BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 March, 2005, 22:06 GMT 03:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں‘

مہدی حسن
لتا منگیشتر نے ان کے بارے میں ایک جملہ کہہ کر سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے
میں نے پہلی بار ان کا نام انیس سو اکسٹھ میں سنا۔

ہمارے کالج میں انٹر کالجئیٹ میوزک کمپیٹیشن ہورہا تھا جس میں تقریباً کراچی کے تمام کالجز حصہ لے رہے تھے۔ زیادہ تر لڑکے یا تو فلمی گانے گا رہے تھے اور یا غیر فلمی غزلیں جنہیں اس زمانے میں بیگم اختر، طلعت محمود اور استاد برکت علی خان مقبولِ عام بناچکے تھے۔

اچانک مقابلے میں حصہ لینے والے ایک لڑکے نے ایک ایسی غزل شروع کردی جو اپنے انذاز میں اس وقت تک سنی جانے والے تمام غزلوں سے مختلف تھی۔ ہم نے ریڈیو پر یا موسیقی کی کسی محفل میں کبھی ایس غزل نہ سنی تھی۔ اس کی دھن میں ایک ایساانوکھا پن تھا جس میں غزلیں ترتیب دینے کی پہلے کبھی کوئی روایت نہ رہی تھی۔ یہ فیض احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ تھی۔

اس شام سننے والے اس غزل سے مسحور ہوگئے۔ اسے سب سے زیادہ پذیرائی ملی اور اسے گانے والے لڑکے کو بہترین گلوکار کی ٹرافی۔ جیسے شام اختتام پذیر ہوئی، میں نے اس لڑکے کو ڈھونڈھتا ہوا، اس تک پہنچا اور اس سے پوچھا کہ کیا اس غزل کی دھن اس نے خود ترتیب دی تھی۔ اس نے کہا ’نہیں‘۔

’تو پھر اس کی دھن کس نے بنائی ہے اور کس نے اسے گایا ہے؟‘

مجھے بتایا گیا کہ پنڈت غلام قادر اس کے موسیقار ہیں اور مہدی حسن صداکار۔ میرے منہ سے نکلا ’اوہ مجھے تو پہلے ہی لگتا تھا‘۔ یہ تو میرا خدا ہی جانتا تھا کہ میں نے یہ دونوں نام پہلی بار سنے تھے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ہمیں ا کثر ریڈیو پر ان سے مشہور اردو شعراء کی غزلیں سننے کو ملتیں۔ کبھی میر کی ’پتا پتا، بوٹا بوٹا‘ یا ’دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے‘ تو کبھی رضی ترمذی کی ’بھولی بسری چند امیدیں‘ یا فیض کی ’تم آئے ہو نہ شبِ انتظار‘۔ وہ کچھ بھی گاتے، ان کے گلے میں ایک ایسی مٹھاس تھی جو کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی۔

مہدی حسن
وہ جو بھی گاتے اچھا لگتا
ا کثر ریڈیو پر ان سے مشہور اردو شعراء کی غزلیں سننے کو ملتیں ان کے گلے میں ایک ایسی مٹھاس تھی جو کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی

آہستہ آہستہ مہدی حسن نے غزل میں ایک ایسا مقام بنالیا جس میں کوئی ان کا ثانی نہ تھا۔ اسی زمانے ہی میں مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ مہدی حسن نے انیس سو چھپن میں کراچی کی ایک گمنام فلم ’شکار‘ کے لیے پلے بیک سنگر بننے کی کوشش بھی کی۔ یہ فلم ڈوب گئی اور ساتھ ہی اس کے گانے بھی جن کی دھنیں اصغر علی محمد حسین نے ترتیب دی تھیں۔ اس کے نتیجے میں باوجود ایک طلسم باندھ دینے والی آواز رکھنے اور انتہائی باصلاحیت ہونے کے انہیں فلموں میں گانے کے لیے مزید چھ برس انتظار کرنا پڑا۔ تاہم یہ موقعہ انہیں ملا اور وہ بھی انیس باسٹھ میں ہدایت کار ریاض شاہد کی فلم ’سسرال‘ کے لیے۔

