BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 June, 2005, 00:43 GMT 05:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مائیکل جیکسن کیس: آپ کی رائے
اس کیس پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی نظر تھی
اس کیس پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی نظر تھی
دنیا کے شاید سب سے زیادہ جانے پہچانے گلوکار مائیکل جیکسن بچوں سے جنسی تعلق کے تمام الزامات سے بری ہو گئے ہیں۔ ان پر ایک تیرہ سالہ لڑکے سے زیادتی کرنے، اسے اغوا کرنے کی سازش کرنے اور ایک کم سن کو الکوہل پلانے سمیت دس الزامات تھے۔

آٹھ خواتین اور چار مردوں پر مشتمل بارہ رکنی جیوری نے سولہ ہفتے تک کیلی فورنیا کے شہر سانتا ماریا میں جاری رہنے والی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔


اس فیصلے پر آپ کا ردِ عمل کیا ہے؟ آپ ذرائع ابلاغ میں اس مقدمے کی کوریج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اپنے خیالات لکھ کر ہمیں بھیجیے اور دوسروں کو ان سے آگاہ کیجیے۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔



محمد علی قریشی، پاکستان:
مجھے تو پہلے ہی یقین تھا کے مائیکل جیکسن بے گناہ ہیں۔ یہ مائیکل کے بلیک ہونے کی وجہ سے اور ان کی شہرت کو خراب کرنے کے لیے سازش تھی۔

تحسین آفتاب، کویت:
فیصلہ ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی جس کے پاس پیسہ ہے آپ اس کا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

محمد عقیل، انڈیا:
میرے خیال میں ’ایم جے‘ کے خلاف واضح ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے۔

محمد احسان الحق، پیرس، فرانس:
یہ بہت اچھا فیصلہ ہوا ہے۔ بی بی سی بہت اچھی ویب ساائٹ ہے۔ میں روزانہ صبح اسے پڑھتا ہوں۔

سید ضرغام الدین، دبئی:
پیسہ بولتا ہے۔

جاوید سوراتھیہ، امریکہ:
معلوم نہیں کورٹ روم میں کیا ہوا تھا، جج کو مائکل کی کون سی بات اچھی لگی ہوگی۔ یہ وہ بلیک پوپیولیشن کے دباؤ میں آ گیا تھا۔ مائکل اگر مجرم تھا تو اسے پیسے نے بچا دیا۔ مگر اگر وہ بے گناہ تھا تب بھی ہم جسٹس سِسٹم کو کیسے مان سکتے ہیں؟ جسٹس سِسٹم دنیا میں ہر جگہ کرپٹ ہے اور صرف پیسے اور طاقت والوں کے لیے ہے۔ جیکسن نے تقریباً پانچ سے سات ملین ڈالر خرچ کیا، تب جا کر بری ہوا۔

مسعود رحمان، امریکہ:
جیسا کہ عدالت نے بھی اپنا فیصلہ مائیکل کے حق میں سنادیا ہے اور مجھے بھی پورا یقین ہے کہ مائیکل بےقصور ہے، اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ ہے امریکی معاشرہ جہاں زندگی کے ہر پہلوں اور ہر ایشو کو سیکس کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر دو لڑکے ہاتھ پکڑ لیں تو وہ گے ہوجاتے ہیں، اگر دو لڑکیاں ایک دوسرے کو گلے لگالیں تو وہ لیسبین ہوجاتی ہیں۔ کیا انسانی قدریں کوئی انسانیت کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا؟

ناصر مروت، اونٹاریو:
امریکی نظام انصاف کا ڈبل اسٹینڈرڈ۔۔۔۔

ثاقب رانا، امریکہ:
یہ ایک اچھی مثال ہے کہ امریکہ کیوں ایک عظیم ملک ہے، یہاں سب کے لئے انصاف ہے، اور کسی کو بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ اچھا ہوتا کہ ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔

عارف جبار قریشی، سندھ:
مائیکل جیکسن ایک بیسٹ سِنگر ہے لیکن بیسٹ انسان نہیں، ویسے عدالت کی طرف سے ان کو چھوڑ دینا اچھا ہے کیوں کہ ان کا کیس بلیک میلِنگ کے سوا کچھ نہ تھا۔

