویل عرصے تک حکمران رہ سکتےہیں۔

طارق علی شاہ، برطانیہ:
یہ کون سا انصاف ہے کہ کچھ ملکوں کو تو ایٹمی طاقت بننے کا حق ہے اور دوسروں کو نہیں۔ اگر بات غیر ذمہ داری کی ہے تو دنیا میں سب سے پہلے کس نے ایٹم بم استعمال کیا ہے۔ سب سے پہلے تو امریکہ پر پابندی لگنی چاہیے۔ مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ جس نے یہ سب کیا وہ اب انسانیت کا ٹھیکے دار ہے۔ ایران بھی اس دنیا کا ایک ملک ہے۔ اس کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ بھی ترقی کرے۔ میرے خیال میں اسے یہ حق ملنا چاہیے۔ اور دوسری بات یہ کہ جب دوسروں کو مزاکرات کی تعلیم دی جاتی ہے تو کسی اسلامی ملک کے لیے یہ قانون کہاں چلا جاتا ہے۔ ایک طرف تو اسرائیل کو تمام چیزوں سے نوازا جا رہا ہے اور دوسری طرف کسی اسلامی ملک کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی بھی اجازت نہیں۔ واہ جناب!

نامعلوم:
ایران کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایران کے پاس تیل ہے، پیسہ ہے، جومرضی کرے۔ امریکہ پہلے ہی بہت مصیبت میں پھنسا ہوا ہے وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرے گا۔ ویسے بھی ایران عراق نہیں ہے جو اتنے آرام سے ہار مان لے گا۔

تسلیمہ خالد، کراچی، پاکستان:
ایران کوکیا ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط کرے۔ امریکہ کو اس چیز کا ڈر نہیں ہے کہ ایران ایٹم بم بنا لے گا۔ اصل ڈر اس بات کا ہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں اور یہ سوچنے والی بات ہے۔ ان نام نہاد جہادیوں نے مسلمانوں کا جو امیج دنیا کو دیا ہے وہ اسی طرح کے حالات پیدا کرے گا۔

شیخ محمد یحیی، کراچی، پاکستان:
اس تنازعے کا بہترین حل یہ ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے والے ممالک اور امریکہ سب مل کر ایک ایسے معاہدے پر دستخط کریں جو جوہری توانائی کے استعمال کے بارے میں ہو۔ اور جو کوئی بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے اس پر تجارتی پابندی کے ساتھ ساتھ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے۔

عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان:
امریکہ افغانستان اور عراق میں بری طرح پھنس گیا ہے۔ ایران پر حملہ کرنے یا پابندیاں لگانا امریکہ کے لیے اسلامی ملکوں اور امن پسند عوام میں امریکہ کے لیے نفرت میں اضافہ کردے گا۔

جاوید سرکار، کوریا:
جن لوگوں کو خوفِ امریکہ لاحق ہے ان سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا وہ نماز بھی وائٹ ہاؤس کی طرف پڑہتے ہیں؟ آخر آج کے مسلمانوں کا ایمان اتنا کمزور کیوں ہو گیا ہے؟

فیروز جعفری، کراچی، پاکستان:
اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ امریکہ اپنے آپ کو دنیا کا چودہری سمجھنا چھوڑ دے اور مسلم ممالک کو اپنی رعایا۔ امریکہ کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار رکھ سکتا ہے۔ کوئی بہادر اور غیرت مند قوم امریکہ سے نہیں ڈر سکتی۔ ہاں پاکستان کے بزدل حکمرانوں کی اور بات ہے۔

آصفہ رشید، بہاولنگر، پاکستان:
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنے بڑے ملکوں کو تکلیف کیا ہے؟ کیا انھوں نے ایٹم بم بنانے سے پہلے کسی سے پوچھا تھا۔ خود تو ہر کام کیا ہوا ہے دوسرا کرے تو کہتے ہیں کہ اسلحے کی دوڑ۔ واہ جی واہ! اصل میں انہیں تکلیف یہ ہے کہ ایک چھوٹا اور مسلم ملک یہ کام کر رہا ہے۔ اور مسلم آگے نہ چلے جائیں۔ یہ پہلے کیوں نہیں اکھٹے ہوئے۔ کیا اسرائیل جو فلسطین اور بھارت جو کشمیر میں کر رہا ہے وہ ان کو نظر نہیں آتا۔

توقیر عالم، بہار، بھارت:
اللہ کی مہربانی ہے کہ ایران اپنی طاقت سے اپنی حفاظت کر رہا ہے۔ اس لیے کسی ملک کو اس بارے میں تعصب نہیں کرنا چاہیے۔

جانی بردی، لندن، برطانیہ:
اگر ایران، پاکستان اور اسرائیل کی طرح امریکہ کی کالونی ہوتا تو برطانیہ اور امریکہ کبھی نہیں چیختے۔

شریف خان، فرینکفرٹ، جرمنی:
کوئی ملک نہیں چاہتا کہ اسلامی ممالک ترقی کریں اور ان کو جواب دیں۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ تو کبھی نہیں چاہتے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بنائے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے۔ اگر اس پر پابندیاں لگتی بھی ہیں تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس سے پہلے بھی ایران پر بہت سی پابندیاں تھیں۔ بلکہ سب اسلامی ملکوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ کیا صرف جرمنی، فرانس، برطانیہ، چین ، امریکہ اور بھارت کو حق ہے بنانے کا کسی اور ملک کو نہیں ہے؟

عبدالواحد، بالٹی مور، امریکہ:
میرا دل کہتا ہے کہ چین اور روس کا موقف بہتر ہے اور اس پر کام کیا جانا چاہیے۔ میرا دماغ کہتاہے کہ ایران کو نیوکلئیر خواہشات سے دور رہنا چاہیے۔ امریکہ اور یورپ اقتصادی پابندیاں لگانے سے بالکل گریز نہیں کریں گے۔ مسلم ممالک اپنا دماغ کب استعمال کرنا شروع کریں گے۔

فیصل انعام، دبئی، متحدہ عرب امارات:
دنیا میں سب کو حق ہے کہ وہ اپنے ملک اور قوم کے لیے جو بھی اچھا قدم ہو وہ اٹھائیں۔ دنیا کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ سب کو جینے کا برابر حق ہے۔ کسی کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک ایک کر کے سارے ملکوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور باقی ساری دنیا چپ کر کے تماشہ دیکھنے کے لیے ہے۔ کسی قسم کے مزاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف بےوقوفی ہے ان لوگوں کی۔

سید تقی شاہ، لندن، برطانیہ:
اس ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ ایران کو اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا پورا پورا حق ہے۔ جس طرح امریکہ اور مغربی ممالک کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کا حق ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر ایران کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔ ہمیں تاریخ میں دیکھنا ہوگا کہ کس نے معصوم لوگوں پر ایٹم بم برسائے؟ امریکہ اور مغربی ممالک کو پہلے اپنے ہتھیار تلف کرنے ہوں گے اور پھر ایران سے مطالبہ کرنا ہوگا۔ خدا ایران کی شیطان سے حفاظت کرے۔

سعید بٹ، لاہور، پاکستان:
اس مسئلے کا ایک ہی حل نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جیسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کے جوہری معاملے میں چشم پوشی کر رکھی ہے ویسے ہی ایران کے ساتھ بھی کیا جائے یا پھر افغانستان اور عراق کی تاریخ دہرائی جائے۔ ایسا کرنا امریکہ کے لیے بہت آسان ہے کیونکہ اسے کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں۔

یاسمین، لاہور، پاکستان:
ایک قاری نے اپنی رائے میں فرمایا ہے کہ ’مجھے ڈر ہے کہ ایران کا حاک عراق جیسا نہ ہو۔۔۔‘ افسوس! یہی نام نہاد مسلمان پورے عالم اسلام کو لے ڈوبے ہیں۔ مومن صرف اللہ سے لارتا ہے۔ یہی ڈر ڈر کر ان لوگوں نے ان نام نہاد ’پاورز‘ کو شیر بنا دیا ہے۔ امریکہ کو کیا ویتنام بھول گیا؟ عراق اور افغانستان میں بھی اس کی کیا عزت رہ گئی ہے؟ میری رائے ہے کہ ایران ڈٹ کر ان پاورز کا ہر میدان میں مقابلہ کرے۔۔۔

محمد خان، دبئی:
انصاف کا تقاضۃ ہے کہ پہلے مغرب اسرائیل کو روکے۔ اگر نہیں روک سکے تو پھر ایران کو یا کسی اور ملک کو روکنے کا کوئی حق نہیں۔

خان پٹھان، کینیڈا:
میرے خیال میں مسلم ممالک کو اپنے عوام کا سوچنا چاہیے۔ جیسے پاکستان میں لوگ بھوکے ننگے ہیں پر ہم اپنے ایٹم بم پر خوش ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایران کے عام آدمی کا بھی یہی حال ہے۔

اسحاق ملک، ملتان، پاکستان:
اگر پاکستان اور عربوں کی طرح ایران بھی امریکہ کو اپنا آقا تسلیم کر لے تو ممکن ہے امریکہ کی شرانگیزی ختم ہو جائے۔ لیکن ایرانی عوام بہت غیرت مند، دلیر، مومن اور ظالم کے آگے سر نے جھکانے والے لوگ ہیں۔ اس لیے اب یہ کشمکش چلتی رہے گی۔ مگر فتح آخر حق کی ہوگی۔

عاصف ججہ، کینیڈا:
ایران پر اقتصادی پابندیاں لگانا صرف امریکہ چاہتا ہے تاکہ اس کے تیل پر کنٹرول کر سکے۔ میرے خیال مںی ایران کو پورا حق ہے اپنا دففاع کرنے کا بالکل ایسے ہی جیسے امریکہ، روس، چین یا انڈیا کو ہے۔ اس طرح تو امریکہ پر بھی اقتصادی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔ امریکہ عراق کے بعد اب ایران اور پھر شمالی کوریا اور اس کے بعد پاکستان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

محمد بلال، ملتان، پاکستان:
مجھے ڈر ہے کہ ایران کا حال بھی عراق جیسا نہ ہو۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات:
اقیصادی پابندیاں لگانا مسئلے کا حل تو بالکل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے کس دن سامنے آئیں گے یا پھر ان کا اب بس نام ہی رہ گیا ہے جیسا کہ ہم جیسے عام لوگوں کے سامنے بھی آ رہا ہے۔ میں سو فیصد چین کے موقف کے حق میں ہوں۔ اگر ایران کا موقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے تو اس کی بات کا یقین کرنا چاہیے۔ کیا صرف مسلم ممالک کو ہی ہر دفعہ دبایا جائے گا؟

شہزاد میاں، امریکہ:
میرے خیال میں اگر ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، اس کا مطلب ایران کو بم بنانے کے مترادف ہے۔۔۔بہترین حک مزاکرات ہیں۔۔۔میں چین اور روس کے موقف کی حمایت کرتا ہوں۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد، پاکستان:
شمالی کوریا کھلے عام یہ کہتا ہے کہ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہوں، میرا حق ہے کیونکہ دفاع ہر ملک پر لازمی ہے۔ مگر اس کی طرف تو یہ لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ آخر ایران جو کہ بار بار کہتا رہا ہے کہ تم لوگوں کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ ایران کا معائنہ کریں کہ اس کا جوہری پروگرام توانائی کے حصول کے لیے ہے یا ہتھیار بنانے کے لیے۔ مگر اس کے باوجود یہ ایران پر یقین نہیں کرتے۔ اس لیے کہ ایران ایک اسلامی ملک ہے۔۔۔

