بنگالورو، میسورو، منگالورو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک اپنی تشکیل کی پچاسویں سالگرہ منا رہی ہے۔ ریاست کی گولڈن جوبلی کے اس موقع پر دارالحکومت بنگلور کا نام بدل کر بنگالورو کر دیا گیا ہے۔ کرناٹک کی پچاسوی سالگرہ ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب خود اپنی ریاست میں کرناٹک کے عوام کے مفاد کے تحفظ کے لیے کرناٹک کی شناخت پر زور دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ریاست کے تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور سیاسی استقلال میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بجائے کوئی جامع قدم اٹھانے کے اس کی جگہ حکومت نے کچھ شہروں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سب سے بڑے مرکز بنگلور کے نام کی تبدیلی اس فہرست میں شامل ناموں کا محض ایک حصہ ہے جسے تبدیل کیا جانا ہے ۔ کرناٹک کی حکومت نے کم از کم گیارہ شہروں اور قصبوں کے موجودہ نام کنڑ تلفظ کی مناسبت سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے تحت منگلور کا نام اب منگالورو، میسور کا میسورو، تمکور کا تمکورو اور چکمگلور کا چکمگلورو ہو گا۔ اسی طرح کئی اور نام بھی بدل دیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلیاں مقامی سیاست دانوں اور مورخین کے دباؤ کے نتیجے میں کی گئیں جن کا خیال ہے کہ ان شہروں کے موجودہ نام ’بہت انگریزی زدہ‘ ہیں اور انہیں بدل دیا جانا چاہیے۔ کنڑ ادب کے اننت مورتی جیسے سرکردہ ادیبوں کا کہنا ہے کہ شہروں و قصبوں کے پرانے نام بحال کیے جانے چاہیں۔ ’ہم شہروں کی کنڑ شناخت اور تلفظ کی بحالی چاہتے ہیں۔ اس کا مقصد کنڑ شناخت کو برقرار رکھنا ہے‘۔
کنڑ زبان اور ثقافت کے محکمے کے سکریٹری آئی ایم وٹل مورتی کا کہنا ہے کہ جیو لوجیکل سروے آف انڈیا اور وزارت داخلہ کی طرف سے ان ناموں کو حتمی شکل دیے جانے بعد انہیں نافذ کر دیا جائے گا۔ بنگلور شہر اب ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی آئی ٹی کمپنیوں کا مرکز ہے اور اسے دنیا میں ہندوستان کی ’سلیکن ویلی‘ کے طور پر جا نا جاتا ہے۔ نام کی تبدیلی سے آئی ٹی صنعت خوش نہیں ہے۔ سافٹ وئر کے ایک انجینئر روی چندر شیکھر کہتے ہیں ’ہندوستان میں آئی ٹی انڈسٹری اور بنگلور شہر لازم و ملزوم ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر کرناٹک کی حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔ نام بدلنے کے بجائے حکومت کو اپنی پالیسیاں بدلنی چاہیں۔ یہاں کا بنیادی ڈھانچہ بدلنا چاہیے تھا‘۔ دویاگجدھر ماریشس کی شہری ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے بنگلور میں رہ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا اس شہر کو بنگلور کے نام سے جانتی ہے۔ مجھ جیسے نوجوان بنگلور کو ایک آئي ٹی مرکز کے طور پر جانتے ہیں جہاں مالز ہیں، ملٹی پلیکسز ہیں۔ بنگلور نام اس کاسمو پولیٹن کلچر کا غماز ہے۔ بنگالورو سے یہ بات نہیں پیدا ہوگی‘۔
لیکن کنڑ زبان بولنے والے مقامی لوگوں کے خیالات اس کے برخلاف ہیں۔ دو ہزار سال کی تاریخ اور کرناٹک ریاست کی تشکیل کے 50 برس بعد اس بات کا احساس نمایاں ہے کہ کنڑ شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ کنڑ بولنے والے والے دیوی کہتے ہیں ’بنگالورو نام کی بحالی اپنے ماضی، کلچر اوروراثت کو اپنانے کی ایک کوشش ہے‘۔ کرناٹک کے سامنے مستقبل کے جو چیلنجز ہیں ان میں ترقی کے اعتبار سے پسماندہ دیہی علاقوں کی غریب آبادی کے حالات بہتر بنانا۔ بنگلور جیسے شہروں میں بنیادی سہولیات اچھی بنانے اور ایک مستحکم اور اہل حکومت دینے جیسے سوالات سب سے اہم ہیں۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ ماضی کی بازیافت کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھنے کے دو رخی عمل میں کرناٹک ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکے گا یا نہیں۔ |
اسی بارے میں آخر نام میں کیا رکھا ہے؟26 October, 2006 | پاکستان حالات کیا بدلے نام بھی بدل گئے11 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||