سفیر کے متنازعہ بیان پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ہندوستانی سفیر رونین سین کے ایک متنازعہ بیان پر پارلیمنٹ میں دوسرے روز بھی زبردست ہنگامہ ہوا جس کے سبب کارروائی ملتوی کرنی پڑی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازوو کی جماعتوں نے رونین سین کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر حکومت، حزب اختلاف اور بائیں محاذ کے درمیان اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر سین نے ایک بیان میں کہا تھا ’جب اسے یہاں امریکی صدر اور وہاں کابینہ نے منظور کرلیا ہے تو پھر اس سوال پر ادھر ادھر فضول سوالات کرنے کیا مطلب‘؟ مسٹر سین نے مزید کہا تھا کہ اس طرح کی بحث آزادی کے فوراً بعد تو سمجھ میں آسکتی تھی لیکن آزادی کے ساٹھ برس بعد یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ’ایسا لگتا ہے کہ ہم اب بھی عدم تحفظ کے احساس سے نکل نہیں پائے ہیں یا پھر ہم میں خود اعتمادی نہیں آئی ہے‘۔ بی جے پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ مسٹر سین کا یہ بیان ارکانِ پارلیمان کے لیے’ توہین آمیز‘ اور قطعی غیر مناسب ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر لیڈر وجے کمار ملہتورا نے سپیکر سے مطالبہ کیا: ’رونین سین کو پارلیمنٹ میں طلب کیا جائے اور وہ معافی مانگیں‘۔ ادھر مسٹر سین نے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں ارکانِ پارلیمان کے لیے کوئی ایسا بیان دیا ہے۔ ایک وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا ’میرا یہ بیان کہ ’ہیڈ لیس چکن‘ کی طرح تبصرے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا میرے بعض صحافی دوستوں کے لیے تھا اور کسی بھی رکن پارلیمان کے لیے نہیں تھا‘۔ رونین سین کا وضاحتی بیان وزیرِ خارجہ پرنب مکھرجی نے پارلیمنٹ میں پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر سین کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے جس کے لیے انہوں نے معافی بھی مانگ لی ہے۔ حکومت نے اس بیان کو ’غیرضروری‘ قرار دیا ہے۔ ناراض ارکان اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور کہا کہ وہ مسٹر سین کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں۔ ارکان نے وزیرِاعظم منموہن سنگھ سے یہ جاننا چاہا کہ آخر رونین سین کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ رونین سین نے چند روز قبل ریڈف ڈاٹ کام کے ساتھ ایک غیر رسمی بات چیت کے دوران اپنا متنازعہ بیان دیا تھا۔ پارلیمنٹ میں بڑھتی ہوئی مخالفت کے کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر پریہ رنجن داس منشی نے ایک بیان میں کہا ہے ’رونین سین کو واپس بلانے کے مطالبے کے متعلق وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ کو آگاہ کیا جائےگا‘۔ اطلاعات کے مطابق حکومت امریکہ میں موجودہ بھارتی سفیر رونین سین کو دلی بلانے پر غور کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں معاہدہ: خدشات دور کرنے کی کوشش19 August, 2007 | انڈیا ’امریکہ سے جوہری معاہدہ مسترد‘07 August, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ:بی جے پی ناراض04 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||