دلدار اسلم، دبئی:
ایران اگر روس میں یورینیم کا کام قبول کر لے تو ہو سکتا ہے یہ مسئلہ حل ہو جائے۔ اگر امریکہ نے فیصلہ کر لیا کہ ایران پر حملہ کرنا ہے تو روس اور چین کچھ نہیں کر سکتے۔

آزاد عزیز، متحدہ عرب امارات:
دیکھیں جی ایران جو کچھ بھی کر رہا ہے، یہ رد عمل ہے۔۔۔اگر برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ جوہری پاور بنیں تو ایران کیوں نہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ ایک مسلم ملک ہے؟ یہ ظلم ہے۔۔۔روس اور چین بالکل صحیح ہیں۔ میں پرزور حمایت کرتا ہوں ایرانی جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کی۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
امریکہ اور یورپی یونین کا ایران کے جوہری پروگرام کے ابرے میں موقف سراسر منفقانہ ہے۔ یہی ممالک جہاں خود جوہری پاور ہیں وہیں اسرائیل کی پشت پناہی میں صبح و روز لگے رہتے ہیں۔ کیا ان کو اپنا آپ یا اسرائیل نظر نہیں آتا؟حل تو ایک ہی ہے کہ اسرائیل سمیت یہ تمام ممالک پہلے اپنے جوہری ہتھیار تباہ کر دیں، اس کے بعد ایران سے کہیں۔۔۔

عبدالرازاق، لاہور، پاکستان:
اس کا بہتر حل یہ ہے کہ سب سے پہلے اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کو بند کرے اور یہ سب مغربی طاقتوں کو بھی دیکھنا چاہیے اور مسلمانوں کو اس مسئلے پر سختی سے سٹینڈ لینا چاہیے۔ سب سے پہلے انصاف ہونا چاہیے پھر مغربی ممالک کی بات میں وزن ہوگا، نہیں تو آج ایران کا مسئلہ ہے، پھر کوئی اور اور پھر کوئی اور ہوگا۔۔۔

ساجد سرور، کویت:
میرے خیال میں ایران کو اپنا جوہری پروگرام بند کرنا ہوگا کیونکہ وہ امریکہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ اس سے بہتر ہے کہ وہ خاموشی سے اپنی اقتصادی حالت بہتر بنائیں۔

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد، پاکستان:
مجھے یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ امریکہ یا کسی اور یورپی ملک نے اسرائیل کے جوہری پروگرام پر کبھی بات بھی نہیں کی ہے مگر جب بات عراق یا ایران کی آتی ہے تو یہ ممالک آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔اور سونے پر سہاگا ہمارے ملک کے حکمرانوں جیسے حامی بھی ان کو مل جاتے ہیں۔

جہانگیر مغل، باغ، کشمیر:
ایران کو حق ہے جوہری ہتھیار بنانے کا کیونکہ امریکہ اسرائیل کی مدد کر رہا ہے اور دوسری طرف ایران کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔

ریاض فاروقی، دبئی:
یورپ اور امریکہ، دونوں اس اشو پر تو بات ہی نہیں کر رہے کہ اسرائیل کا جوہری پروگرام بند ہونا چاہیے، بس جن ممالک سے ان کی نہیں بنتی، ان کے پیچھے پڑے ہیں۔

محمود احمدی نژادان کی جڑیں فلسطین میں نہیں ہیں
اسرائیل کے لیے اپنی زمین میں سے جگہ دے دیں
اصفہان کا ایٹمی پلانٹایران کا فیصلہ ہونے کو ہے؟
ایٹمی توانائئ ایجنسی ایران پر رپورٹ تیار کر رہی ہے
فوجی حل پر اتفاق
ایران پر حملے کی تجویز پر امریکی سینیٹر متفق
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد