نارائن باریٹھ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جے پور |  |
 | | | سہیل شہزاد ایک پاکستانی قیدی ہیں جو جے پور کی جیل میں بند ہیں |
بھارت اور پاکستان کی جیلوں میں قید بارہ سو قیدیوں میں سے بے گناہ اور سزا پوری کرچکے قیدیوں کی رہائی کے لیے کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے قانونی اہلکاروں کے ایک وفد نے جمعرات کو جے پور کی جیل میں بند پاکستانی قیدیوں سے ملاقات کی ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان سے قانونی اہلکاروں کا ایک وفد پاکستان کی جیلوں کا دورہ کرچکا ہے۔ دونوں نے اس بارے میں ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔ پاکستانی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ناصر اسلم زاہد کی سربراہی میں اس وفد نے جے پور جیل میں پاکستانی قیدیوں کے حالات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ’وہ محض چھ پاکستانی قیدیوں سے ہی مل سکیں کیونکہ باقی پاکستانی قیدی ریاست کے دوسرے اضلاع کی جیلوں میں قید ہیں۔‘ جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر اسلم زاہد نے بتایا کہ جن چھ قیدیوں سے وہ ملے ہیں ان میں سے پانچ کی جسمانی حالت اور صحت ٹھیک تھی لیکن ایک کی دماغی حالت درست نہیں ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ انہیں بتایا گيا تھا کہ راجستھان میں صرف 56 پاکستانی قیدی جیلوں میں بند ہیں لیکن انہیں جانکاری ملی ہے کہ یہ تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عوام سے عوام کا رشتہ بہتر ہوا ہے مگر قیدیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سیاسی نیت اور ارادہ بہت ضروری ہے۔ انکا کہناتھا قیدیوں کی رہائی میں بعض مشکلات ہیں لیکن کچھ حل نکل آئے گا۔ ہندوستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن کویتا شریواستو نے بھی پاکستانی وفد سے ملاقات کی اور پاکستان کی جیلوں میں بند راجستھان کے بارمیر علاقے کے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انکے مطالبے پر جسٹس اسلم نے کہا وہ انہیں قیدیوں کے ناموں کی فہرست دیں ’میرے لیے پاکستان کی جیلوں میں بند قیدیوں کا پتہ لگانا پانچ منٹ کا کام ہے۔ ‘ پاکستان کی جیلوں میں ہندوستان کے چھ سو قیدی اور اتنے ہی پاکستانی قیدی ہندوستان کی جیلوں میں بند ہیں۔ دونوں ملکوں کی حکومت نے قیدیوں کے رہائی اور انکے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ |