گیارہ ستمبر کے حملوں کے چار برس ہوچکے ہیں۔ ان چار برسوں میں پوری دنیا کی نظر امریکہ پر مرکوز رہی ہے۔ امریکہ نے پہلے افغانستان میں حملہ کرکے طالبان کو اقتدار سے باہر کیا۔ پھر عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کی جانب سے خودکش حملے بھی ہوتے رہے۔ اور اس عالمی گاؤں میں عام لوگوں کی دلچسپی بین الاقوامی سیاست میں کافی رہی۔ سعودی عرب نے پہلی بار انتخابات کرائے، مصر میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو انتخاب لڑنے کا موقع ملا، کویت نے سیاسی اصلاحات جاری رکھیں، لیبیا نے وسیع تباہی کے ہتھیار امریکہ کے حوالے کیے، فلسطینی اور اسرائیلیوں نے پیش رفت کی، اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت کے لئے دباؤ میں اضافہ ہوا، اسامہ بن لادن نہیں پکڑے گئے، عراق میں مزاحمت جاری رہی، جارج بش اور ٹونی بلیئر انتخابات میں کامیاب رہے، صوبہ سرحد میں فوجی کارروائی جارہی رہی، وغیرہ وغیرہ۔ آپ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کے چار برسوں کو کیسے یاد رکھیں گے؟ مشرق وسطیٰ کی سیاست کیسے بدلی؟ افغانستان اور عراق کی حالت پہلے سے اب مختلف کیسے ہے؟ دہشت گردی مخالف امریکی جنگ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
قادر قریشی، ٹورانٹو: گیارہ ستمبر سے جو نقصان مسلمانوں کو ہوا وہ الگ مگر غیرمسلمانوں میں اسلام کے حوالے سے معلومات میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ قمر جاوید، فیصل آباد: اسلام علیکم برودر، آپ میری بات نہیں شائع کرتے کیوں کہ میں امریکہ کے خلاف ہوں۔ شاید آپ ان لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جو امریکہ اور یورپ کے حق میں ہیں۔ گیارہ ستمبر نے حتمی طور پر دنیا کو بدل ڈالا۔ لیکن یہ سب مسلمانوں کے بارے میں، مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی کے خلاف نہیں۔ گیارہ ستمبر پاکستان، افغانستان اور عراق کے لئے پلان تھا کیوں کہ امریکہ ایک طاقت ہے جس سے کوئی کچھ پوچھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔ امتیاز محمود، یو کے: مغربی قوموں نے اس وقت ترقی کی جب مذہب کو ریاست سے الگ کیا گیا اور جمہوریت کی حکمرانی شروع ہوئی۔ مسلم قوموں کی ضرورت ہے کہ ان کو تعلیم اور دیگر امداد سے جمہوریت کی جانب بڑھایا جائے۔۔۔۔۔ محمد عاطف، پاکستان: گیارہ ستمبر کے بعد خوف اور دہشت کے سال تھے، بلکہ یہ دہشت اب تک بھی جاری ہیں۔ پوری دنیا کے مسلم بش سے ڈرے ہوئے ہیں تو غیرمسلم پر اسامہ کا خوف ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف امریکن جنگ بھی بڑی عجیب ہے جس میں اب تک کوئی دہشت گرد تو نہیں مرا، بلکہ لاکھوں بےگناہ لوگ مرگئے۔ کیا بش بےگناہ لوگوں کا خون بہاکر دہشت گردوں کے مشن کی تکمیل نہیں کررہا؟ سلطان شاہ، فرانس: بلاشبہ بےگناہ لوگوں کی ناگہانی موت پے جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ مگر گیارہ ستمبر نے طالبان اور صدام جیسے جابر حکمرانوں سے امت مسلمہ کو نجات دلائی اور سرزمین پاکستان سے دہشت گردوں کے خاتمے کا آغاز ہوا۔ ایم فہیم، پرتگال: ہم مسلمانوں پر ان چار سالوں میں جو کچھ ہوا وہ ایک نہ بھولنے والا حادثہ ہے ہم اب ان قوموں میں شمار ہونے لگے ہیں جن کو اب دنیا اچھی نظر سے نہیں دیکھتی۔ ہم سب کو ایک ملت کی طرح اس مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج اسلام دشمن کی نظر ہم سب پر ہے۔۔۔۔ ندیم مراد بلوچ، ساؤتھ افریقہ: چند لوگوں کی خطا، قوموں نے پائی ہے ناکردہ گناہوں کی سزا، چار سالوں میں اٹھے اتنے جنازے کہ یہ ہر وقت لگے، موت دیوار پر لٹکی ہے کہ دو دھاری شمشیر، اور مسلمان کا مسلمان بھی کہلانا ہوا ہے تقصیر۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: انہوں نے افغانستان اور عراق میں جو کچھ کیا ہے وہ کس ضمرے میں آتا ہے، دہشت گردی یا دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ جو ہزاروں لاکھوں بےگناہ مارے گئے وہ کس کھاتے میں ڈالے جائیں گے؟ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: دنیا اور خطرناک ہوگئی ہے، اور امریکن اور برطانوی لوگ بھی اس قتل عام میں شامل ہیں، جو عراق اور افغانستان میں ہوا۔ کیوں کہ ان کے عوام نے پھر ان ہی لیڈروں کو صدر اور پی ایم بنایا جو اس گناہ میں شامل تھے۔۔۔۔ شاہوار اکبر، لاہور: سیاست سے قطع نظر جو چیز میں نے محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی جان کی قیمت صرف امریکہ میں ہے، دنیا کے کسی اور گوشے میں اگر خون بہتا ہے تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ مہر افشان ترمزی، سعودی عرب: ظاہر ہے کہ چار سال ظلم اور بربریت کے حوالے سے ہی یاد رکھے جائیں گے، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بظاہر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے، افغانستان اور عراق پہلے اپنوں کے ظلم کا شکار تھے اور اب غیروں کے۔ بس فرق اتنا ہے کہ اپنا مرتا تھا تو چون میں ڈالتا تھا، دراصل یہ دہشت گردی مخالف جنگ تھی ہی نہیں، یہ خود دہشت گردی تھی جو اب تک ہورہی ہے اور اس کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے: قدرتی وسائل پر قبضہ اور سائیڈ پروفِٹ کے طور پر اسلحے کے کاروبار کا منافع اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں سے چھٹکارا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: مجھے تو گیارہ ستمبر ہمیشہ یاد رہے گا۔ میں کوریا سے چھٹی لیکر آیا تھا، بس اس کے بعد گیارہ ستمبر ہوگیا اور میں واپس جا نہ سکا۔ مجھے تو اس سے مایوسی ہوئی، قصور کس کا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ محبوب، جرمنی: ۔۔۔۔ گیارہ ستمبر کا واقعہ ہمیں یکجان ہونے اور امن کے ساتھ رہنے کا سبق دیتا ہے۔ طاقت اور دہشت گردی سے مسائل نہیں ہوتے، بلکہ اور زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ بلال خان، اسلام آباد: اگر پیچھے مڑکر دیکھیں تو گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ نے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا پاکستان نے، مگر پھر بھی ہمارے لیڈر امریکہ کے ہر اشارے پر دم ہلانے لگتے ہیں۔ محمود احمد بٹ، قطر: خواہ مخواہ ادھر ادھر کی باتیں کرکے کمزور لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے جو گیارہ ستمبر کے ذمہ دار تھے وہی اب پوری دنیا سے دہشت گردی ختم رکتے کرتے سب سے بڑا دہشت گرد بن گئے ہیں۔۔۔۔ ثاقب محمود، کچنر: ان چار برسوں میں ہم نے میڈیا پر صرف تین دہشت گردوں کے نام ہی سنتے دیکھتے رہے ہیں، بش، ٹونی بلیئر اور اسامہ بن لادن۔ جس دہشت گردی کا بازار بش اور بلیئر نے گرم کر رکھا ہے اس کو دیکھیں تو اسامہ تو ان کے پاؤں کے خاک کے برابر بھی نہیں ہے۔ خود حساب لگا لیجئے گیارہ ستمبر میں کتنے لوگ مرے تھے اور افغانستان/عراق کی جنگوں میں کتنے لوگ مرچکے ہیں اور ابھی مررہے ہیں۔۔۔ ناہید ورک، کینیڈا: ستمبر گیارہ کے بعد سے دنیا کا نقشہ ہی چینج ہوگیا ہے اس کے بعد سے ہزاروں معصوم مسلمان مررہے ہیں، مسلمانوں کا دنیا میں ریکارڈ خراب ہو گیا ہے، اس میں نہ صرف مسلمان مررہے ہیں، بلکہ امریکہ کی جو آرمی عراق میں ہے وہ بھی تو روز مررہی ہے، جو ظالم ہیں وہ تو آرام سے ہیں اور جو معصوم ہیں وہ مررہے ہیں۔۔۔ عبداللہ قریشی، دلبدین: ایک وقت تھا کہ کوئی مسٹر بش کے نام سے واقف نہیں تھا۔ میں اس وقت آٹھویں کلاس میں زیرتعلیم تھا، مجھے میڈیا سے کوئی انٹیریسٹ نہیں تھی لیکن جب امریکہ پر دہشت گردی کا جو حملہ ہوا اسی دن سے مجھے میڈیا سے لگاؤ ہوا، مجھے کھ پتہ نہیں تھا کہ امریکہ ہے کیا اور مسٹر بش ہیں کون۔ نائین الیون کو جو حملہ ہوا اس نے مجھے سب کچھ بتادیا، اس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا۔۔۔۔ شمیم ببلی، بالٹیمور: ۔۔۔۔۔ (واضح نہیں) امریکہ کے ایجنٹ اسامہ کی وجہ سے ہوئے ہیں، ایسے لوگ ہی اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں جو کہ معصوم لوگوں کو مارتے ہیں، ان کا کوئی مذہب نہیں یہ صرف شیطان ہیں، جو جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ نامعلوم: آپ کو یہی یاد رہا اور قائد اعظم کی وفات کو بھول گئے۔ چلو ایک چیز تو امریکہ اور پاکستان میں مشترک ہوئی کہ گیارہ ستمبر کو پاکستان میں بھی سوگ، امریکہ میں بھی۔ اسد نعیم، پاکستان: جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ مسلمانوں کو صرف اتحاد کی ضرورت ہے اور کسی چیز کی نہیں۔ میں کبھی بھی امریکہ کو الزام نہیں دیتا، سب غلطی ہماری ہے کہ ہم اتنے کمزور ہیں، کوئی پلاننگ نہیں کرسکتے، کوئی محنت نہیں کرتے بس دوسروں پر ڈیپینڈ کرتے ہیں۔ جب ایسا کریں گے تو جو دوسروں کا جی چاہے گا وہ کریں گے۔ شیخ عبدالشفیل شیخ، ابوظہبی: میرے خیال میں اس حملے کے بعد ہم کو اور دنیا کے ہر ملک کو یہ سوچنا چاہئے کہ یہ ایسا کیوں ہوا ہے اور اس کے بعد جو بےگناہ لوگ مارے گئے ہیں ایسا کیوں ہوا۔ اور اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں جو امریکہ یا اور ملک والے ان بےگناہ لوگوں کو مارکر دہشت گردی ختم کرسکتے ہیں۔۔۔ میرے خیال میں اس طرح سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ عدنان رشید چھٹہ، حفیظ آباد: یہ چار سال غیرمسلموں، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ، کی ظالمانہ کارراوئیوں، عراقیوں کی ہمت، کے لئے یاد رکھے جائیں گے۔ کریم خان، ایڈمنٹن: صرف اس ایک واقعے کی وجہ سے اب ہزاروں واقعات روزانہ ہوتے ہیں۔ اسی ایک واقعے نے پوری دنیا کو ہی بدل دیا۔ یہاں تک کہ الفاظ کے معنی ہی بدل گئے۔ مسلمان دہشت گرد ہوا، شہید ہلاک ہوا، جہاد جرم ہوا، ملک کی حفاظت غداری ہوئی، امریکہ کی خوشنودی روشن خیال ہوئی، مذہب قدم پرستی ہوا، اور نہ جانے کیا کیا۔ جہاں زیب، رگبی، یوکے: گیارہ ستمبر اور عالمی گاؤں میں ایک نئی اسکول، ماسٹر جارج بش حاضری لے رہے ہیں۔ رول نمبر ایک افغانستان، رول نمبر دو عراق، رول نمبر تین ایران، رول نمبر چار پاکستان (سرکار پاکستان نے رخصت کی درخواست دی ہے)۔۔۔۔ سید فرحان خان، انڈیا: دہشت گردی کو اب دنیا بھول گئی ہے، اب یاد رہا تو صرف امیریکنِزم، جو ٹیرورِزم سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے۔ فیصل انعام، دبئی: اس میں یاد رکھنے کی کیا بات ہے؟ کیا صرف امریکہ ہے جس کو یاد رکھا جائے؟ دنیا میں اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں یاد رکھنے کے لئے۔ ان کو یاد رکھیں جن کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کو یاد رکھیں جن کے لوگ جنگوں میں مررہے ہیں، ان کو یاد رکھیں جن کے پاس رہنے کے لئے گھر نہیں ہیں، ان کو یاد رکھیں جن کے پاس پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔۔۔۔۔ علی کاظمی، وِنڈسر، کینیڈا: امریکہ نے القاعدہ کو پیدا کیا، اور گیارہ ستمبر کو اس کا نام لیکر اسلامی تہذیب پر دھاوا بول دیا، اور ابھی بھی معصوم مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ یہ امریکہ کی سوپر پاور کی حیثیت کے خاتمے کا آغاز ہے۔۔۔۔ شہزاد قاضی، ٹورانٹو: میں سمجھتا ہوں کہ گیارہ ستمبر کے چار سال پلان کے مطابق جارہے ہیں، چھوٹے واقعات کو چھوڑ کر جو پلان کے مطابق نہیں واقع ہورہے، جیسے افغانی اور خطرناک عراقی مزاحمت۔۔۔۔ سعید احمد بیگانہ، جاپان: گزرے چار سال بےحد برے دن تھے اور نتیجہ ابھی تک اپ سب کے سامنے ہے، بلکہ بش اور امریکہ کا بھیانک چہرا دنیا کے سامنے آچکا ہے اور نتیجہ صفر جمع صفر برابر۔۔۔۔ علی خان، سول، جنوبی کوریا: بالکل اسی طرح جیسے ایک طالب علم اپنے کالج کی لائف کو یاد کرتا ہے، یہ چار سال تمام مسلمان کبھی نہیں بھولیں گے اور نہ ہی بھولا پائیں گے کیوں کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان شہریوں کا قتل ہوا۔ دو ممالک کو لوٹا گیا اور بیسیوں سے اپنے کو سجدہ کروایا گیا جس میں پاکستان اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ پاکستان تو اس لئے کہ جب مغرب میں پٹاخہ یا بم پھٹتا ہے تو کارروائی وزیرستان میں ہوتی ہے اور مدرسوں کے طالب علم پکڑے جاتے ہیں۔۔۔ محمد فراز، کراچی: گیارہ ستمبر کے بعد دنیا کے سامنے دو ہی راستے تھے، یا تو وہ اسلامی دہشت گردی کا انتخاب کرے یا سامراج (امریکہ) کی دہشت گردی کا۔ طاقت سامراج کے پاس تھی اس نے اپنی دہشت گردی دنیا میں نافذ کردی۔ اسلام پسند ہاتھ ملتے رہ گئے۔ میں نہ ہی گیارہ ستمبر کو سپورٹ کرتا ہوں اور نہ ہی امریکہ کی دہشت گردی کو۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد ان اسلامی ملکوں میں جمہوریت اور انسانی آزادی کی باتیں ہوئی ہیں جہاں اب تک پہلے اسلام کی چھتری کے نیچے لوگوں کے حقوق ضبط کیے جارہے تھے۔ اب بھی وقت ہے کہ اسلام اپنے سیاسی نظام میں ایک عام انسان کو شامل کرے، اور عورت اور مرد کو برابر کا حق دے۔ نہیں تو جنگ کا رخ سعودیہ یا کسی اور کی طرف کرتے ہوئے سامراج کو دیر نہیں لگتی۔ سرفراز علی، لندن: گیارہ ستمبر کے بعد نام نہاد جمہوریت پسند دنیا ایک غیرشناخت شدہ دشمن کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ میں شامل ہوئی ہے۔ انہیں اس جنگ سے کیا ملا وہ مستقبل کے تاریخ دان بھی بتا پائیں گے۔ لیکن ایک بات واضح یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں سوشل لیبرٹی، آزادئ تقریر، جمہوریت کی روح جس کے لئے یہ ممالک کوشاں رہے ہیں، (کو نقصان پہنچا ہے)۔۔۔۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: یہ ظلم سے بھر پور چار برسوں میں زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گا۔ ان چار برسوں میں افغان اور عراق کے داخلی اور مظلوم لوگوں کی آہیں اور سسکیاں میرے آنگن پر ساری عمر دستک دیتی رہیں گیں۔ بش اور ٹونی بلیئر نے ان چار برسوں میں مسلمانوں کی بےبسی کے ساتھ خوب خوب کھیل کھیلا، افسوس ان کو پتہ نہیں کہ یہ کرسی، حسن، جوانی، ڈھلتی پھرتی چھاؤں ہیں۔۔۔۔ ایم تسلیم اختر، ابوظہبی: میری نظر میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد پاکستانی پالیسی میں جو واضح فرق آئی ہے اس کا خیرمقدم کرنا چاہئے اور دہشت گردی کو ہر صورت میں گھر سے اکھاڑنا چاہئے جس کے لئے امریکہ بہت اچھا رول پلے کررہا ہے۔ اب امریکہ کو دنیا کے برنِنگ ایشوز جیسے کشمیر اور فلسطین کو حل کرنے کے لئے بولڈ اقدام کرنے چاہئیں جس سے مسلمان لوگوں میں امریکہ کے لئے اچھا تاثر پیدا ہو۔
|