BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 20 May, 2005, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبکستان میں مظاہرین پر فوجی کارروائی
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں ہزاروں کی تعداد میں ہوسکتی ہیں
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں ہزاروں کی تعداد میں ہوسکتی ہیں
ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے حکومت مخالف مظاہرین پر فوجی کارروائی کے دوران ہلاکتوں کی انکوائری کرانے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تشدد کےدوران ایک سو انسٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں لگ بھگ سبھی اسلامی شدت پسند تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار ہوسکتی ہے۔ ازبکستان میں امریکہ اور روس کا فوجی اڈہ ہے۔

ازبکستان کے شہر آندیجان میں ہونے والے اس تشدد کی انکوائری کا مطالبہ اقوام متحدہ اور کئی ملکوں نے کیا تھا۔ برطانیہ اور امریکہ نے بھی اس انکوائری کی حمایت کی ہے۔وسطی ایشیا میں سابق سوویت یونین کی سب سے زیادہ آبادی والی اس ریاست کی آبادی 26 ملین ہے۔ ازبکستان کو 1991 میں آزادی حاصل ہونے کے بعد سے اسلام کریموف اقتدار میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام لگاتی رہی ہیں۔

ازبکستان میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ بین الاقوامی برادری کو کیا کرنا چاہئے؟ اور اگر آپ متاثرہ علاقے میں ہیں تو ہمیں تفصیل سے لکھیں۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔


محمد فراز، کراچی:
کوئی بات نہیں جناب جب روس بنا تو مسلمان مرا، جب روس ٹوٹا تو بھی مسلمان مرا۔ اور اب بھی مسلمان ہی مررہا ہے۔ جناب بات یہ ہے کہ روز ایک یا دو کی تعداد میں مرنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی دفعہ ایک ملین مر جائیں اور ملک کو ڈِکٹیٹر سے آزاد کرالیں۔ ازبکستان میں بھی یہی ہورہا ہے۔ اب آپ اس ریولوشن تو اسلام نا نام دیکر انٹرنیشنل کمیونیٹی پر دبانا چاہیں تو کوئی کیا کرسکتا ہے؟

محمود سید، لاہور:
انسانی حقوق کی ایجنسیاں کہاں ہیں؟ اقوام متحدہ کہاں ہے؟ دنیا کی طاقتیں کہاں ہیں؟ یہ کھلم کھلا ریاستی جرائم ہے۔ ازبکستان کے لوگوں کو کوئی حقوق نہیں ہیں، کوئی سیاسی حکومت نہیں ہے، یہ ایک دہشت گردانہ قدم ہے۔۔۔۔

سید قمر کاشف، کراچی:
میرے خیال سے اسلام کریموف ایک آمر اور جابر حکمران ہے۔ اور ازبکستان کی آزادی سے لیکر انیس سو اکیانوے سے حکومت پر قابض ہے۔ اگر کوئی اس کے قبضے کے خلاف جائے گا تو وہ ہر کام کرسکتا ہے، قتل عام تک جیسا کہ سب نے دیکھا۔

غلام فرید شیخ، سندھ:
مظاہرے کیوں ہوئے اس کا تو مجھے کوئی پتہ نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کے ڈیپ میں جانا چاہتا ہوں۔۔۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ امریکہ کو ایسا لیڈر چاہئے جو اس کا کہنا مانے جیسے کتا اپنے مالک کا۔۔۔۔

میاں عبدالحنان چودھری، فیصل آباد:
جب عوام پر ظلم بڑھ جائے تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے۔۔۔۔

فاروق خان، کویت:
مسلم دنیا میں ڈکٹیٹروں کو ویسٹرن طاقتیں حمایت فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ آزادی پر جبر کرسکیں۔۔۔۔

سیال خان وکی، پشاور:
اگر کوئی کرسچین یا دوسری برادری کے لوگ مارے جاتے تو امریکی اور یورپ شور مچاتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج کل مسلمان ہر جگہ مارے جاتے ہیں اور کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔۔۔۔

سونی خان، دوبئی:
اسلام کریموف نے انتہائی بزدلانہ کام کیا ہے۔ اپنے ہی عوام پر اپنی آرمی سے حملہ کروانا اور اس عوام پر جس میں نہتھے عورتیں اور بچے بھی ہوں۔ اگر کریموف لوگوں کی فکری کوشش کا مقابلہ اپنی فکر سے نہیں کرسکتا تو یہ اس کی اپنی کمزوری ہے جس کا بدلہ وہ نہتھے لوگوں پر گن کے اسعمال سے لےرہا ہے۔ کریموف کو سخت سزا ملنی چاہئے۔

عمر فاروقی، نیویارک:
وہابی اسلام کے نام پر دھبہ ہے۔ یہ لوگ ہر جگہ اسلام کے نام پر قتل و غارت میں مصروف ہیں۔ صدر صاحب نے جو کیا ہے وہ ویسے لوگوں کے لئے کم ہے۔

اشفاق خان، جرمنی:
تشدد کمزور اور خوفزدہ حکومت کی آخری کوشش ہے۔ یہ بہت بڑا تشدد ہے۔ ان کے خلاف حقوق انسانی کے بین الاقوامی ادارے اقدام کریں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
امت مسلمہ اس وقت شدید ترین پرابلمس کا شکار ہے، ازبک صدر کو اس انداز میں اپنے ہی شہریوں پر ظلم نہیں کرنی چاہئے تھی، احتجاج کا ہر کسی کو حق حاصل ہے۔ لیکن صدر اسلام کریموف نے یہ حق چھیننے کی کوشش کی ہے۔

طارق قادری، دوبئی:
اس اسلامِک کنٹری میں جو مسئلہ کھڑا کررہے ہیں وہ وہابی ہیں۔ صدر بےقصور ہیں۔ انہوں نے اچھا کیا۔۔۔

ریاض فاروقی، دوبئی:
فوج، معاشی بحران، ملازمت کا نہ ہونا، تعلیم ناپید ہونا، کرپشن یہ سب ملکوں کا مسئلہ ہے جو امریکی/یورپی نظام کو فولو کررہے ہیں، کیپیٹلِسٹ سوساٹی کے یہ سیلنٹ فیچرس ہیں اور اس پر کیا کمنٹ کریں، بس یہی کہہ سکتے ہیں ایسا دیس جیسا دیس ہے میرا۔

انور راجہ:
یہ حالات اب پاکستان میں بھی نظر آرہے ہیں، بہت جلد یہ سلسلہ پاکستان میں بھی شروع ہوجائے گا۔

عبدالسلام، پاکستان:
مسلمانوں کو اور بھی اس سے بدترین دن دیکھنے کا موقع ملےگا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ہماری اسلام سے دوری ہے۔ دنیا کیا کرے گی اس بارے میں، ویسٹرن ورلڈ تو ہی یہ سب کچھ کروارہا ہے۔۔۔۔

ساجل احمد، نیوادا، امریکہ:
اب بھلا کس طرح وہ اجازت دے سکتے ہیں انکوائری کی۔ مرنے والے سبھی مسلم ہیں اور اب امریکہ کو بھی نظر نہیں آئے گا کہ یہ صدر صدام کا دوسرا رخ بنتا جارہا ہے۔ ہونا تو چاہئے کہ جس طرح امریکہ پر عراق کے لوگوں کی مدد کے لئے جوش چڑھا ہوا تھا اسی طرح اب ازبکستان کے لوگوں کی بھی مدد کرے، ایسا ہوگا نہیں۔

عثمان لودھی:
اگر فوج نے شدت پسندوں کو مارا ہے تو میرے خیال میں بہت اچھا کیا ہے۔ اگر عام لوگوں پر گولی چلی ہے تو بہت برا کیا ہے۔

شیریار خان، سنگاپور:
کسی بھی ملک میں نظام حکومت کا کوئی معیار عالمی سطح پر طے نہیں ہے۔ کہیں پر قدرتی اشیاء کی دولت ہے تو وہاں الگ نظامِ حکومت قابل قبول ہے، کہیں پر فوجی طاقت زور پر ہے تو وہاں کا نظام اور ہے، کہیں پر مذہبی طاقت ہے اور کہیں پر جمہوریت کا زور ہے۔ ان سارے عوامل کو دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں قبول کیا جاتا ہے۔ ازبکستان میں بھی کسی نہ کسی عوامل کے زیراثر موجودہ تحریک چل رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظرِخاص اس وقت ازبکستان پر ہی ہے تو یقینا وہاں پر جمہوریت جلد اپنی حقیقی شکل میں ظاہر ہوگی۔

جاوید اقبال، اسلام آباد:
بےگناہ مسلم لوگوں کے ساتھ یہ شدید کارروائی ہے۔ ڈِکٹیٹر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں خدا کی طرح اختیار ہے۔۔۔

علی چشتی، کراچی:
ازبکستان میں جو ہوا وہ ہونا ہی تھا کیوں کہ وہاں پر ان اِمپلائمنٹ بڑھ گئی ہے، ڈیموکریسی نہیں ہے، لوگوں کو مذہب سے دور رکھا جارہا ہے، فری اسپیچ، پریس نہیں ہیں اور اس کے اوپر وہاں روسی اور امریکی اپنے انٹیریسٹ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ویسے میں یہ بےچارے ازبک کیا کریں؟

نصار خان، یو کے:
یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر اعوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن بدقسمتی سے اب جو بھی حکومت کے خلاف اٹھے گا ان کے خلاف اگر ازبکستان جیسی کارروائی ہوگی تو اپنے آپ پر پردہ ڈالنے کے لئے شدت پسندی کا نام دیا جائے۔ عالمی برادری کو اس واقعے کے خلاف سخت سے سخت آواز اٹھانا چاہئے۔ اور اسلام کریموف پر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں مقدمہ ہونا چاہئے۔

حافظ محی الدین، یو کے:
تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اظہر آرائین، ایڈمنٹن، کینیڈا:
یہ فطرت کا قانون ہے۔ اور مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق کے باوجود یہ قانون سب کے ساتھ ویسے ہی پیش آتا ہے۔ مختصر یہ کہ آزادی کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے، یہ دولت ہو، آپ کی فیملی ہو، یا پھر آپ کی زندگی۔

مصاب چودھری، شارجہ:
نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والی سوویت یونین کے کمیونزم نظام کا خاتمہ ایک فطری عمل تھا۔ جب کہ اس نظریے میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ لوگوں کے تمام طر زندگی کے معاملات کو حل کرسکے۔ اب اس نظریہ کے کولیپس کے بعد اگر نظریاتی طور پر اپنے نظریہ کو لوگوں تک پہنچاتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں کہ لوگ اس کو قبول کرلیں یا رجیکٹ کردیں۔۔۔(واضح نہیں)۔ ایسا ازبکستان اور باقی ریاستوں کے ساتھ بھی ہوا اور ہورہا ہے۔۔۔۔

عمران، امریکہ:
بش انکل، تھوڑی سی جمہوریت وسطی ایشیا میں بھی پھیلائیں۔

یار بہادر گوشہ نشیں، ویسٹرن صحارا:
دنیا میں جمہوری آزادی کے نام نہاد علمبردار امریکہ کی پشت پناہی سے چلنے والی حکومتوں کے عوام پر ظلم کوئی نئی بات نہیں ہے، تاریخ گواہ ہے کہ زیادہ طور پر ڈِکٹیٹرس امریکہ کی پشت پناہی سے اقتدار میں آئے۔ بین الاقوامی برادری حسب معمول تماشائی بن کر دیکھتی رہ گئی۔ طاقتور ممالک کاغذی کارروائی کے طورپر مذمتی بیان دیں گے، اس سے زیادہ وہ کرنا بھی نہیں چاہتے ہیں، یہاں ہر ایک کو اپنا مفاد پہلے عزیز ہے۔

مغیث محمد:
یہ سارا واویلا تو صرف کریموف سے کوئی دوسرے کام نکوانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ امریکہ، یورپ کو ہلاک ہونے والے لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔۔۔۔

محمد شبیر، ٹورانٹو:
تمام مسلم دنیا پر ڈکٹیٹرس اور کرپٹ جنرلوں کی حکومت ہے۔۔۔۔

عبدالرفیق بنگش، دوحہ:
سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو مستعفی ہونا چاہئے کیوں کہ ان کے دور میں قتل عام ہورہا ہے۔

آصف اعوان، جنوبی کوریا:
ملک کا دفاع فوج کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن آج کل ہر جگہ ملٹری حکومت میں شامل ہے جو غیرقانونی ہے۔ ازبکستان کے معاملے میں وہاں کے عوام نے بہتر کیا، یہ اچھا ہے۔ اب دوسرے ممالک ان کی تحقیقات کریں۔

بےروزگار بابا، فرینکفرٹ:
یہ سب بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں جہاں بھی ظلم ہوتا ہے مسلمانوں پر، اللہ ان ظالم لوگوں کو تباہ و برباد کرے، آمین۔

محمد عرفان اللہ ممند، پشاور:
دنیا کے لئے یہ کافی خدشے کی بات ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے امریکہ کی سوویت یونین کے خاتمے میں مدد کی۔

ثاقب محمود، کچنر، کینیڈا:
ازبکستان پر اسلام کریموف کی جابر حکومت ہے، یہ حاکم بھی وہی کچھ کررہا ہے جو بہت سے اسلامی حاکم اپنی حکومت پکی کرنے کے لئے کرتے چلے آئے ہیں۔ انکوائری کیا کیا ضرورت ہے، سیدھے سیدھے اسلام کریموف کی حکومت کو ختم کرو اور اس کو الٹا لٹکاؤ۔ انکوائری سے کچھ حاصل ہونے کے سوائے کچھ لوگوں کو ٹی بسکٹ کا انتظام ہوجائے گا۔

محمد احمد، کراچی:
یہ شدید کارروائی تھی۔ اس کی مذمت کی جانی چاہئے اور جو اس کا مرکزی ذمہ دار ہے اس کو سزا ملنی چاہئے بین الاقوامی قوانین کے تحت۔

محمد عرفان خان، پاکستان:
اسلام کریموف کی جانب سے یہ ظالمانہ کارروائی ہے۔

مارک جورڈن، ٹرینیڈاڈ:
میرے خیال میں مظاہروں کا جواز بنتا ہے کیوں کہ ازبکستان میں عوام کو زور و جبر سہنا پڑتا ہے۔ روانڈا اور عراق میں اس طرح کے واقعات کے باوجود یہ تعجب کی بات ہے کہ بین الاقوامی برادری خاموش ہے۔ کیا یہ انسانی حقوق اور جمہوریت پر حملہ نہیں ہے؟ یا یہ سب کچھ صرف صدام تک محدود ہے؟

علی حیدری، کینیڈا:
فوج کے ہاتھوں ظلم کوئی نئی بات نہیں ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
بےگناہوں اور نہتھے لوگوں پر اس طرح کی کوئی کارروائی بھی ہو قابل مذمت ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنے آپ دیکھنا چاہئے، اپنے اختیارات کو استعمال کرنا ہوگا۔ نام نہاد اقوام متحدہ کو بھی اپنا رول نبھانا چاہئے، کھوکھلا ہی صحیح کوئی بیان دینا چاہئے۔ نہیں تو اقوام متحدہ کو خود ہی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنی افادیت کھوچکی ہے، اب دنیا کو ذرا زیادہ اچھی طرح اس بات کا علم ہورہا ہے۔ باقی دنیا کو بھی اس کارروائی اور اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہئے۔

جبران حسنین، کراچی:
یہ تو ہونا ہی تھا۔ ظلم برداشت کرنے کی حد ہوتی ہے۔ اسلام کریموف کے خلاف انکوائری ضرور ہونی چاہئے۔

راحت ملک، نصیرآباد:
کئی توقع نہیں بین الاقوامی برادری سے۔ بلکہ مسلم امۃ بھی اس میں کوئی انٹیریسٹ نہیں لے گی۔ ہاں اگر یہ کہیں ترقی یافتہ ملک میں ہوتا تو سب اٹھ کھڑے ہوتے۔ دکھ ہے کہ انسان کے ہاتھوں انسان کا خون ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد