بنگلور میں پاکستان نے تاریخ دہراتے ہوئے بھارت کو سنسی خیز مقابلے کے بعد ایک سو اڑسٹھ رن سے شکست دے کر ٹیسٹ سیریز برابر کر دی ہے۔ میچ کے پانچویں اور آخری دن بھارت کو میچ جیتنے کے لیے تین سو ترپن رن کا ہدف دکار تھا لیکن ساری ٹیم دو سو چودہ رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اس سے ایک دن قبل جب کپتان انظمام الحق نے بھارت کو تین سو تراسی رن کا ہدف دیا تھا تو مبصرین کو حیرت ہوئی تھی کیونکہ ابھی میچ کے چند گھنٹے اور ایک پورا دن باقی تھا۔ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے کشتیاں جلانے کے مترادف قرار دیا۔ آپ کے خیال میں بنگلور ٹیسٹ میں پاکستان کی پرفارمنس کیسی تھی؟ کیا پاکستان نے واقعی کشتیاں جلا کر یہ میچ جیتا؟ انضمام الحق کیسے کپتان ہیں؟ کیا بہت سے نئے کھلاڑیوں پر مشتمل یہ ٹیم اب ایک تجربہ کار ٹیم میں بدل رہی ہے؟ کیا یونس خان کو نائب کپتان بنانے کا فیصلہ درست تھا؟ ایک روزہ میچز میں پاکستان کی ٹیم سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟ کیا پاکستان کو بولنگ کے شعبے میں بہتری کے لیے شعیب اختر کی ضرورت ہوگی؟ اس میچ میں سب سے بہتر پرفارمنس کس کی تھی؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
امین اللہ شاہ، میانوالی: جی ہاں، آخری میچ میں سبھی کھلاڑیوں نے جـذبے سے کھیلا۔ جذبہ کسی بھی ٹیم کی کامیابی کے لیے بنیادی کنجی ہے۔ بہرحال اگر اس ٹیم میں دو فاسٹ بولر بھی ساتھ ہوتے تو یہ لاجواب ہوتی۔ آصف بٹ، دوبئی: جی نہیں، یہ پہلے ہی سے فکس تھا۔ مظہر لطیف، اسلام آباد: انضمام بہترین کپتان ہیں اور یونس بہترین نائب کپتان۔ ون ڈے میچز میں شاہد آفریدی اور سلمان بٹ کو اوپنر کے طور پر کھلانا چاہیے۔ اس میچ میں آفریدی کی پرفارمنس لاجواب تھی۔  | بولڈ اور ریسپانسیبل  یونس خان کو نائب کپتان بنانے سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ بولڈ اور ریسپانسیبل طور پر کھیل رہے ہیں۔ اس سے انضمام پر بھی پریشر کم ہوا ہے۔  علیم لطیف، آسٹریلیا |
علیم لطیف، آسٹریلیا: یونس خان کو نائب کپتان بنانے سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ بولڈ اور ریسپانسیبل طور پر کھیل رہے ہیں۔ اس سے انضمام پر بھی پریشر کم ہوا ہے۔ یوحنا میں یہ بات نہیں تھی۔ انہوں نے کبھی یہ ذمہ داری محسوس ہی نہیں کی۔ شعیب کو ٹیم میں آنا تو چاہیے لیکن کرکٹنگ سپرٹ بھی سیکھنی چاہیے، بڑے نام کے لیے بڑا دل بھی چاہیے۔ افتخار علی خان، چین: پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز بھی جیتے گی کیونکہ اب ان کے پاس اعتماد اور تجربہ زیادہ ہے۔ محمد اشفاق، لاہور: انضمام ٹیم کے طارق بن زیاد ہیں اور وہ ایک شیر کی طرح کھیلے۔ وہ اس لیے بہترین کپتان ہیں کہ وہ تقریباً ہر طرح کی پچ اور گراؤنڈ میں کھیل چکے ہیں۔اس میچ کے بہترین کھلاڑی شاہد آفریدی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ٹیم وڈ ڈے سیریز میں بھی اسی طرح کھیلے گی۔ عبدالمعز، جدہ: انضمام کا فیصلہ، یونس خان کے دو سو سڑسٹھ اور شاہد آفریدی کا ذمہ دارانہ کھیل اس جیت کے ذمہ دار ہیں۔ فیاض محمد، اٹک: یہ پاکستانی ٹیم کی ایک اجتماعی کوشش تھی۔ مجھے خاص طور پر شاہد آفریدی پر فخر ہے کیونکہ انہوں نے بہت اہم وکٹیں حاصل کیں۔ یونس اور انضی کی پرفارمنس بھی بہت اچھی تھی۔ سفیر احمد، دوبئی: انضمام نے آخری ٹیسٹ نپے تلے رسک کے ساتھ جیتا ہے۔ انہیں پتہ تھا کہ وہ یہ ٹیسٹ ہاریں یا برابر کریں نتیجہ ایک ہی تھا کہ وہ سیریز ہار جاتے۔ راشد رانا، سویڈن: انضمام میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے زبردست کام کیا اور وہ عقلمند لگنے لگے ہیں۔ پاکستان ٹیم کو نئے کھلاڑیوں کی ضرورت تھی۔ یونس بھی محتاط کھیلنے والے ہیں۔ جہاں تک شعیب اختر کا تعلق ہے تو میں نے انہیں پنڈی سڈیڈیم میں دیکھا تھا وہ بہت تند مزاج انسان ہیں۔ اگر وہ ڈسپلن کی پابندی نہیں کرتے تو انہیں ٹیم میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ باقی ہم پاکستانیوں کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ ٹیم کی ہار کسی قیمت پر نہیں قبول کرتے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی ٹیم ہر میچ نہیں جیت سکتی اور یہ کھیل ہے، جنگ نہیں۔ امجد ڈوگر، کینیڈا: پاکستان اپنی فائٹنگ سپرٹ اور سیریز برابر کرنے پختہ ارادے کی وجہ سے جیتا ہے۔ انضی کی بیٹنگ پرفارمنس ان کی کپتانی سے کئی درجے بہتر ہے لیکن پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں میں وہی اس وقت بہترین کپتان ہو سکتے ہیں۔ ذیشان، قمر، دوبئی: بہترین ٹیم ورک، صحیح وقت پر درست فیصلہ اور ٹیم کی زبردست کو آرڈینیشن۔ انضی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک اچھے کپتان بن سکتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ اس وقت شعیب کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیم کو ثابت کرنا ہے کہ ہم ان کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں۔ رشید اسماعیل، کویت: آج پھر پاکستان نے ثابت کردیا کہ وہ نئے لڑکوں کے باوجود وہ کبھی بھی کچھ بھی ممکن کر سکتی ہے۔ محمد فیصل جمال، چکوال: یہ ایک زبردست میچ تھا۔ اس میں بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی بلکہ پوری سیریز ہی شاندار رہی جیسے کہ توقع تھی۔ پاکستانی ٹیم بغیر مین نولنگ اٹیک کے ایک شیر کی طرح لڑی۔ جب پاکستانی کھلاڑی ایک ٹیم کی طرح کھیلتے ہیں تو بہت خطرناک ٹیم بن جاتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ انڈیا نے یہ میچ اپنی دفاعی حکمتِ عملی بنانے کی وجہ سے ہارا۔ باقی جہاں تک شعیب کا تعلق ہے تو ایک فٹ اور ڈسپلنڈ شعیب اختر کی پاکستان کو ضرورت ہے لیکن ان فٹ اور ان ڈسپلنڈ کی نہیں۔ ندیم رانا، سپین: انضمام بہت اچھے کپتان ہیں۔  | پاکستانی سا فیصلہ  میرے خیال میں دانش اور یونس کی کارکردگی اچھی تھی اور بنگلور ٹیسٹ میں ٹیم کی فائٹنگ سپرٹ دیکھنے کو ملی۔ پھر ڈیکلیئر کرنے کا فیصلہ بھی جرات مندانہ اور پاکستانی سا لگا۔  اظفر خان، ٹورنٹو |
اظفر خان، ٹورنٹو: اگرچہ اس ٹیم نے بنگلور میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ انضمام ایسے کپتان ہیں جو ٹیم کے کھلاڑیوں میں جذبہ ابھار سکتے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم ابھی تک ایک ڈائنامک اور ذہین کپتان کی منتظر ہے۔ میرے خیال میں دانش اور یونس کی کارکردگی اچھی تھی اور بنگلور ٹیسٹ میں ٹیم کی فائٹنگ سپرٹ دیکھنے کو ملی۔ پھر ڈیکلیئر کرنے کا فیصلہ بھی جرات مندانہ اور پاکستانی سا لگا۔ عامر خان، دوبئی: انضمام ایک مکمل کپتان ہیں۔ ارشد خان، فرینکفرٹ: بڑے عرصے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ٹیم ورک نظر آیا اور انضمام نے بحیثیت کپتان نہ صرف شاندار حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا بلکہ بیٹنگ میں بھی ذمہ داری نبھائی۔ عابد علی بیگ، ہانگ کانگ: یہ ٹیم شعیب اختر کے بغیر ہی بھلی۔ کلیم عباس، چکوال: یہ میچ بولرز نے جتوایا ہے ورنہ کیچ چھوڑنے سے میچ جیتے نہیں جاتے۔ یونس خان نے کوئی کارنامہ نہیں کیا، پچ ہی بیٹنگ تھی ورنہ انہوں نے نائب کپتانی کا حق تین کیچ چھوڑ کر ادا کر ہی دیا تھا۔ محمد علی، جیکب آباد: شعیب اختر بولنگ اٹیک کے لیے بہت اچھے ہیں۔ اور ان کے ساتھ شبیر احمد بھی بہت ضروری ہیں۔ الطاف صادق، الخوبر: یہ ایک مشکل میچ تھا لیکن پاکستان نے انڈیا کو آؤٹ کلاس کردیا۔ میرا خیال ہے کہ اہم ترین کھلاڑی آفریدی ہیں جنہیں ہر میچ میں ہونا چاہیے۔ انضی نے اچھی بولنگ کی تبدیلیاں کیں۔ یاسر حمید اور سلمان بٹ کو مستقل اوپنر بنانا چاہیے اور اس کے نتائج ہمیشہ اچھے ہوں گے۔ ہر رو ز اوپنر بدلنا اچھی بات نہیں ہے۔ غلام مصطفی تارا، عارف والا: زبردست! یاسر، میرپور: جی ہاں، یہ واقعی کشتیاں جلانے کے مترادف تھا۔ اگر پاکستانی ٹیم جیتنا چاہے تو انہیں ہرانے کا کوئی طریقہ نہیں۔ اگر وہ جیتنا چاہیں ورنہ۔۔۔۔ عبدالعلیم ناگویا، جاپان: ایک طویل عرصے بعد پاکستان کی ٹیم اپنے ٹیم ورک کی وجہ سے جیتی ہے۔ فیلڈنگ وغیرہ میں خامیاں تھیں لیکن فاتح کی غلطیوں کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان نے یہ میچ جیت لیا ورنہ پاکستان ٹیم پر دو آسیب کے سائے پڑنے کے لیے تیار تھے، ایک شعیب اختر اور ایک جاوید میانداد۔ محمد آصف، ایبٹ آباد: میں پاکستان اور پاکستانیوں کو اس پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ فتح پاکستان کی اس شجاعت اور ہمت کی آئینہ دار ہے کہ وہ انڈیا کو کہیں بھی اور کسی بھی مقابلے میں ہرا سکتا ہے۔ پاکستان کو دراصل سیریز جیتنی چاہیے تھی کیونکہ اس کا کھیل دوسرے ٹیسٹ میں بھی بہت اچھا تھا۔ محمد کاشف حسین، مہراب پور: آج پاکستان کی پرفارمنس نے تمام انڈینز کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان نے اس ٹیسٹ کے آخری دن جو کھیل دکھایا ہے اس سے نہ صرف کرکٹ کے شوقین کا حوصلہ بڑھا ہے بلکہ پاکستان کی عوام کا سر بھی فخر سے اونچا ہوگیا ہے۔ انضمام پاکستان کی ٹیم کے بہت اچھے کپتان ثابت ہوئے ہیں۔ عبدالاحد خان، دوبئی: میرا خیال ہے کہ اس ٹیم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی دوسری ٹیم سے کم نہیں ہیں۔ انضی سب کے سامنے مثال بن کے سامنے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ سب نے دل و جان سے میچ جیتنے کی کوشش کی اور کامیاب ہوئے۔ یونس خان صحیح نائب کپتان ہیں اور آفریدی نے شاندار کھیل پیش کیا۔  | جیت کی بھوک  ٹیم اب صحیح راستے پر جا رہی ہے۔ ہم ون ڈے جیت جائیں گے کیونکہ ینگسٹرز جیت کی بھوک رکھتے ہیں۔  مظفر نواز چیمہ، فیصل آباد |
مظفر نواز چیمہ، فیصل آباد: انضمام کا فیصلہ ائیر فائٹر کا فیصلہ تھا، ان کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جیت کے لیے کتنے بے تاب تھے۔ ٹیم اب صحیح راستے پر جا رہی ہے۔ ہم ون ڈے جیت جائیں گے کیونکہ ینگسٹرز جیت کی بھوک رکھتے ہیں۔شا سید، فرانس: یہ بہت اچھا میچ تھا۔ یونس خان کی پرفارمنس سب سے بہتر تھی۔ جاوید اقبال، ٹورنٹو: انضی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک اچھے قائد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مضبوط کردار کو ثابت کیا اور افراد کو ٹیم میں بدل ڈالا۔ شعیب کو خوش آمدید کہا جا سکتا ہے اگر وہ ٹیم کا حصہ بننا چاہیں اور تنک مزاجی کو قابو میں رکھیں تو۔ محمد الیاس، سرگودھا: سب کو مبارک۔ پاکستانی ٹیم نے ملک کی عزت رکھ لی ورنہ ہمیں تو کوئی امید نہیں تھی پہلا میچ دیکھ کر۔ اویس محمد، جرمنی: سب بہت اچھا کھیلے اور انضی کا فیصلہ بالکل درست تھا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یونس کو نائب کپتان بنانے کا فیصلہ غلط تھا اور غلط ہے۔ |