BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 July, 2004, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہلی میں ایشیائی فلم فیسٹیول

عتیق رحیمی کی فلم ’خاکستر و خاک‘
عتیق رحیمی کی فلم ’خاکستر و خاک‘ کو فیسٹیول کے بہترین دو فلموں میں شامل گیا
ایرانی ہدایت کار مسحن مخمل باف کی فلم ’ایک تھا راجہ‘ (ونس اپان اے ٹائم) کے ساتھ دہلی میں ایشیا سینما کی نمائش اتوار پچیس جولائی کو اختتام کو پہنچی۔

اس فیسٹیول میں خستہ خوردہ لوگوں کے حالات کی ترجمانی کرتی افغانی اور تائیوانی فلمیں مشترکہ طور سے بہترین فلمیں قرار پائیں۔

پیرس میں مقیم افغانستان کے ہدایت کار عتیق رحیمی کی فلم ’خاکستر و خاک‘ اور تائیوان کے لی کانگ شینگ کی فلم ’بوجیان‘ (گمشدہ) کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔

اس نمائش کا اہتمام ’اوسیان سینے فین‘ نے کیا تھا۔ پچھلے پانچ برس میں اس تنظیم کی کوشش رہی ہے کہ ایشیائی فلم سازوں میں نزدیکیاں پیدا کی جائیں اور شائقین کودوسرے کے ممالک کی شاہکار فلموں سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کیا جائے۔ شاید اسی لیے ایک ہفتے جاری رہنے والے اس فلمی فیسٹیول میں ایشیائی ملکوں کی تقریباً ساٹھ سے زائد فلموں کی مفت نمائش کا انتظام شہر کے چار بڑے آڈیٹوریم (سری فورٹ ایک اور دو، انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر اور فرانسیسی کلچرل سینٹر) میں کیا گیا۔

اوسیان سینے فین کی ڈائریکٹر ارونا اسودیو کا کہنا ہے کہ ’ایشیائی فلموں کی اس چھٹی نمائش میں ہماری کوشش رہی ہے کہ ہم ایشیا کے زیادہ سے زیادہ فلمی ہدایت کاروں کو تلاش کریں اور ان کو دہلی کے شائقین کے رو برو کرائیں‘۔

خاموش پانی
پاکستانی فلم ’خاموش پانی‘ کو فیسٹیول میں دکھایا گیا

انہوں نے مزید کہا کہ ’اتنے سارے ہدایت کاروں اور دنیا بھر میں فلمی میلے آرگنائز کرنے والوں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ایشیا کی فلموں میں لوگوں کی دلچسپیاں بڑھی ہیں‘۔

بھارت اور پاکستان سمیت ایشیا کے بیس ملکوں کی فلموں کے تقریباً ایک سو تین شوز اس ایک ہفتے میں دکھائے گئے۔

بھارت کی فلم نگری (جسے بالی ووڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) سے آنے والے ایک فلم فین فیاض احمد نے کہا۔ ’ہر چند کہ ممبئی میں فلمیں بنائی جاتی ہیں مگر ایسے فیسٹیولز وہاں نہیں ہوتے۔ دہلی والے اس معاملے میں خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسی نایاب فلمیں فیسٹیولز کے نام پر دیکھنے کو مل جاتی ہیں اور وہ بھی مفت۔‘

فیسٹیول کے دوران شائقین کی بڑھتی تعداد کے سامنے آڈیٹوریم چھوٹے نظر آ رہے تھےاور شائقین زمین اور سیڑھیوں پر بیٹھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے تھے۔ ایک فلم فین منجولا ڈیسائی نے کہا ’ایسی فلمیں شاید ہم پھر کبھی نہیں دیکھ سکیں‘۔

نمائش ’اوسیان سینے فین‘ کے اہتمام سے ہوئی
نمائش ’اوسیان سینے فین‘ کے اہتمام سے ہوئی

پاکستانی فلم ’خاموش پانی‘ (ہدایت: صبیحہ ثمار) کی نمائش میں سب سے زیادہ بھیڑ نظر آئی۔ دنیا بھر میں ایک درجن سے زیادہ انعام حاصل کرنے والی اس فلم میں لوگوں کی دلچسپی جہاں بھارتی اداکار کرن کھیر کی اداکاری میں تھی وہیں پاک بھارت تعلقات میں آئی بہتری بھی اس کا سبب کہی جا سکتی ہے۔

اس فلم فیسٹیول میں ایرانی ہدایت کار مخمل باف کے خاندان کے ذریعے بنائی گئی فلموں کی نمائش بھی ہوئی۔ ان فلموں میں ’نویتِ عاشقی‘، ’الف بے افغانستان‘،’روزے کہ زن شدن‘ (جس دن میں عورت بن گیا)، ’تختِ سیہ‘، ’روزے کہ خالم مارض بود‘ (جس دن میری چچی بیمار پڑی) اور ’لذتِ دیوانگی‘ شامل رہیں۔

اس نمائش میں بھارت کے مشہور ہدایت کار اور اداکار گرو دت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سات فلمیں دکھائی گئیں۔ ان میں ’بازی‘، ’سی آئی ڈی‘، ’مسٹر اینڈ مسز پچپن‘، ’پیاسا‘، ’کاغذ کے پھول‘، اور ’صاحب بی بی اور غلام‘ جیسی عہد ساز اور سدا بہار فلمیں شامل ہیں۔ ہانگ کانگ کے ہدایت کار وونگ کاروائی کی پانچ فلمیں بھی اسی ضمن میں دکھائی گئیں۔

فلم کریٹک اور صحافی سائبل چیٹرجی نے کہا کہ ’ان دونوں کی فلمیں دو مختلف دنیا ہیں۔ جہاں گرو دت صاحب کی فلمیں کلاسیکی حیثیت کی حامل ہیں وہیں وان کاروائی کی فلمیں شکستہ بیانیہ کے جدید تجربے ہیں اور ان کو ہالی ووڈ سمیت ساری دنیا میں کافی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کی فلموں کی نمائش یہاں کے ہدایت کاروں کے لیے کافی اہم ثابت ہو سکتی ہیں‘۔

گجرات کے فسادات پر بنائی گئی فلم ’فائنل سولوشن‘ یعنی آخری حل اور عرب اور اسرائیل کے تفاوت کی منظر کشی کرتی سمیر کی فلم ’فارگٹ بغداد‘ کی سپیشل سکریننگ بھی اسی موقع سے کی گئی۔

یاد رہے کہ عرب ممالک میں فلم اور اس کے تیئں رجحان کو سامنے لانے کے لیے ان ممالک سے ایک درجن سے بھی زیادہ فلموں کی نمائش کی گئی۔ یمن کے ایک فلم فین محمود الحسن نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ یہ ایک اچھی اور اچھوتی کوشش ہے۔ مجھے عرب اور مسلم ممالک میں فلموں کے معیار کا اندازہ ہوا۔ ایران اور ترکی کی فلموں نے مجھے کافی متاثر کیا۔ ایشیائی ملکوں کے مایبین ایسی کوشش ہر سطح پر ہونی چاہیے‘۔

دہلی کی وزیرِ اعلیٰ شیلا دِ کشت نے اس نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے خوشی اور فخر کا اظہار کیا تھا: ’دہلی کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ یہاں ایشیا کی بہترین فلموں کی نمائش کی جا رہی ہے جو کہ ایشیائی ملکوں کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کو ہمارے رو برو لانے میں کافی معاون ہوگی۔

پاکستانی، ترکی، ایرانی، کوریائی، چینی، افغانستانی، جاپانی فلموں کو لوگوں نے خوب خوب سراہا۔ ان کی فلموں میں دلچسپی اور اس کے بعد ہونے والی گفتگو کے پیشِ نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نمائش کے منتظمین سے کہیں زیادہ شائقین کو اگلی نمائش کا انتظار رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد