نیا سماج، ارتھی کو کندھا دیتی عورتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شرمیلا دیوی نے حال ہی میں اپنے سسر ہلاس مہتو کی ارتھی کو کاندھا دیا اور لاش کو آگ دینے میں بھی وہ شامل رہیں، عام طور پر ہندو معاشرے میں یہ کام بیٹے یا کسی دوسرے مرد کے ذمہ ہوتا ہے۔ نوادہ ضلع کی باشندہ اور پیشے سے نرس شرمیلا دیوی روایتی مذہبی رسم و رواج پر عمل کرنے والی اس ’ارجک تحریک‘ سے منسلک ہیں جو ایک ’سائنسی اور غیر برہمن نواز‘ سماج کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے۔ شرمیلا کا کہنا ہے کہ’جب مرد اپنے ماں باپ کی ارتھی کو کندھا دے سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں دے سکتیں۔ برہمن نواز سسٹم میں عورتوں پر بہت سی پابندی ہے، ہم اسے توڑنا چاہتے ہیں۔ اس کےعلاوہ لاش کو شمشان گھاٹ لے جاتے وقت رام نام ستیہ کی جگہ جیون مرتیو ستیہ کی آواز بلند کی جاتی ہے۔‘ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا: ’شروع میں تو تھوڑا عجیب لگا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب تو کوئی گھبراہٹ بھی نہیں ہوتی۔ ہمارے یہاں کسی کے مرنے کے بعد ہونے والا برہمن بھوج وغیرہ نہیں ہوتا۔‘ ارجک تحریک کے ریاستی صدر ارون کمار گپتا کا کہنا تھا کہ یہ ارجن (کما کر کھانے والوں) کی تحریک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تحریک کے بانی اتر پردیش کے مشہور سماج سدھارک رام سوروپ ورما ہیں۔ فی الحال اس تحریک کے پیروکار بہار کے علاوہ یوپی، مدھیہ پردیش، بنگال، اترانچل اور جھاڑکھنڈ میں بھی ہیں۔
مسٹر گپتا نے بتایا کہ ریاست میں قریب پندرہ ہزار افراد اس تحریک سے منسلک ہیں اور جتنے مرد اس تحریک میں شامل ہیں اتنی ہی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ نوادہ میں اس ارتھی یاترا میں شامل اپیندر پتھک کہتے ہیں کہ آخری رسومات کے علاوہ عورتوں کو شادی بیاہ کی رسم ادائیگی کا بھی کام دیا جاتا ہے۔ بقول مسٹر پتھک ’شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی والوں کی طرف سے دو دو گواہوں کی موجودگی میں ایک عہد نامے پر دستخط کر کے اور مالا پہنا کر شادی کا عمل مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کے موقع پر مڑوہ وغیرہ کی رسم بھی نہیں ہوتی۔ ارجک سماج میں عام ہندو تہوار بھی نہیں منائے جاتے۔ اپیندر پتھک نے بتایا کہ تہواروں کے نام پر ان کے سماج میں یوم آزادی، ڈاکٹر امبیڈکر اور گوتم بدھ کا یوم پیدائش جیسے چودہ مواقع ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم رام کرشن اور پنر جنم میں یقین نہیں کرتے، نہ ہی ہولی، دیوالی، درگاپوجا اور چٹھ وغیرہ مناتے ہیں۔‘ بہار میں ہندو عورتیں تیج اور چھٹھ وغیرہ تیوہار بڑی پابندی سے مناتی ہیں۔ اس تحریک میں شامل چنتا دیوی سے پوچھا گیا کہ برت اور چھٹ نہیں کرنے پر کیسا لگتا ہے تو ان کا جواب تھا:’ کچھ نہیں لگتا، جب مرد عورت ایک ہیں تو صرف عورت کشٹ (تکلیف) کیوں اٹھائے۔‘ وہ کہتی ہیں: ’چاہے جتنا برت اور چھٹھ کر لیں بیمار ہونے پر آدمی ٹھیک تو دوا کھا کر ہی ہوتا ہے۔‘
اس تحریک میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ انہیں ہندو روایات سے الگ ہونے کی وجہ سے سماج میں مخالفت کا تو سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ارجک تحریک کے اہلکار ارون گپتا کہتے ہیں ’زیادہ ورودھ (مخالفت) ہونے پر ہمارے لوگ نقل مکانی کر لیتے ہیں کیوں کہ کئی بار یہ سماجی بائیکاٹ کی شکل میں سامنے آتا ہے۔‘ لاش کو کاندھا اور آگ دینے کو پٹنہ کے مشہور مہاویر مندر کے اہلکار کشور کنال غیر روایتی تو مانتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس میں دھرم شاشتر کے خلاف کچھ نہیں۔ اسی طرح راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے عہدیدار سوتنتر رنجن کہتے ہیں کہ ارجک سنگھ کے لوگ بھی ہندو سماج کے ہی انگ ہیں لیکن وہ اس طرح کے غیر روایتی عمل کو فروغ دینے کے حق میں نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||