BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 November, 2004, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حالات کیا بدلے نام بھی بدل گئے

 نام
جذباتیت کے تحت رکھےگئے نام مصلحت کے تحت بدلے جا رہے ہیں
پاکستان میں کافی عرصہ سے یہ رواج رہا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخصیت مشہور ہوتی ہے تو کافی لوگ اپنے بچوں کے نام اس کے نام پر رکھ دیتے ہیں، چاہے وہ صدام حسین ہو یا اسامہ بن لادن۔

پاکستان میں آج بھی ان شخصیات کے نام والے افراد بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن میں سے خاصی تعداد بیس برس سے کم عمر والوں کی ہے۔

عقیدت یا جذبات کی بنیاد پر نام رکھنے کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن موجودہ بین الاقوامی صورتحال اور زمینی حقائق، اب ان میں سے کئی ایک کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

آئے دن مختلف شہروں کے اخبارات میں تبدیلی نام کے شائع ہونے والے اشتہارات میں کئی ایسے اعلانات دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں خاص طور پر ’اسامہ، یا ’صدام، کے نام کو تبدیل کرکے بچے کو نیا نام دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی اشتہار گیارہ نومبر کو بھی ایک اردو اخبار کے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ایڈیشن میں شائع ہوا ہے، جس کا متن کچھ یوں ہے۔

’میں نے اپنے بیٹے اسامہ سلمان جمیل( تاریخ پیدائش 18 مئی 1992) کا نام تبدیل کرکے سنی سلمان جمیل رکھ دیا ہے۔ لہٰذا ہر خاص و عام آئندہ میرے بیٹے کو’سنی سلمان جمیل، کے نام سے لکھے اور پکارے،۔

اس اشتہار کی طرح شائع ہونے والے دیگر اشتہاروں میں بھی تبدیلی نام کی کوئی وجہ نہیں بتائی جاتی۔ البتہ اشتہاری کمپنیوں اور وکلاء کا کہنا ہے کہ صدام اور اسامہ کے نام والے بچوں کے ناموں کی تبدیلی کی زیادہ تر وجہ امریکہ اور یورپی ممالک کے ویزے کے حصول میں دشواری ہے۔

کسی مغربی ملک نے بظاہر ایسی کسی پالیسی کا اعلان تو نہیں کیا کہ وہ اس نام کے کسی فرد کو ویزہ نہیں دیں گے، لیکن لوگ خوف اور جھجک کی وجہ سے ہی ایسا کر رہے ہیں۔

جیسا کہ امریکہ میں مقیم عاشق حسین سومرو نے چند ماہ قبل اپنے بیٹے صدام حسین کا نام تبدیل کرنے کا اشتہار پاکستان کے اخبارات میں شائع کرایا۔ تاکہ ان کے بقول انہیں ویزہ کے حصول میں دشواری نہ ہواور ایک لحاظ سے انہیں کامیابی بھی ہوئی اور اب ان کا بیٹا اپنے نئے نام کے ساتھ امریکہ جا پہنچا ہے۔

عاشق سومرو کے مطابق جب جارج بش سینیئر نے سن اکانوے میں عراق پر حملہ کیا تو اس وقت صدام حسین کے حق میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے تھے، لوگ گھروں میں بھی صدام کے رنگین پوسٹر لگاتے تھے اور کئی ایک نے اظہار یکجہتی کے طور پر اپنے نومولود بچوں کے نام عراق کے صدر کے نام پر رکھنا شروع کردئے۔

ان کے مطابق ایسا کرنے والوں میں، وہ بھی شامل تھے، البتہ اب بدلے ہوئے حالات میں انہیں بھی اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔

تاہم جہاں اسامہ اور صدام کے نام تبدیل کرنے کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں وہاں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ابھی تک اسامہ کے نام والے اپنے بچوں کا نام تبدیل کرنے کے مخالف ہیں۔

راولپنڈی میں ویسٹریج سے ملحقہ، محلہ الہ آباد کے رہائشی چودھری محمد اکرم کا دعویٰ ہے کہ ان کی گلی میں رہنے والے کم از کم چار بچے ایسے ہیں جن کے نام ’اسامہ، ہیں، جس میں ان کا اپنا ایک بیٹا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے بیٹے کا نام اسامہ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ کی وجہ سے نہیں بلکہ کالعدم جماعت سپاہ صحابہ سے منسلک اپنے استاد کی فرمائش پر رکھا ہے اور کبھی اپنے بیٹے کا نام تبدیل نہیں کریں گے۔

پاکستان میں ’ہیرو پرستی، کی وجہ سے نام کا رکھا جانا صرف اسامہ اور صدام تک ہی محدود نہیں۔ اس سے کہیں پہلے سے کئی نامور شخصیات کے ناموں پر لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے رہے ہیں۔ جس میں یاسر عرفات، ذوالفقار علی بھٹو اور قذافی قابل ذکر ہیں۔ البتہ ان ناموں کو تبدیل کرنے کی فی الوقت کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد