نرجس فاطمہ ہیوسٹن، امریکہ |  |
 | | | جنرل مشرف اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے |
جیسے ہی ہم نے سنا کہ ہمارے وطنِ عزیز کے صدر مملک جناب پرویز مشرف صاحب اقوام متحدہ کے اجلاس کے لئے امریکہ آرہے ہیں تو دل جذبۂ حب الوطنی سے سرشار ہوگیا کہ چلو ہمارے ملک کے سر کا تاج آرہا ہے۔ (اب چاہے سر کا تاج کسی زوجہ کا ہو یا ملک کا، قسمت سے ہی اچھا یا برا ملتا ہے۔) لیکن ناامیدی کفر ہے، اس لئے ہم نے بھی بہت سی امیدیں باندھ لیں کہ اس اجلاس میں ہمارے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے صدر صاحب آرہے ہیں۔ پردیسیوں کے لئے تو دیس کی مٹی بھی سونے سے بڑھ کر ہوتی ہے، اسی نظریے کے تحت جیسے ہی صدر صاحب نے امریکہ کی سرزمین پہ قدم رکھا تو دیس کی مٹی کی خوشبو نے ہمارا دل احساس حب الوطنی سے مہکادیا۔ لیکن یہ کیا؟ کانفرنس بھی ہوئی، شرکت بھی کی، اور بیانات بھی دیے (جناب وہ وعدہ ہی کیا جو وفا نہ ہوجائے؟)، سو ایسا ہی صدر صاحب نے کیا، جیسے ہی ان کا بیان ہماری سمت سے ٹکرایا تو شرم سے زمین میں گڑ جانے کو دل چاہا۔ صدر صاحب نے فرمایا کہ ’پاکستان میں جسے پیسے چاہئے ہوتے ہیں وہ ریپ (یا گینگ ریپ) کروالیتا ہے‘، ’ریپ پاکستان میں ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے‘، ’اگر کسی کو ویزہ لینا ہے تو وہ ریپ کرالے تو وہ لکھ پتی بن جائے گا۔‘ بیان کیا تھا ایک نشتر تھا جو جگر کے آرپار ہوگیا۔ گویا ویزہ نہ ہوا ہفت اقلیم کی دولت ہوگئی! یا گوروں کا خزانہ کہ جس کے لئے کوئی بھی عورت اپنے آپ کو پوری دنیا میں بدنام کروالےگی۔ اگر بات ملک پہ آئے تو خواہ وہ کسی کی ماں ہو یا بیٹی، بیوی ہو یا بہن، وہ کسی ایک کی نہیں بلکہ پوری قوم کی عزت ہے۔ ادھر مشرف صاحب نے اسلامی مملک کے صدر ہونے کی حیثیت سے بیان دیے اور ادھر ان کی اہلیہ صحبہ مشرف تمام افسران بالا سے ہاتھ ملاتے ہوئے نظر آئیں اور باقاعدہ صدر بش نے احتراما استقبالیہ انداز میں تھوڑا خم ہو کر ان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر کھانے کی دعوت دی۔ (یہ امریکن سوسائٹی میں تمیز و تہذیب اور آداب و اطوار کے ضمرے میں آتا ہے۔) لیکن اگر ہم اس امریکن تہذیب کو اپنے اسلامِک معاشرے میں شامل کرلیں گے تو یقینا ایم ایم اے والے پھر سے ایک ’بِل‘ کی منظوری کے لئے لانگ مارچ کرتے نظر آئیں گے۔ (اگر جان کی امان پاوؤں تو عرض کروں کہ) کہاں گیا وہ اسلامِک معاشرہ جب صدر صاحب کی اہلیہ خود مردوں سے ہاتھ ملارہی ہیں۔ کیا صحبہ مشرف کو بھی کسی ویزہ کی یا پیسوں کی ضرورت ہے؟ مشرف صاحب کوئی بھی بیان دینے سے پہلے اتنا سوچ لیا کریں کہ ملک کی ہر ماں یا بیٹی کی عزت ان کی اپنی بیٹی کی عزت کی طرح ہے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔
|