’سرود کے بغیر بالکل بیکار آدمی ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
استاد امجد علی خاں کہتے ہیں کہ سُرود ہندوستانی گٹار ہے۔ ’دراصل سرود کا مطلب ہے موسیقی ۔اس کی تاریخ میں جائیں تو افغانستان میں ایک ساز بجایا جاتا ہے وہ ہے ’رباب‘۔ سرود کےعلاوہ میں بالکل بیکار آدمی ہوں۔ حالانکہ میں تھوڑا بہت گانا اور تبلہ سیکھا تھا۔ آزادی کے بعد پڑھائی کا زبر دست ماحول بن گیا تھا، ہر آدمی پڑھ لکھ کر سرکاری نوکری کرنا چاہتا تھا اس دور ميں بہت سے فنکاروں کا قدرتی ٹیلنٹ برباد ہوگیا۔اس لیے میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ زیادہ پڑھوگے تو سرود نہیں بجا سکتے۔ بی بی سی دلی کے سنجیو شری واستو سے ایک ملاقات کے دوران استاد امجد علی خان نے کچھ سوالوں کے جواب دیئے جو کچھ یوں ہیں۔ س۔ آپ کی چھ پیڑیوں کا تعلق موسیقی سے ہے لیکن موسیقی کے حوالے سے آپ کی پہلی یاداشت کیا ہے؟ ج۔ گھر میں پوری طرح موسیقی کا ماحول تھا، کھانا پینا اور سوچنا سب موسیقی کے درمیان ہوتا تھا۔میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے چچا ، چچا زاد بھائی سبھی بہترین فن کا ر تھے اور میرے لیے استاد جیسے تھے۔ ہمارے خاندان میں موسیقی کی روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے اور خدا کےفضل سے آمان اور آیان اس روایت کی ساتوی پیڑی ہیں۔ س۔ آپ کی پیدائش گوالیر میں ہوئی ہے، تان سین بھی شاید یہیں سے تھے؟ ج۔ ہاں! میاں تان سین انہیں کہا جاتا تھا۔ میاں کا تخلص دیاگیا۔ ہمارے شاستریہ موسیقی کی کچھ ایسی روایتیں ہیں، جس طرح مندر میں پجاری ، چرچ میں فادر ہوتے ہيں اسی طرح ہم بھی آواز اور موسیقی کے پجاری ہیں۔اور اس لیے شاستریہ سنگیت میں بھی نام لینے کی بجائے پنڈت جی یاخان صاحب وغیرہ کہا جاتا ہے۔ ہماری یہ روایت بھی دھیرے دھیرے ختم ہورہی ہے۔ س۔ سرود کی کیا خاصیت ہے مطلب دوسروں کو سمجھائیں تو کیسے؟ ج۔بس یہ سمجھیئے کے یہ ہندوستانی گٹار ہے۔ دراصل سرود کا مطلب ہے موسیقی ۔اس کی تاریخ میں جائیں تو افغانستان میں ایک ساز بجایا جاتا ہے وہ ہے ’رباب‘۔ س۔ اگر آپ سرود نہیں بجاتے تودنیا میں اپنا ہنر دکھانےکے لیے کون سا ساز اپناتے؟ ج۔سرود کےعلاوہ میں بالکل بیکار آدمی ہوں۔ حالانکہ میں تھوڑا بہت گانا اور تبلہ سیکھا تھا۔ آزادی کے بعد پڑھائی کا زبر دست ماحول بن گیا تھا، ہر آدمی پڑھ لکھ کر سرکاری نوکری کرنا چاہتا تھا اس دور ميں بہت سے فنکاروں کا قدرتی ٹیلنٹ برباد ہوگیا۔اس لیے میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ زیادہ پڑھوگے تو سرود نہیں بجا سکتے۔
ویسے بھی پڑھائی لکھائی کا دنیامیں کیا رول ہے، میں تو نہیں سمجھ پایا ہوں۔ پڑھائی انسان کو رحم دل نہیں بنا پائی ہے اتنی نفرت حسد اور غصہ، یہ کون سی پڑھائی ہے جو انسان کومہذب نہیں بناپائی ہے۔ س۔ آپ فنکار کے ساتھ ساتھ انقلابی خیال بھی رکھتے ہیں؟ ج۔نہیں یہ میرے دل کی آواز ہے، میرا یہی کہنا ہےکہ جو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرود بجا رہا ہے تو لگتا ہے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص سرود بجا رہا ہے لیکن جب تک آدمی پوری طرح اپنے فن میں ڈوبتا نہیں ہے وہ اچھا سرود نہیں بجا سکتا۔ س۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاستریہ سنگیت کو پسند کرنے والے یا اس کی قدر کرنے والے لوگ ہندوستان کے باہرآباد ہیں۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہيں؟ ج۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان میں بہت سی ریاستیں ہیں، میں بارہ سال کی عمر سے ہی ملک بھر میں گھوم رہا ہوں کئی جگہ گیا ہوں۔ ہندوستان کی سیاست میں کتنے نشیب وفراز آئیں ہوں لیکن اس بات کوکوئی انکار نہیں کر سکتا کہ امجد علی خان ، بسم اللہ خان کو بنانے والا ہندوستان ہی ہے۔ س۔آپ کے بیٹے بہت خوبصورت ہیں ظاہر ہے پروگرام کے دوران لڑکیاں بھی ان کی طرف مائل ہوتی ہونگی آپ کو کیسا لگتا ہے؟ س۔ آپ کو اس طویل سفر میں ایسے کتنے مواقع ملے جب آپ نے پھول کو سونگھ کر چھوڑ دیا اور اس کے آگے کچھ بھی نہیں سوچا؟ ج۔ یہ فظری عمل ہے اور اصل فنکاروں کی زندگی میں نظر ڈالیں تو کئی کہنایاں مل جائیں گیں۔ فنکار کوئی پتھر نہیں ہوتا ہے عام آدمی کی طرح اس کے بھی جذبات ہوتے ہيں۔ میں 1966 میں جب افغانستان گیا تھا تو وہاں مجھے ایک عورت بہت خوصورت لگی تھی تب مجھے لگا کہ اس سے حسین دوسری کوئی خوبصورت خاتون نہیں ہے ملاقات ہوئی پھر دوستی رہی۔ رشتے رہے لیکن بات آگے نہیں بڑھی ۔ میرے زندگی میں سب کچھ سوبا لکشمی کے ساتھ ہوا۔ س۔ یہ کیسے ہوا؟ ج۔وہ خود ایک رقص کرنے والی عورت تھی میرے سسر پرشورام بروا (شیو ساگر) آسام میں چاۓ کی تجارت کرتے تھے۔کولکتہ ميں جب لکشمی کومیں نے پہلی بار دیکھا تو لگا کہ انہیں میرے لیے بنایا گیا ہے پھر میں نے ملنے جلنے کی کوشش کی اور پیا رکا اظہار کیا اور انکے والدین اور بھائي کو راضی کیا اور شادی کی۔ س۔ عصر حاضر کے فنکاروں میں آپکا پسندیدہ کون ہے؟ ج۔ میں نے روی شنکر ، بھیم سین جوشی ، ولایت خان ، بسم اللہ خان ، پنڈت کشن مہاراج ، گودئی مہاراج ، کمار گندھورو کے ساتھ کام کیا ہے اس میں سے کچھ دنیا کو الوداع کہہ چکے ہيں اور باقی دراز عمر ہیں۔ آج میں ان سبھی کی کمی محسوس کرتاہوں۔ بڑے غلام علی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا موقع ملا ہے اور ہمشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جس کے ساتھ کام کروں اس سے کچھ سیکھ سکوں۔ آپ کا پسندیہ گلوکار؟ ج۔ نصرت فاتح علی خان، اور غزل گلوگارہ بیگم اختر کافی پسند ہیں۔ | اسی بارے میں اچھے کھانوں، لباس کا شوق ہے: قصوری14 January, 2007 | پاکستان ’جو دل میں ہو بول دیتا ہوں‘21 January, 2007 | انڈیا اڈوانی کی شخصیت کا ’دوسرا‘ پہلو26 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||