ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | گوا فلم فسٹیول سنجیدہ ناظرین کے لیے ایک سہنری موقع ہے |
قومی اور عالمی مختصر، دستاویزی اور اینیمیشن فلموں کا میلہ اٹھائیس اپریل سے گوا میں شروع ہو گیا ہے۔ یہ فسٹیول پانچ دنوں تک جاری رہے گا۔ فسٹیول کا افتتاح دینا ناتھ منگیشکر کلا اکیڈمی میں گوا کے چیف سیکرٹری جے پی سنگھ کے ہاتھوں ہوا اس موقع پر فلمی اداکارہ ایشا کوپیکر، فلمساز پنکچ پراشر، چیف پروڈیوسرز آف فلم ڈویژن کلدیپ سنہا موجود تھے۔ فسٹیول کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مختصر فلمیں، ڈاکو منٹری فلمیں اور پھر اینی میشن فلمیں۔انڈین فلم انڈسٹری نے حال ہی میں اینی میشن فلمیں بنانی شروع کی ہیں اور اب اس نے ناظرین میں اچھا مقام بنا لیا ہے بلکہ یہ فلمیں بزنس بھی کر رہی ہیں۔ مختصر اور دستاویزی فلمیں کسی خاص موضوع کو لے کر بنائی جانے والی سنجیدہ فلمیں ہوتی ہیں جنہیں کمرشل سنیما کی طرح اکثر عام ناظرین نہیں دیکھ پاتے۔انہیں آپ یا تو کسی فلم فیسٹیول میں ہی دیکھ سکتے ہیں یا پھر کسی مخصوص پروگرام میں۔
 | | | اس موقع پر فلمی اداکارہ ایشا کوپیکر بھی موجود تھیں |
گوا فلم فسٹیول ایسے سنجیدہ ناظرین کے لیے ایک سہنری موقع ہے۔ اس فیسٹیول میں چند ایسی شاہکار فلموں کی نمائش کی جا رہی ہے جنہوں نے ایوارڈ حاصل کیا ہے۔فسٹیول میں 74 فلمیں دکھائی جائیں گی جن کا آغاز ’دی لٹل ٹیررسٹ (ننھا دہشتگرد)‘ سے ہو گا۔ پندرہ منٹ کی اس فلم کی ہدایات اشون کمار نے دی ہیں۔اس کے بعد بلغاریہ کی فلم ’ہوز از دس سانگ (یہ نغمہ کس کا ہے)‘ دکھائی جائے گی۔ ان کے علاوہ دیگر ایوارڈ یافتہ فلموں میں سے چند فلمیں جن میں آسٹریلیا کی ’چلڈرن آف تبت‘ کینیڈا کی ’زیرو ڈگریز آف سیپریشن‘ آسٹریلیائی ہدایت کار ولیم نیسن کی فلم ’دی بلیک روڈ (سیاہ سڑک)‘ اور بلجیم کی ’دی چائینیز ڈاگ (چینی کتا)‘ اس فسٹیول میں پیش ہوں گی۔
 | | | فلم فیسٹیول میں نہ تو لوگوں کی بھیڑ ہے اور نہ ہی لوگ اس سے اچھی طرح واقف ہیں |
فلم فیسٹیول میں نہ تو لوگوں کی بھیڑ ہے اور نہ ہی لوگ اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ایسے فلم فیسٹیول کو شروع کرنے سے قبل ان کے بارے میں اگر عوام اور اس سے دلچسپ رکھنے والے ناظرین کو صحیح انداز میں آگاہ کیا جائے تو ایسا نہیں ہے کہ مختصر دستاویزی فلموں کے چاہنے والوں کی کمی ہو۔وزارت اطاعات و نشریات اور گوا کلا اکیڈمی کے لیے، جن کی مشترکہ کوششوں سے یہ فسٹیول منایا جا رہا ہے، شاید یہ بات مستقبل کے لیے سبق ثابت ہو۔
|