آسام اور جھارکھنڈ: عام زندگي متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمال مشرقی ریاست آسام میں گزشتہ سنیچر کو قبائلیوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ہونے والے تشدد کے خلاف پیر کو آسام اور جھارکھنڈ بندہے۔ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں عام زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔اور کئي مقامات پر مظاہرین نے ٹریفک روک رکھی ہے۔ رانچی سے بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کا کہنا ہے کہ ریاست میں ٹرین سروسیز بھی متاثر ہورہی ہیں۔ بند کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے ہیں اور تشدد کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب گوہاٹی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ریاست آسام میں بھی بند کا اثر دیکھا جارہا ہے۔ گزشتہ سنیچرکو گوہاٹی میں سنتھال نامی قبائل کی طلبہ یونین کی ریلی پرتشدد اور قبائلی اور مقامی باشندوں کے درمیان ہوئی چھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ سنتھال کے قدیم باشندوں کی طلبہ یونین ہندوستان کے آئین کے تحت شیڈول قبائل کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ بہار اور جھارکھنڈ ميں اس برادری کو شیڈول قبائل کا درجہ حاصل ہے جس سے انہیں ملازمت اور تعلیم کے میدانوں میں بہتر مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ آسام کے سنتھال قبائلی مرکزی ہندوستان کے ان قبائلیوں کی نماندگی کرتے ہیں جنہیں برطانوی دورِ حکومت میں چائے کے باغات میں کام کرنے کے لیے آسام لایا گیا تھا۔ | اسی بارے میں آسام دھماکہ: ایک ہلاک آٹھ زخمی01 September, 2007 | انڈیا آسام: باغیوں نے کونسلر کو مار ڈالا21 January, 2007 | انڈیا آسام: مشتبہ افراد کی تلاش جاری 09 January, 2007 | انڈیا آسام: الفا باغیوں کا حملہ، دو ہلاک07 August, 2006 | انڈیا آسام کے باغیوں کا مطالبہ مسترد01 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||