صدر مشرف سے رابطے برقرار: بھارت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو ہندوستان ایک منتخب صدر اور بھروسے مند رہنما کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور بھارت ان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا۔ قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این میں ایک انٹرویو کے دوران کہی ہے۔ انٹرویو کے دوران ایم کے نارائنن نے حال میں صدر پرویز مشرف کی کارکردگی کی شتائش کرتے ہوئے کہا: ’وہ فوجی صدر سے اب ایک سویلین صدر بن چکے ہیں انہوں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ اسمبلي انتخابات میں کا بائیکاٹ نہ ہو۔ وہ کافی حد تک وہ کامیاب رہے ہیں۔‘ پاکستان کے حالات پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ایم کے نارائنن نے مزيد کہا کہ ’فی الوقت وہ پاکستان کے منتخب صدر ہيں لیکن ان کی صدارت کو باقائدہ طور پر اس وقت منظوری حاصل ہوگی جب نئی پارلیمان دو تہائی اکثریت کے ساتھ ان کے صدر ہونے کا اعلان کرے۔‘ اس عمل کو ممکن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’موجودہ صورت حال کے مدنظر یہ صاف ہے کہ وہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائيں گے۔ ہم نے ماضی میں بھی ان سے بات چیت کی ہے اور یہ عمل آگے بھی جاری رہے گا۔‘ نارائنن کے مطابق مشرف کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ فوج ان کا ساتھ دے اور ان کی وفادار رہے۔ ایم کے نارائنن کے خیال میں پاکستانی فوج کے نئے سربراہ اشفاق کیانی ایک پیشےور فوجی اور مشرف کے قریبی ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان بینظیر بھٹو کو پاکستان کا وزیراعظم کے طور پر خیرمقدم کرے گا کیوں کہ انہوں نے مختلف انٹرویوز ميں دہشتگرد کیمپوں کو بند کرنے کی بات کہی ہے تو ایم کے نارائنن نے خود سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ (بینظیر) اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گی؟‘ | اسی بارے میں ’خلیجی ریاستوں پر حملوں کا خطرہ‘09 December, 2007 | انڈیا ’ شواہد شاید فیصلہ کن نہ ہوں‘22 October, 2006 | انڈیا سخت سکیورٹی، نارائنن کا خط اور بھکاریوں کی چھٹی13 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||