BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 March, 2005, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلور میں سیریز برابر ہوگی؟
News image
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا موجودہ دورۂ بھارت گزشتہ چھ برس میں پہلا اور 53 /1952 کے افتتاحی دورے کے بعد سے چھٹا دورہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اب تک بھارتی سر زمین پر انتیس ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں جن میں سے بھارت نے چھ جبکہ پاکستان نے چار جیتے ہیں۔ بقیہ انیس میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے۔

عمران خان کی قیادت میں ہونے والی 1986-87 کی سیریز وہ واحد سیریز تھی جس میں پاکستان نے بھارت کو بھارت کی سرزمین پر ہرایا تھا اور یوں عمران خان وہ واحد پاکستانی کپتان بنے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔

اس سیریز کا آخری اور فیصلہ کن میچ بنگلور کی سپن وکٹ پر کھیلا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے سپن بالروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگر بھارت کی طرف سے منندر سنگھ نے شاندار بولنگ کی تو پاکستان کی طرف سے اقبال قاسم اور توصیف احمد نے۔ آخر میں سنیل گواسکر کے 96 رنز کے باوجود بھارت یہ میچ 16 رن سے ہار گیا۔

انضمام الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم ایک مرتبہ پھر بنگلور میں میچ کھیل رہی ہے۔ گو کہ پہلے دو وکٹ تو سات کے سکور پر ہی گر گئے لیکن پھر انضمام نے یونس خان کے ساتھ مل کر اپنے سوویں ٹیسٹ میں یادگار اننگز کھیلی۔

بنگلور کے 87-86 کے میچ میں پاکستان کے پاس قابل اور تجربہ کار سپن بولر تھے اور میچ بھی انہوں نے ہی جتوایا تھا۔ اب نہ توصیف احمد ہیں اور نہ اقبال قاسم۔ کیا آپ کے خیال میں اب بھی پاکستان کے بولر بھارتی بلے بازوں کو پریشان کر سکتے ہیں؟ کیا انضمام اور یونس خان کی سنچریاں 87-86 کی یاد تازہ کر سکتی ہیں؟ کیا پاکستان کلکتہ کی ہار کے دباؤ سے نکل کر سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


لیاقت علی خان، میانوالی:
یہ تو سب کہہ رہے ہیں کہ دانش کنیریا آؤٹ کریں گے لیکن میں نہیں سمجھتا وہ اس میچ میں کوئی خاص کردار ادا کر سکیں گے کیونکہ ان میں اعتماد نہیں ہے۔ انہیں کولکتہ میں صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔

عرفان عنایت، سیالکوٹ:
کرکٹ میں کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی البتہ دعا تو یہی ہے کہ پاکستان جیتے۔

شعیب، کوٹ عادل بنوں:
ہم ہیں پاکستانی، ہم تو جیتیں گے۔

اظہر خان، دہران:
عامر سہیل کی وجہ سے اچھے اچھے کھلاڑی باہر ہو گئے ورلڈ کپ کے بعد۔ وسیم اکرم، سعید انور اور وقار یونس۔ اگر یہ لوگ ہوتے تو آج بھی بہت کچھ ہو سکتا تھا۔

محمد علی، پل وسال والا:
میرا خیال ہے پاکستان میچ میں مضبوط پوزیشن میں آجائے گا لیکن میچ ڈرا ہو جائے گا۔

احمد ذین، دبئی:
انڈیا وکٹ کی وجہ سے جیتا تھا مگر اس میچ میں وکٹ مدد نہیں کرے گی اور انڈیا بھی ڈرا کرنا چاہے گا۔

کرکٹ یا دوستی؟
 لگتاہے پاکستان جیت جائے گا کیونکہ آج کل دونوں ملکوں کے درمیان کھیل سے زیادہ دوستی اہم ہے۔
محمد مسکین، کراچی

ہاول خان شیرانی، ژوب:
میرا نہیں خیال کہ پاکستان تاریخ کو دھرا سکے گا کیونکہ شعیب احتر کی جگہ کوئی دوسرا باؤلر نہیں ہے۔ صرف سمیع ہیں ۔ہاں البتہ اگر پاکستان نے بیٹنگ بہت اچھی کی تو شاید کچھ ہو جائے ورنہ پاکستان سیریز ہار جائے گا۔

عاطف خان:
پاکستان جیتے گا کیونکہ پاکستان کو جیتنا ہے۔

محمد مسکین، کراچی:
لگتاہے پاکستان جیت جائے گا کیونکہ آج کل دونوں ملکوں کے درمیان کھیل سے زیادہ دوستی اہم ہے۔

رشید خان، شارجہ:
پاکستان کا جیتنا مشکل نظر آتا ہے لیکن دوسری اننگز میں ڈھائی سو رنز پر آؤٹ ہو کرہار ضرور سکتا ہے۔ آہستہ کھیل کر ڈرا بھی کر سکتا ہے لیکن انڈیا کو دو بار آؤٹ کرنے کے لیے پاکستان کوبہت اچھی باؤلنگ کرانا ہو گی۔

ساجدسہیل، ڈیرہ غازی خان:
آخری تین دنوں میں وکٹ سپنرز کو مدد دےگی۔ پاکستان کے موجودہ کھلاڑی مشہور ہوں نہ ہوں، لڑنے کا جذبہ ضرور رکھتے ہیں۔

محمد عدنان شیخ، لاہور:
مشکل ہے، بڑا مشکل ہے۔

عثمان محمود، آسٹریا:
پاکستان سیریز برابر کر لے گا۔

فہد احمد، جیکب آباد:
اگر پاکستانی بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو ضرور جیتیں گے۔

محمد ہارون خان، کراچی:
پاکستان میچ برابر کر سکے گا لیکن جیت نہیں سکے گا۔

حسن نقوی، جاپان:
میرے خیال نہیں کہ پاکستان اپنی ماضی کی روایت دھرا سکے گا۔ قطع نظر اس بات کے کہ پاکستان نے اچھا سکور کر لیا ہے، پاکستان کے پاس کوئی اچھا باؤلر نہیں ہے۔

واپس لائیں!
 ہیں۔خاک جیتیں گے۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ وقار اور وسیم سے معافی مانگیں اور انہیں دوبارہ میدان میں لائیں۔
محمد فرحان، لانڈھی

عطاءالرحمٰن، ٹورانٹو:
بہت مشکل ہے جناب۔پہلے عمران لیڈر تھے جو سوئے ہوتے تھے تو تب بھی دشمن ڈرتا تھا۔ اب انضمام کپتان ہیں تو دشمن جاگتے میں بھی سوتا ہے۔

محمد فرحان، لانڈھی:
اس وقت کے باؤلنگ اٹیک اور آج کے باؤلنگ اٹیک میں بہت فرق ہے۔ وہ باؤلر جذبے سے باؤلنگ کراتے تھے جبکہ یہ صرف پیسے کے لیے کھیلتے ہیں۔خاک جیتیں گے۔ کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ وقار اور وسیم سے معافی مانگیں اور انہیں دوبارہ میدان میں لائیں۔

حیدر حسین، کراچی:
صرف اس صورت میں جب ہمارے سپنر ویسی کارکردگی دکھائیں۔ وکٹ کی حالت بتا رہی ہے کہ یہ میچ بیٹنگ سے نہیں بلکہ باؤلنگ سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔

عمران خان سیال، کراچی:
سیریز برابر نہیں ہو سکتی کیونکہ پاکستانی ٹیم میں سیریز میں واپس آنے کی صلاحیت تو درکنار، میچ میں واپس آنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
گو کہ پاکستان اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے لیکن میچ برابر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

محمد شہزیرخان،اسلام آباد:
میرے خیال میں دانش کنیریا اور ارشدخان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بھارتی ٹیم کو دو مرتبہ آؤٹ کر سکیں۔

محمد نضیف،راولپنڈی:
جی ہاں، پاکستان وہ تاریخ دھراسکتا ہے کیونکہ جس طرح انضمام اور یونس خان نے اننگز کھیلی ہیں اس سے پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھے گا۔

جادو!
 اب دانش کنیریا سے امیدیں ہیں۔ جادو چلنے کی بات ہے۔ارشد خان اور آفریدی بھی کچھ کم نہیں۔
پرویزانور،مدینہ

سجاد حسین، جہلم:
اگر فیلڈنگ اچھی کی تو پاکستان جیت سکتا ہے۔

پرویز انور، مدینہ:
اب دانش کنیریا سے امیدیں ہیں۔ جادو چلنے کی بات ہے۔ارشد خان اور آفریدی بھی کچھ کم نہیں۔

عمیر حسین، پشاور:
مانا پاکستانی ٹیم کمزور ہے لیکن ایسی بری بھی نہیں کہ آغاز تو اچھا کیا ہے میچ کا، امید ہے انجام بھی اچھا ہوگا۔

پاکستان پھر ہار گیا مگر کیوں؟پاکستان پھر ہار گیا
آخر نئے کوچ کو حیرت کیوں ہے؟ آپ کی رائے
انڈیا پاک کرکٹ سیریز کون جیتے گا؟ آپ کی رائے
انڈیا پاک کرکٹ ۔ سیریز کون جیتے گا؟
کیا بھارتی ٹیم کو پاکستان جانا چاہئے؟بھارتی ٹیم کا تحفظ
بھارتی ٹیم پاکستان میں: آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد