 |  سالي جريس،21 ، طالبعلم |
میں پہلے رشتے کے انتظار اور شادی کے بعد ایک گھر کا کام کرنے والی بیوی بن جانے کے نظریے کے خلاف ہوں کیونکہ عورت چاردیواری کے اندر قید ہونے کے لیے نہیں ہے۔ میں صرف اس مرد سے شادی کروں گی جو نہ صرف میرا نقطۂ نظر سمجھے گا بلکہ اس کا احترام بھی کرے گا۔ میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ مرد اور عورت کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور عورتوں کو بھی کام کرنا چاہیے اور اپنے آپ پر انحصار کرنا چاہیے۔  |  یمان الحصری، 22 ، طالبعلم |
میں سول انجینئرنگ پڑھنا چاہتا تھا لیکن نمبر کم آنے کی بنا پر میں نے میڈیا کے شعبے میں داخلہ لے لیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ طلباء کو نمبروں کے سلسلے میں رعایتیں حاصل ہیں۔ اساتذہ کے بچے اور جولان کی پہاڑیوں سے تعلق رکھنے والے افراد بنا زیادہ نمبر حاصل کیے اچھی یونیورسٹیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب جب میں میڈیا کے شعبے میں آیا ہوں تو مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ مجھ میں اس شعبے کے لیے درکار صلاحیتیں موجود ہیں۔میری خواہش ہے کہ ایک دن میں اپنا ایک ذاتی ٹی وی شو بناؤں اور لوگوں کو دنیا کی مختلف ثقافتوں کے بارے میں آگاہ کروں۔  |  ندى عاليا، 22، طالبعلم |
میں انگریزی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد استاد نہیں بننا چاہتی۔ میرا رجحان اس پیشے کی جانب نہیں ہے۔ میں سیاحت کے شعبے میں کام کرنا چاہتی ہوں یا پھرایک ترجمان کے طور پر۔ میں اٹلی اور سپین جانا چاہتی ہوں کیونکہ میں اس وقت ہسپانوی زبان سیکھ رہی ہوں۔ شادی کے سلسلے میں ابھی سوچا نہیں اور میں اپنے منتحب کردہ شخص سے ہی شادی کروں گی۔ مجھے روایتی شادیوں سے سخت نفرت ہے۔  |  صابرحسکو، 23 ، صحافی |
یہ میرا عزم ہے کہ میں کسی کینیڈین، امریکی یا آسٹریلیائی یونیورسٹی میں کردوں پر تحقیق کروں۔ میں کرد ایران معاملات پر فکر مند ہوں۔ میں اپنی تحقیق کی بنیاد تاریخ پر رکھنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک میرے علم میں ہے محققین کو امریکہ میں یورپ کی نسبت زیادہ مواقع ملتے ہیں۔میں خود ایک کرد ہوں اور میرا گاؤں شام عراق اور ترکی کی سرحدوں کے سنگم پر واقع ہے۔ میں کرد، عربی، ترکی اور انگریزی بول سکتا ہوں اور یہ میری تحقیق میں میری معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔  |  فرح حويجہ، 23 ، طالبعلم |
میں نے سائنس انسٹی ٹیوٹ کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ مجھے حیاتیات کا مضمون بہت پسند ہے۔لیکن اس وقت سائنس کےطلباء کے لیے بیشتر نوکریاں تدریس کے شعبے میں ہیں۔ میں اس شعبے کو اپنے عزائم کا خاتمہ سمجھتی ہوں۔ شام میں اساتذہ کو بہت کم پیسے ملتے ہیں اور معلمین کو نجی طور پر ٹیوشن دینا پڑتی ہے جو کہ میں نہیں چاہتی۔
|