سب سے چھوٹا میڈیا پلیئر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرا نام عبدالغنی ہے، میری عمر اٹھائیس سال ہے اور میں کراچی میں رہتا ہوں۔ میں نے دنیا کا سب سے چھوٹا میڈیا پلیئر بنایا ہے اور اب گینیز ورلڈ ریکارڈ میں اس کے اندراج کا انتظار کررہا ہوں۔ پیشے کے حساب سے میں کراچی الیکٹرِک سپلائی کارپوریشن میں پروفیشنل کمپیوٹر آپریٹر ہوں، پارٹ ٹائم میں گرافِکس، ویب ڈیزائنِنگ، فوٹو شاپ، کورل ڈراء وغیرہ پڑھاتا ہوں۔ میں نے اسلام آباد سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈِپلومہ حاصل کیا۔ میں کمپیوٹر پڑھنا چاہتا تھا لیکن پیسے کی کمی سے اس میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکا۔ اب پرائیوٹ سے کراچی یونیورسٹی میں بی کام فائنل ایئر کا طالب علم بھی ہوں۔ دنیا کا سب سے چھوٹا میڈیا پلیئر بنانے کا خیال میرے ذہن میں کیسے آیا؟ ایک دن میں اخبار پڑھ رہا تھا کہ میں نے ایک ماڈل کو دیکھا جس نے سب سے چھوٹے ہارڈ ڈرائیو کا نمونہ پیش کیا۔ میں نے سوچا میں بھی کوئی نئی چیز کیوں نہ تلاش کروں۔ چونکہ میں ایک کپیوٹر آپریٹر ہوں اس لئے میں نے سافٹ ویئر کے میدان میں کچھ کرنے کی سوچی اور سب سے چھوٹا میڈیا پلیئر بنانے کے بارے میں فیصلہ کیا۔ میں نے پیر بتاریخ بیس اکتوبر دو ہزار چار کو شام کے چھ بجکر ستاون منٹ چھ سیکنڈ پر کام کرنا شروع کیا۔ آغاز میں کئی مسائل تھے، مثال کے طور پر اس کے چھوٹے سائز کو کیس مینیج کروں۔ لیکن میں کوشش کرتا رہا اور ایک دن کامیاب ہوگیا۔ میرے میڈیا پلیئر کے لِنک کے لئے یہاں کلک کریں۔
کئی میڈیا پلیئر بازار میں موجود ہیں، تو میرا میڈیا پلیئر مختلف کیسے ہے؟ باقی میڈیا پلیئر کو آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ کے ہارڈ ڈِسک میں یہ کم سے کم پانچ ایم بی کی جگہ لے لیتا ہے، ساتھ ہی یہ سیسٹم رجسٹری میں بھی جگہ لیتا ہے۔ اگر آپ اسے ان اِنسٹال کرنا چاہیں تو یہ آپ کے سیسٹم کو ڈِسٹرب کرسکتا ہے۔ لیکن میرا میڈیا پلیئر اسٹینڈ الون ہے، یہ سیسٹم رجسٹری میں جگہ نہیں لیتا اور اس کی وزن صرف پانچ سو کے بی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میڈیا پلیئر کو آپ جب چاہیں ڈیلیٹ کرسکتے ہیں اور اس سے آپ کے سیسٹم کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ اس کے ذریعے میں طالب علموں اور نئی نسل کو یہ پیغام پنچانا چاہتا ہوں کہ اپنا وقت انٹرنیٹ پر چیٹِنگ اور گانے سننے میں صرف کرنے کی بجائے بھی کچھ کرنے کی کوشش کریں۔ کمپیوٹر سے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ دوسروں کو یہ میسج پہنچانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ میں نے سترہ دسمبر دو ہزار چار کو گینیز ورلڈ ریکارڈ میں اندراج کے لئے درخواست دی ہے۔ انہوں نے مجھے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ سن دو ہزار پانچ میں تو ممکن نہیں ہے لیکن دو ہزار چھ میں زیرغور ہوگا اور میرا نام شامل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ میں ایک مِڈل کلاس فیملی سے ہوں۔ میں بی سی ایس اور پھر ایم سی ایس کرنا چاہتا ہوں جو اب تک پیسے کی وجہ سے نہیں کرسکا ہوں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ بھی اگر کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||