زلزلہ: ’تمام راستے برف اور بارش کی وجہ سے بند ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایران میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور کم از کم پانچ سو ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بی بی سی نے متاثرہ کرمان صوبے کے نائب گورنر ڈاکٹر ایم جے فدائی سے بات چیت کی کہ متاثرین کی امداد کے لیے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں۔ میں اس صبح کرمان شہر میں اپنے گھر پر تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔ ہم بھی زلزلے سے متاثر ہوئے لیکن زیادہ نہیں۔ کچھ لوگ بہت بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم زلزلے کے آنے پر بری طرح دہل گئے۔ جب یہ ہوا تو ہر چیز بری طرح ہل رہی تھی۔ کرمان میں شہر کے اندر اتنا نقصان نہیں ہوا، کچھ عمارتوں کے ڈھانچے کو ہلکا پھلکا نقصان پہنچا اور کچھ گر گئیں۔ علاقے میں تقریباً تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں اور سینکڑوں مارے گئے ہیں۔ زرند کے قریب ایک گاؤں مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جب کہ دوسرے کئی گاؤں جیسے کے روشن میں نوّے فیصد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ باقی گاوں بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔ زرند اور کرمان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اب ہماری ٹیمیں موجود ہیں اور امدادی کام جاری ہیں۔ اس وقت کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے اور ہماری مکمل توجہ متاثرین کی مدد کرنے پر مرکوز ہے۔ متاثرین کے لیے سب سے اہم اس وقت عارضی کیمپوں کا قیام، خیمے اور پلاسٹک کی اشیاء ہیں۔ چونکہ برف باری اور بارش بہت زیادہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم جلد از جلد ٹینٹ کھڑے کریں اور متاثرہ علاقوں تک واٹر پروف اشیاء کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اس وقت متاثرین کی امداد کے لیے ہمارے پاس سولہ سو افراد ہیں جن میں پولیس، ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کا عملہ اور رضاکار شامل ہیں۔ وہ لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے عارضی قیام گاہوں کی طرف منتقل کررہے ہیں۔ ہمیں اب تک تقریباً ہر متاثرہ علاقے کا پتہ چل چکا ہے۔ کچھ متاثرہ گاؤں ایسے ہیں جن تک پہنچنا ناممکن ہے کیونہ تمام راستے برف اور بارش کی وجہ سے بند ہیں لیکن وہاں سے ہمیں معلومات مل رہی ہیں۔
نو ہیلی کاپٹرز متاثرہ علاقوں تک بھیجے گئے تھے تاکہ وہ زخمیوں کو منتقل کرسکیں اور ضرورت کی اشیاء پہنچا سکیں۔ موسم کی وجہ سے ان ہیلی کاپٹرز کو بہت دقت پیش آرہی ہے لیکن ہم اس پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے لیے سب سے اہم متاثرین کو عارضی قیام گاہیں مہیا کرنا ہے اور بچوں کے لیے سکول۔ متاثرہ علاقوں کے تمام سکول بند ہیں اور ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بچے اپنی جماعتوں میں ہوں۔ فی الحال تو ایمرجنسی کا کام اتنا ہے کہ کچھ سوچنے کا وقت نہیں لیکن جب حالات قابو میں آجائیں گے تو ہمیں سوچنا ہے کہ ہمیں لوگوں کے گھروں اور کاروبار کی تعمیرِ نو کے لیے کیا کرنا ہے۔ نوٹ: اگر آپ جنوبی ایران میں ہیں تو زلزلے کا انکھوں دیکھا حال ہمیں لکھ بھیجیے۔ اسی طری اگر آپ افغانستان، پاکستان کے شمالی علاقوں یا منقسم کشمیر کے دونوں اطراف حالیہ برف باری اور سردی کی شدید لہر کا شکار ہوئے ہیں تو بھی اپنی آپ بیتی ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||