ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی |  |
 | | | مامی فیسٹیول کے چئرمین فلمساز اور ڈائریکٹر شیام بینیگل ہیں |
ممبئی اکیڈمی آف دی موونگ امیج ( مامی ) فلم فیسٹیول آٹھ مارچ سے ممبئی میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ فلمی میلہ سات روز تک جاری رہے گا۔ انڈیا کی فلمی صنعت کا اصل مرکز ممبئی ہے اور اسی لیے اسے بالی وڈ بھی کہا جاتا ہے لیکن ممبئی میں منایا جانے والا یہ فلمی میلہ دوسری ریاستوں کے فلمی میلوں کے مقابلے کبھی فنڈ کی کمی کا شکار رہا تو کبھی خود بالی وڈ کے بڑے فلمسازوں کی عدم توجہ کا شکار۔ حکومت ہند اپنی جانب سے گوا میں ہر برس فیسٹیول مناتی ہے لیکن وہ بھی اپنے قدم جمانے میں ابھی پوری طرح کامیاب نہیں ہے۔ البتہ اس کے مقابلے میں کولکتہ، تھرواننتاپورم، پونے، بنگلور اور حیدرآباد کے فلمی میلے کافی کامیاب رہتے ہیں۔ مامی فلم فلمی میلہ اس برس شاید کچھ کمال دکھائے کیونکہ اس سال فنڈ کی کمی دور ہو گئی ہے۔ اس مرتبہ ریلائینس کمپنی آف گروپ کے انیل امبانی اور ٹینا امبانی نے اس پر نظرِ کرم کی ہے اور اسے ڈیڑھ کروڑ روپے کی مالی امداد دے رہے ہیں۔ ٹینا امبانی (منیم) خود کبھی بالی وڈ کی مشہور اداکارہ رہ چکی ہیں۔ ہر فلم فیسٹیول میں غیر ملکی فلموں کی نمائش اسے زیادہ کامیاب بناتی ہیں اور اس مرتبہ مامی میں بتیس ممالک کی فلموں کی سکریننگ ہو گی جن میں جنوبی افریقہ کی فلموں کی تعداد زیادہ ہے۔ مامی فیسٹیول کے چئرمین اور فلمساز شیام بینیگل کا کہنا ہے کہ اس برس مامی فیسٹیول آنجہانی فلمساز رشی کیش مکھرجی کے نام ہو گا جو مامی کے سابق چئرمین تھے۔ مسٹر بینیگل کے مطابق ایران سے فلمساز بھی شرکت کر رہے ہیں اور ان کی فلمیں لوگوں کی توجہ کا مرکز ضرور بنیں گی۔
 | میلے کی پہلی اور آخری فلم  سپین کی چند نئی فلموں کے علاوہ فیسٹیول کی پہلی فلم زیانگ یمو کی ’ کرس آف دی گولڈن فلاور‘ ہو گی جبکہ میرا نائر کی فلم ’نیم سیک‘ فیسٹیول کی آخری فلم ہو گی  |
فیسٹیول میں مجموعی طور پر ایک سو پچیس فلموں کی نمائش ہو گی۔ سپین کی چند نئی فلموں کے علاوہ فیسٹیول کی پہلی فلم زیانگ یمو کی ’ کرس آف دی گولڈن فلاور‘ ہو گی جبکہ میرا نائر کی فلم ’نیم سیک‘ فیسٹیول کی آخری فلم ہو گی۔ مامی کے ٹرسٹیوں میں جیا بچن بھی ہیں اور خبریں ہیں کہ اس برس امیتابھ بچن بھی مامی فلمی میلے میں شریک رہیں گے اور انہیں ایک ایک خصوصی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ |