بھارت: نیا میزائل شکن نظام جلد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے چوٹی کے دفاعی سائنسداں اور مزائل پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر وجے کمار سرسوت نے کہا ہے کہ مزائل سے مزائل کو مار گرانے کے جس نظام کا گزشتہ ہفتہ کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اسے چار سال کے اندر فوج کے حوالے کردیا جائے گا- ڈاکٹر سرسوت نے کہا کہ حیدرآباد دکن میں واقع ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اب ایک ایسے مزائل شکن مزائل پر کام کررہا ہے جو گزشتہ ہفتہ آزمائے گئے مزائل سے کہیں زیادہ طاقتور اور تیز رفتار ہوگا- نیا مزائل چار مہینے کے اندر آزمایا جائےگا۔ جو نیا مزائل تیار کیا جارہا ہے وہ 30 تا 10 کیلو میٹر کی بلندی پر دشمن مزائل کو تباہ کرسکتا ہے- انہوں نے کہا کہ اس نظام کا کامیاب تجربہ ملک کے دفاع کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ملک پر ہونے والے کسی بھی مزائل حملے کو ناکام بناسکتا ہے- یہ سارا نظام خود کار ہے جیسے ہی راڈار دشمن مزائل کا پتہ لگاتا ہے ویسے ہی مشن کنٹرول سنٹر دوسرے متعلقہ مراکز کو چوکس کردیتا ہے ۔ اس مرکز کے کمپیوٹرس جوابی کارروائی کرنے والے مزائل کے لانچنگ سنٹر کو حملہ آور مزائل کی پوزیشن کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرنا شروع کردیتے ہیں اور یہ معلومات سیدھے اس مزائل پر نصب کمپیوٹر پر پہنچ کر اس کی رہنمائی کرنے لگتے ہیں- اس تجربہ کی کامیابی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ مزائل شکن نظام اب تک دنیا میں صرف تین ملکوں امریکہ ، روس اور اسرائیل کے پاس موجود ہے- ڈاکٹر سرسوت نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کامزائل نظام ہندوستان کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے- انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک جتنے مزائل داغے ہیں اس رینج کے مزائل بھارت کے پاس بھی ہیں۔ | اسی بارے میں پرتھوی کا ایک اور تجربہ12 May, 2005 | انڈیا معاہدے کا دن، میزائیل کی آزمائش 03 October, 2005 | انڈیا پرتھوی میزائل کا ایک اور تجربہ19 November, 2006 | انڈیا میزائلوں کے ٹکراؤ کا کامیاب تجربہ27 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||