خواجہ اویس پپو:
مائیکل تھا بری ہوگیا، اگر پٹھان ہوتا تو پکڑا جاتا۔۔۔

محمد امین جاوید، راجپور، پاکستان:
میرے خیال میں مائیکل ایسا نہیں کرسکتے، یہ سب الزام لگائے گئے ہیں۔

ہدایت اللہ خان، بنوں:
یہ فیصلہ جو ہوا ہاں بہت اچھا ہوا ہے۔ اگر اس نے یہ جرم کیا ہے تو اس کو اس کی سزا بہت جلدی اللہ کی طرف سے مل جائے گی۔۔۔۔

عتیق وردک، کراچی:
اگر مائیکل جیکسن بےگناہ تھا تو ٹھیک ہے اور بی بی سی نے اس کوریج میں کافی مدد کی ہے۔

جاوید حسنین، پشاور:
ہمیں اپنے مسائل پر توجہ دینا چاہئے، امریکہ اور یورپ میں تو روز اس طرح ہوتا ہے، وہاں تو۔۔۔۔

سریر احمد، سرینگر:
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس طرح کے بےشرمی والے فعل کو اتنی کوریج ملی۔ چونکہ بی بی سی ایک بڑا نیوز نیٹورک ہے اس لئے لوگ امید کریں گے کہ بی بی سی ہر چھوٹی اور بڑی خبر کی کوریج کرے۔

خرم احمد، فینِکس:
مجھے نہیں لگتا کہ جیکسن معصوم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ چند برسوں پہلے جب ایک بچے نے اس پر الزام لگایا تو اس نے کئی ملین ڈالر دیے۔ اگر وہ معصوم تھا تو اس وقت اس نے اسے عدالت کیوں نہیں لے گیا؟ عدالت سے باہر معاملہ کیوں ہوا؟

قادر قریشی، ٹورانٹو:
امیر لوگ جیل نہیں جاتے۔۔۔۔

غلام فرید شیخ، سندھ:
کسی کو بھی پاپولر کرنے کے لئے یہ کافی ہے۔ ہمیں کیا پتہ کہ وہ بےگناہ ہے یا گناہ گار۔ اس نے یہ جرم کیا ہے یا نہ؟ لیکن بات یہ ہے کہ کیا ضرورت ہے کہ کسی کو حد سے زیادہ کوریج دی جائے اور اس کی پرسنل لائیف میں داخل ہونے کی کوشش کی جائے۔

عبدالمجید، عمان:
اسے جتنی میڈیا کوریج ملی اتنی نہیں ملنی چاہئے تھی۔۔۔

الطاف خان، یو کے:
کیوں کہ مائیکل ایک کالا عیسائی ہے اگر اس کو سزا ہوجاتی تو امریکہ میں کالے گورے کے فسادات شروع ہوجاتے، جیسا کہ اس سے قبل بھی سی اے میں ایسا ہوچکا ہے۔ اسی لئے سزا سے بچایا گیا ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
یہ سب سکینڈل تھے اور مائیکل جیکسن کو بدنام کرنے کا ایک سستا طریقہ تھا جس میں مائیکل کے مخالفین کو شکست ہوئی۔

عرفان سہیل ملک، چکوال:
میرے خیال میں اس قسم کا کیس کسی بھی انسانی شخصیت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ اب میڈیا کو چاہئے کہ مائیکل جیکسن کے بارے میں نیک خیالات کا اظہار کریں تاکہ پاپ سنگر اپنے کریئر کو آگے اچھے طریقے سے ہینڈل کرسکیں۔

ہارون چغتائی، امریکہ:
میرے خیال سے سفیدفام لوگ جیکسن کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ سیاہ فام ہے۔ زندگی میں بڑی کامیابی حاصل کرنے پر ہر سیاہ فام شخص کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، سفیدفام لوگ پسند نہیں کرتے۔۔۔

اللہ وڑایو بزدار، گھوٹکی:
مائیکل جیسکن لکی ہے کہ امریکہ میں اس کا ٹرائل ہوا۔۔۔۔

منظور بانیان، اسلام آباد:
اگر جیکسن معصوم تھا تو یہ اچھا فیصلہ ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، بالخصوصی بی بی سی، نے اس سماعت کو کافی کوریج دی ہے، میں بی بی سی اردو اور انگلش کا ریگولر قاری ہوں۔ اگر آپ بےقصور ہیں تو آپ کو سزا نہیں ہوسکتی۔ میں اس فیصلے سے مطمئن ہوں۔

محمد جمیل ہاشمی، کینیڈا:
بلاضرورت کوریج۔۔۔۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
اس میں کوئی شک یا شبہ نہیں ہے کہ بی بی سی اس وقت ایک عالمگیر نیٹورک بن چکا ہے اور دنیا بی بی سی کی نیوز اور تبصروں پر یقین رکھتی ہے اور بی بی سی کے نیوز کے ذرائع بھی بہت زیادہ ہیں۔ مائیکل جیکسن کے حوالے سے بھی بی بی سی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، حق کو حق کہا اور اپنا کام انتہائی دیانت داری سے کیا۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ سارے ورلڈ میں آئے روز جنسی زیادتی کے نہ جانے کتنے ہی کیس ہوتے۔ مغرب کو تو چھوڑیں ہم مسلمان ہیں اپنی بات کرتے ہیں، میں چکوال میں رہ رہا ہوں یہاں پھر نہ جانے کتنے ہی بچے مدرسوں میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں، مگر وہ کیا ہے کہ وہ سب کچھ انڈرگراؤنڈ ہوتا ہے۔ مسٹر مائیکل ایک جانے پہچانے سنگر ہیں اس لئے اس واقعہ کو زیادہ اچھالا گیا، بالکل اسی طرح جس طرح مسٹر بِل کلنٹن کا معاشقہ بہت پاپولر ہوا تھا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اس واقعے سے مائیکل جیکسن کی شخصیت متاثر ضرور ہوئی ہوگی۔

زریں ظفر، ٹورانٹو:
میرے خیال سے یہ انصاف نہیں تھا۔۔۔۔

احمد، امریکہ:
امریکی جیلوں میں قید تمام ’دہشتگردوں‘ کے لیے ایک ڈیفنس اٹارنی ہائر کرنے کی ضرورت ہے اور ہاں، ہمیں اسی جیوری کی بھی ضرورت ہوگی۔۔۔

محمد عقیل، شیکاگو:
یہ تو ہونا ہی تھا۔ آپ کو ہم کو سب پتہ تھا کہ ملک کی میڈیا کو مصروف رکھنے کے لئے یہ سب ڈرامہ رچانا ہی ہے۔ اس کی وجہ اگر میڈیا کے پاس کوئی خبر نہ ہوتی تو میڈیا عراق کی خبریں شروع کردیتا اور لوگ سوال پر سوال کرتے رہتے، اس لئے ایسے ہی ناٹک کیے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس میں بھی جیکسن اچھا خاصا۔۔۔۔

عدنان اقبال، امریکہ:
جیورے کے فیصلے سے قبل پچانوے فیصد امریکیوں کو یقین تھا کہ جیکسن غلط ہیں، اس کا مطلب ہے کہ میڈیا کوریج جیکسن کے خلاف تھا۔ فیصلے کے بعد بھی، میرے لئے تعجب کی بات ہے، کچھ میڈیا چینل ایسے ماہرین سے انٹرویو کررہے ہیں جو جیکسن کے تاریک مستقبل کے بارے میں بات کررہے ہیں۔

شاہد:
سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کہیں اور کیا نہیں۔۔۔

فراز حیدر، کراچی:
مائیکل بےقصور تھا اور یہ ثابت ہوگیا ہے۔ وہ پاپ کا کِنگ ہے اور اسے اس کی حیثیت واپس ملنی چاہئے۔

اسد امیر، کراچی:
یہ تو پہلے سے ہی طے تھا کہ ایک پبلِک فیگر کو ویسٹرن کنٹری میں سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ لہذا اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ مغربی معاشرے مکے لحاظ سے دیکھا جائے تو ویسے بھی یہ اتنا بڑا جرم بھی نہیں تھا۔ اگر مائیکل جیسک کو سزا دی جاتی تو مسلمانوں جن کو امریکیوں نے گوانتانامو بے میں قید رکھا ہوا ہے بغیر کسی الزام اور بغیر کسی قانونی حقوق کے، ان کے بارے میں کیا جواب ہوتا؟ بہر حال یہ امریکنز کی دغلی پالیسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔

رازق حسین، پاکستان:
سچ پوچھیں تو یہ انصاف کی جیت ہے۔ سیلیبریٹیز کے جہاں بہت سے مداح بنتے ہیں وہیں ان کے دشمن بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ جو کسی نہ کسی بہانے ان سے رقم بٹورنے اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انصاف پر مبنی اس فیصلے سے ایک عظیم فنکار کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ گیا ہے۔

عبدالشکور کانجو، دہرکی:
جیکسن کو بری کرنا انصاف کی کامیابی ہے۔۔۔۔

ریاض فاروقی، دبئی:
مائیک ٹائیسن کے بعد مائیک جیکس بھی جیل جاسکتے تھے لیکن قسمت نے ان کو بچالیا، عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ فیم حاصل کرنے کے لئے ایسے لوگوں پر الزامات لگادیتے ہیں جو کہ بہت سیریئس نوعیت کے ہوتے ہیں۔

خواجہ رضا، کینیڈا:
میں سمجھتا ہوں کہ مائیکل جیکسن معصوم تھا۔ وہ ایک آرٹِسٹ ہے اور وہ اتنا سوفیسٹیکیٹیڈ ضرور ہوگا کہ وہ بچوں نقصان نہ پہنچائے۔ میرے خیال سے لوگ ملینائر بننے کے لئے اس پر الزامات عائد کرتے ہیں۔

محمد علی، جیک آباد:
یہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ میں بہت خوش ہوں ان ججوں سے جنہوں نے یہ فیصلہ دیا ہے اور بہت جلدی اچھا فیصلہ دیا۔ اس کا نام ہے قانون۔

شاہد اقبال، ملتان:
مائیکل جیکسن پر جو الزام لگا تھا وہ بالکل ٹھیک تھا کیوں کہ وہ جب بھی اسٹیج پر آتا تھا اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی کمسن بچہ ہوتا تھا جس سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا تھا۔

نامعلوم:
سب یہی کہتے ہیں کہ مائیکل بےگناہ ہے، حقیقت میں یہ بڑا آدمی ہے اور ہر بڑے کے لئے اللہ کی پکڑ ہے۔۔۔۔

عمران جلالی، ریاض:
مائیکل جیکسن ایک اچھے انسان ہیں اور خاص طور پر مائیکل جیکسن جیسی بلندیوں اور شہرت کو چھونے والا کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرے گا جس سے اس کے کردار پر بدنما داغ لگ جائے۔ جہاں تک تمام الزامات کا تعلق ہے تو وہ تو ہر سیلیبریٹی پر لگتے ہیں اور عام طور پر جھوٹے ہی ثابت ہوتے ہیں۔

امان علی، نیوزی لینڈ:
میرے خیال میں جیکسن جنسی زیادتی کا دو سو فیصد مرتکب ہے۔

زبیر عباسی، لاہور:
میرے خیال میں تو مائیکل پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے۔ میں پہلے سے جانتا تھا کہ مائیکل پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوگا۔ جہاں تک بات ہے میڈیا کی تو مائیکل کا یہ کیس میڈیا کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ میڈیا پر زیادہ تر جھوٹے الزامات کے مقدمے بہت چلتے ہیں۔ میں مائیکل کے بری ہونے کے فیصلے پر بہت خوش ہوا ہوں۔ اور میڈیا کو اب چاہئے کہ وہ مائیکل کے بارے میں اچھی باتیں لکھیں اور ان کے کام کو سراہیں۔

66آپ کی رائے
پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہونی چاہیے؟
66آپ کی رائے
ازبکستان میں مظاہرین پر فوجی کارروائی
66آپ کی رائے
قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے کیا اثرات ہوں گے؟
66میرے ننھے فرشتے۔۔۔
عراق میں بچوں کی ایک نرس کی کہانی۔۔۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد