بنگلور میں سیریز برابر ہوگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا موجودہ دورۂ بھارت گزشتہ چھ برس میں پہلا اور 53 /1952 کے افتتاحی دورے کے بعد سے چھٹا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اب تک بھارتی سر زمین پر انتیس ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں جن میں سے بھارت نے چھ جبکہ پاکستان نے چار جیتے ہیں۔ بقیہ انیس میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔ عمران خان کی قیادت میں ہونے والی 1986-87 کی سیریز وہ واحد سیریز تھی جس میں پاکستان نے بھارت کو بھارت کی سرزمین پر ہرایا تھا اور یوں عمران خان وہ واحد پاکستانی کپتان بنے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اس سیریز کا آخری اور فیصلہ کن میچ بنگلور کی سپن وکٹ پر کھیلا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے سپن بالروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگر بھارت کی طرف سے منندر سنگھ نے شاندار بولنگ کی تو پاکستان کی طرف سے اقبال قاسم اور توصیف احمد نے۔ آخر میں سنیل گواسکر کے 96 رنز کے باوجود بھارت یہ میچ 16 رن سے ہار گیا۔ انضمام الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم ایک مرتبہ پھر بنگلور میں میچ کھیل رہی ہے۔ گو کہ پہلے دو وکٹ تو سات کے سکور پر ہی گر گئے لیکن پھر انضمام نے یونس خان کے ساتھ مل کر اپنے سوویں ٹیسٹ میں یادگار اننگز کھیلی۔ بنگلور کے 87-86 کے میچ میں پاکستان کے پاس قابل اور تجربہ کار سپن بولر تھے اور میچ بھی انہوں نے ہی جتوایا تھا۔ اب نہ توصیف احمد ہیں اور نہ اقبال قاسم۔ کیا آپ کے خیال میں اب بھی پاکستان کے بولر بھارتی بلے بازوں کو پریشان کر سکتے ہیں؟ کیا انضمام اور یونس خان کی سنچریاں 87-86 کی یاد تازہ کر سکتی ہیں؟ کیا پاکستان کلکتہ کی ہار کے دباؤ سے نکل کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ لیاقت علی خان، میانوالی: یہ تو سب کہہ رہے ہیں کہ دانش کنیریا آؤٹ کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا وہ اس میچ میں کوئی خاص کردار ادا کر سکیں گے کیونکہ ان میں اعتماد نہیں ہے۔ انہیں کولکتہ میں صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ عرفان عنایت، سیالکوٹ: شعیب، کوٹ عادل بنوں: اظہر خان، دہران: محمد علی، پل وسال والا: احمد ذین، دبئی:
ہاول خان شیرانی، ژوب: میرا نہیں خیال کہ پاکستان تاریخ کو دھرا سکے گا کیونکہ شعیب احتر کی جگہ کوئی دوسرا باؤلر نہیں ہے۔ صرف سمیع ہیں ۔ہاں البتہ اگر پاکستان نے بیٹنگ بہت اچھی کی تو شاید کچھ ہو جائے ورنہ پاکستان سیریز ہار جائے گا۔ عاطف خان: محمد مسکین، کراچی: رشید خان، شارجہ: ساجدسہیل، ڈیرہ غازی خان: محمد عدنان شیخ، لاہور: عثمان محمود، آسٹریا: فہد احمد، جیکب آباد: محمد ہارون خان، کراچی: حسن نقوی، جاپان:
عطاءالرحمٰن، ٹورانٹو: بہت مشکل ہے جناب۔پہلے عمران لیڈر تھے جو سوئے ہوتے تھے تو تب بھی دشمن ڈرتا تھا۔ اب انضمام کپتان ہیں تو دشمن جاگتے میں بھی سوتا ہے۔ محمد فرحان، لانڈھی: حیدر حسین، کراچی: عمران خان سیال، کراچی: ہارون رشید، سیالکوٹ: محمد شہزیرخان،اسلام آباد: محمد نضیف،راولپنڈی:
سجاد حسین، جہلم: اگر فیلڈنگ اچھی کی تو پاکستان جیت سکتا ہے۔ پرویز انور، مدینہ: عمیر حسین، پشاور: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||