اس فلم میں انہوں نے منیر نیازی کی غزل ’جس نے میرے دل کو درد دیا‘ گائی جو خاصی مقبول ہوئی اور جس کی دھن ایک بہت باصلاحیت موسیقار حسن لطیف نے ترتیب تھی مگر زمانے نے ان کی قدر نہ کی۔ اگرچہ اس کے بعد انہوں نے بہت سی فلموں کے لیے گایا جن میں خواجہ خورشید انور کی اپنی فلم ’گھونگھٹ کے لیے ’مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے‘ جیسا نمایاں نغمہ شامل ہے لیکن انہیں شہرت کی بلندیوں پر ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہی نے پہنچایا جب اسے فلم ’فرنگی‘ میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد تو گویا مہدی حسن ایسے تمام گیتوں کے لیے ہر موسیقار کا پہلا انتخاب بنتے چلے گئے جس میں غزل کے دھیمے پن اور رومانوی انداز کی ضرورت ہو۔

اسی کی دہائی تک پندرہ برس میں مہدی حسن فلمی موسیقی کے مقبول ترین پلے بیک سنگر رہے۔ اگرچہ اس دوران ایم اشرف جیسے موسیقار نے ان سے ’بھانڈے کلی کرالو‘ جیسے گیت بھی گوائے۔لیکن ایسے گانے انہیں کم ہی گانے پڑے۔

تاہم یہ ایک بڑی بات ہے کہ باوجود فلموں میں اس قدر مصروف ہونے کے انہوں نے ٹی وی اور سٹیج پر غیر فلمی غملوں کے لیے وقت کا ایک بڑا حصہ صرف کیے رکھا۔ انہی دنوں میں رائل البرٹ ہال، لندن میں ہونے والے ان ایک پروگرام کی لائیو ریکارڈنگ کی کیسٹ نے انہیں دنیا بھر اور خصوصاً انڈیا تک مقبول بنادیا۔ تقریباً انہی دنوں میں لتا منگیشکر نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’جب وہ گاتے ہیں تو لگتا ہے ان کے گلے میں بھگوان بول رہے ہیں‘۔ یقیناً ایسی تعریف کم ہی کسی کو نصیب ہوئی ہوگی۔

مہدی حسن انیس سو پینتیس میں راجستھان کے شہر جئے پور سے دس میل کے فاصلے پر ایک گاؤں جھنجھنوں میں ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دوسرے بچوں کی طرح ان کو بھی بچپن ہی سے موسیقی کی تربیت دی گئی۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان اوکاڑہ میں آبسا جہاں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے انہیں ایک موٹرورکشاپ میں ٹیکنیشین کے طور پر کام کرنا پڑا۔ یقیناً یہاں انہوں نے جو کچھ سیکھا وہ بعد میں موسیقی میں بھی ان کے بہت کام آیا ہوگا۔ ان میں سے ایک واقعے کا میں خود گواہ ہوں۔

News image
غزل کے دو بادشاہ
برصغیر میں غزل کی گائیکی کے دو بادشاہ مہدی حسن اور طلعت محمود

انیس سو نواسی میں مہدی حسن جب دوسری بار بمبئی آئے تو میں وہاں پی آئی اے کا مینیجر تھا۔ اپنے بہت سے دوستوں کے مطالبے اور ان کا پرستار ہونے کی بنیاد پر میں نے انہیں رات کے کھانے کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دے ڈالی جو انہوں نے ازراہِ مہربانی منظور کرلی۔ اگرچہ میں نے ان پر واضح کردیا تھا کہ انہیں صرف اپنے پرستاروں کے ہمراہ کھانے کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور ان سے گانے کی ہرگز کوئی توقع نہ رکھی جائے گی۔ لیکن مہدی حسن جتنے بڑے آدمی ہیں، کہنے لگے کہ انہیں وہاں گاکر بہت خوشی ہوگی۔

میں نے جن پچاس کے قریب مہمانوں کو مدعو کیا، ان میں موسیقی کے نامور لوگوں میں سے خیام، کلیان جی، لکشمی کانت، رویندر جین، طلعت عزیز، سلمی آغا اور سلکھشنا پنڈت شامل تھے۔ تقریباً ہر کوئی اپنے ساتھ کسی نہ کسی کو لے آیا اور میرا ڈرائنگ روم لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ اس کمرے میں اسی لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی مگر سو کے قریب افراد دم سادھے مہدی حسن کے منتظر تھے۔

حسبِ توقع مہدی حسن ایک گھنٹہ تاخیر کے ساتھ پہنچے۔ میں انہیں اندر لانے کے لیے باہر پہنچا تو ان کے ساتھ ان کی بیگم، بچے اور دو سازندوں کے علاوہ ہمارے اپارٹمنٹ نلاکس کا لفٹ آپریٹر بالو ان کا ہارمونیئم اٹھائے سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ اچانک مہدی حسن مڑے اور بالو سے کہا ’بھیا، سنبھل کے، یہ باجا بہت قیمتی ہے‘۔ اور اسی لمحے میں نے بالو کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا اور باجا زمین پر جا پڑا اور اس کے ٹکڑے بکھر گئے۔ یہ بیک وقت خاصی مضحکہ خیز اور شرمندہ کردینے والی صورتِ حال تھی۔ سب سن کھڑے تھے اور منظر کسی ڈراؤنی فلم کے ساکت شاٹ کی طرح تھا جس میں خان صاحب کا چہرہ سرخ تھا اور وہ اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ صرف بالو کو گھورتے رہے۔ اگر گھورنے سے کوئی مر سکتا تو شاید بالو کب کا اگلے جہان کی سیر کر رہا ہوتا۔

جلد ہی کوئی چھ سات لوگوں نے ہارمونیم کے تمام ٹکڑے انتہائی باریکی سے ایک چادر میں جمع کیے اور دو لوگ اسے اٹھائے یوں اوپر کی طرف روانہ ہوئے جیسے یہ کوئی میت ہو۔

اسّی کی دہائی
اسی کی دہائی تک پندرہ برس میں مہدی حسن فلمی موسیقی کے مقبول ترین پلے بیک سنگر رہے۔ اگرچہ اس دوران ایم اشرف جیسے موسیقار نے ان سے ’بھانڈے کلی کرالو‘ جیسے گیت بھی گوائے

اگرچہ مہدی حسن مسکرانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ واضح طور پر سکتے میں تھے۔ ان کا موڈ بدلنے کے لیے کلیان جی بھائی نے اپنے میوزک روم سے ہارمونیم لانے کی پیش کش کی جو صرف ایک میل دور پڑا تھا۔ کسی اور نے بھی باجا لانے کا کہا۔ اچانک مہدی حسن مڑے اور انہوں نے ایک عجیب وغریب مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک پیچ کس منگایا جو فوراً میرے بیٹے نے لاکر انہیں دے دیا۔ اگلے ہی لمحے غزل کا یہ شہنشاہ اپنے باجے کی مرمت میں جڑ گیا۔ یقین کیجیے کہ تقریباً بیس منٹ میں انہوں نے باجے کے تمام ٹکڑے جوڑ ڈالے۔ جیسے ہی باجے پر پہلا سر چھڑا، مجمع جوش سے بےقابو ہوگیا، تالیاں بجیں، سیٹیاں بجیں اور خوشی کا سماں تھا۔

ہنسنے والوں میں سب سے زیادہ اونچی آواز خود مہدی حسن خاں صاحب کی تھی۔ پھر انہوں نے کہا ’حیران نہ ہوئیے، میں ایک گانے والے کے طور پر شہرت حاصل کرنے سے پہلے ایک موٹر مکینک رہا ہوں‘۔

میں اب تک جتنی ایسی محفلوں میں شامل ہوا ہوں یا خود ان کا منتطم رہا ہوں ان میں سے یہ میری زندگی کی یادگار ترین شام ثابت ہوئی جو صبح کے دھندلکے تک چلتی رہی۔ اس دن میں لتا منگیشکر کے اس جملے کے اصل معنوں تک پہنچ پایا جو انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا۔

یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ غزل کی دنیا کے سب سے درخشاں ستارے کو ٹی وی کی سرکار نے کیسے بھلا دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اب ان کی آواز میں وہ دم نہیں اور شاید وہ ہر طرح کے گانے کے لیے موزوں بھی نہ ہو، لیکن اس کا وہ سریلا پن ابھی تک برقرار ہے جیسا بیس برس پہلے تھا۔ کیا کوئی اس کا فائدہ اٹھائے گا۔



بشکریہ ماہنامہ ’ہیرلڈ‘، کراچی، پاکستان
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد