پاک۔اسرائیل روابط اور پاکستانی عوام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر یہ خبر بہت ساروں کے لئے ایک عجوبہ ہے کہ اسرائیل اور پاکستان میں پہلے باضابطہ اور اعلیٰ سطحی مذاکرات ہونے جارہے ہیں۔ ابھی تو اس پر بہت شور شرابہ ہوگا اور کیا کیا ردعمل سامنے آئے گا، اس کے لئے چند دن اور انتظار کرنا پڑے گا۔ ردعمل چاہے جو بھی ہو، یہ ہمارے ملک کے لئے اچھی بات نہیں تو اس کو بری بات بھی نہیں کہہ سکتے۔ اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرنا بےمعنی سا لگتا ہے۔ دنیا میں کیا کیا تبدیلیاں آرہی ہیں، بالکل اس طرح جیسے وقت کا پہیہ اپنے محور کے گرد ہمہ وقت گردش میں رہتا ہے۔ ہماری دنیا میں بھی اسی طرح ہر آن تغیر آرہا ہے۔ جو پچھلے سال تھا وہ اب نہیں۔ اس لئے ہمیں اس بات پر حیرانگی کا تاثر نہیں دینا چاہئے۔ ہمارے ملک کے کس قوم اور ملک کے ساتھ روابط نہیں؟ ماسوائے اسرائیل کہ ساری دنیا کے ساتھ ہمارے سفارتی رابطے ہیں۔ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے تو کیا اسرائیل کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا؟ اور اگر اسرائیل ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھے تو کیا ہمارا کوئی کام رک جائے گا؟ نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ کہتے ہیں اپنے گھر میں ہر کوئی چودھری ہوتا ہے۔ ہم اپنے گھر میں چودھری اور اسرائیل اپنے گھر میں چودھری۔ پھر فرق کیا پڑتا ہے رابطے ہونے یا پھر نہ ہونے سے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم اور اسرائیل دونوں اس دنیا کے گلوب میں رہتے ہیں۔ ہماری کوئی اپنی ذاتی دنیا نہیں تو پھر اسرائیل بھی اس دنیا سے باہر نہیں۔ دنیا کو گلوبل ولیج ماننا ہمارے لئے کوئی انہونی بات نہیں، مگر اسرائیل کو تسلیم کرنا بڑا مشکل لگتا ہے۔ اگر ہم زمین کو گلوب ماننے سے انکار کریں تو کیا زمین کی ساخت بدل جائےگی؟ اور اگر ہم یہ نہ مانیں کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو کیا یہ حقیقت بےمعنی ہوجائے گی؟ اسی طرح اگر ہم کسی گاؤں کے چودھری کو چودھری نہ مانیں تو کیا وہ چودھری نہ رہے گا؟ بات یہ ہے کہ ہم کسی کو مانیں یہ نہ مانیں، کسی چیز کا وجود ایک اٹل حقیقت ہے۔ فرض کریں اسرائیل ہم کو تسلیم نہ کرے تو ہم بڑی دلیری سے کہیں گے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اس دنیا کا مطلب جب گلوبل ولیج ہے تو دنیا کے وجود کے لئے ہر ملک اتنا ہی اہم ہے۔ جتنا امریکہ یا کوئی اور ایشین ملک۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں اپنا وقار اور پہچان دنیا سے ملکر بنانا ہے۔ یہی وہ وقت ہے کہ ہم دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ایک مثبت تبدیلی اور حکومت کا ایک مثبت قدم سمجھ کر تسلیم کرلیں، نہ کہ اپنے ردعمل سے اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلگ ہونے کا ثبوت دیں۔ ایک اور غور طلب بات یہ ہے کہ ہم اس بات کے انکاری نہیں کہ حکومتیں خدا کی طرف سے ہوتی ہیں۔ پھر ہم کسی بھی بات میں یا پھر کسی بھی حکومتی فیصلے پر راضی کیوں نہیں ہوتے؟ اصل بادشاہت تو اس الہی ذات کی ہے جو سب کو حکومت بخشتا ہے۔ ہماری بدقسمتی قیامِ پاکستان سے لیکر یہ رہی ہے کہ ہم نے کسی بھی حکومت کو سو فیصد عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اگر ساری حکومتیں خدا کی طرف سے ہوتی ہیں تو اگرچہ ہم اس حقیقت کا حوالہ دینے سے تو نہیں کتراتے مگر اس حقیقت کے بارے میں کبھی سوچتے نہیں: کون سی حکومت ہے جس نے اپنی میعاد پوری کی ہو؟ ایک فوج ہی ہے جو نہ صرف اپنی میعاد پوری کرتی ہے بلکہ میعاد کی ساری حدیں عبور بھی کرتی ہے۔ اپوزیشن کا ہونا ایک اٹل امر ہے۔ ساری دنیا میں حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ہوتی ہے مگر صرف الیکشن کے نتائج تک۔ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اپوزیشن پارٹیز برسراقتدار آنے والی پارٹی کی نہ صرف جیت تسلیم کرتی ہیں بلکہ مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ملکر ملک و قوم کی ترقی میں وہ وہی کردار ادا کرتی ہیں جو ایک برسراقتدار پارٹی کرتی ہے، جو کہ ایک محب وطن شہری، گروپ یا پھر سیاسی جماعت کو کرنا چاہئے۔ آج وقت ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ اقتدار خدا کی طرف سے ہے اور اپنی محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے اسرائیل سے حکومتی روابط کو ایک اچھا پہلو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||