’سب کچھ بدل گیا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساڑھے سولہ سال قبل جب فاروق احمد ڈار عرف بٹہ کراٹے جموں کشمیرلبریشن فرنٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے گرفتار ہوئے تو کشمیر میں کیبل ٹی وی تھا نہ موبائل فون۔اسی لئے اپنی رہائی کے بعد سینتیس سالہ فاروق اپنے آپ کو ’ایک الگ دُنیا‘ میں پاتے ہیں، جہاں ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے اور ہر کشمیری کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہے۔ ڈار پچھلے تین روز سے اپنے تیرہ سالہ بھتیجے عاصم شفیع ڈار سے موبائل فون کا استعمال سیکھ رہے ہیں۔ سب کچھ بدل گیا ہے غور طلب ہے کہ خود فاروق کے گھر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ فاروق وسط سرینگر کے محلہ گُروبازار میں اُسی بوسیدہ اور تباہ حال مکان میں رہتے ہیں جو اُن کے والد نے پچاس سال قبل تعمیر کیا تھا۔
عسکریت سے پہلے فاروق کے والد غلام رسول ڈار کا کہنا ہے کہ فاروق عسکریت کے ساتھ وابستہ ہونے سے قبل جرابیں بیچ کر گھریلو اخراجات میں اُن کی مدد کرتا تھا۔ غلام رسول نے بتایا کہ ’قرض لے کر ہم لدھیانہ سے جرابیں بنانے کی مشین خرید کر لائے تھے۔ رات کو ہم سب جرابیں بناتے اور دن میں سکول کے بعد بٹہ انہیں بازار میں بیچ کر آتا۔ لیکن جب بٹہ گرفتار ہوا تو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہم نے ان مشینوں کو بیچ ڈالا۔‘ عسکریت کی طرف رجحان وہ کہتے ہیں: ’ستاسی کے الیکشن کا اعلان ہوا تو نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر محمد سلطان نے مجھے نوکری اور بڑی رقم کی پیشکش کی جو میں نے ٹھکرا دی۔ ہندوستان نواز قوتوں کو خدشہ لاحق تھا کہ (مسلم متحدہ) محاذ تمام سیٹوں پر فتح حاصل کرےگا۔ پیشکش ٹھکرانے کے چوبیس گھنٹے بعد مجھے گرفتار کرکے سینٹرل جیل پہنچایا گیا۔‘
فاروق کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ان کے خیالات میں طوفان برپا کرنے کا سبب بنی اور وہ لبریشن فرنٹ کے ساتھ وابستہ ہوکر مظفرآباد پہنچ گئے جہاں ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ واپس سرینگر آئے۔ یہاں اُن کو لبریشن فرنٹ کا ایریا کمانڈر بنایا گیا۔ ’جیسا ہمارا ویسا ہی پنڈتوں کا‘ اُس وقت کے ریاستی گورنر جگموہن کو آر ایس ایس کا دیرینہ ہمدرد قرار دیتے ہوئے فاورق الزام لگاتے ہیں کہ جگموہن نے ہی پنڈتوں کی ہجرت کا منصوبہ بنایا۔ فاروق اپنے الزام کے حق میں معروف دانشور بلراج پوری کی کتاب ’کشمیر ٹوورڈز انسرجنسی‘ اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبدللہ کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہیں۔ فاروق کہتے ہیں کہ ’جیسے کشمیر ہمارا ہے ویسا ہی پنڈتوں کا بھی ہے۔ میں نے تو رگھوناتھ سکول میں پڑھا ہے، میرے پنڈت ہم جماعتوں کو معلوم ہے کہ اس ساری سازش کے پیچھے کون لوگ ہیں۔‘
یہ پوچھنے پر کہ اُن کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا، فاروق کہتے ہیں کہ وہ باقی کی زندگی بھی ’تحریک‘ کے لئے وقف کریں گے۔ تفتیشی مراکز میں فورسز کے ہاتھوں متعدد بار تشدد کی وجہ سے فاروق کئی امراض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ان کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی بینائی بہت زیادہ متاثر ہوچکی ہے۔ ڈاکڑوں کو خدشہ ہے کہ فاروق کی ہڈیوں میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے وہ آسٹیوپوروسز نامی مرض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ’بیسیوں لڑکوں کو جُوڈو اور کراٹے سکھانے والا بٹہ آج دوقدم چلتے ہی ہانپ جاتا ہے۔‘ واضح رہے فاروق مارشل آرٹ کے شوقین تھے اور کئی مقابلوں میں حصہ بھی لے چکے تھے۔ قید کے دنوں کے بات کرتے ہوئے فاروق کا کہنا تھا کہ انہوں نے جموں کی کوٹ بلوال جیل میں قیدیوں کو ناقص غذا دینے کے خلاف چودہ ماہ تک بھوک ہڑتال کی تھی۔ ’مجھے زبردستی ناک کے ذریعہ غذا دی جاتی تھی جسکی وجہ سے میری غذا کی نالی میں بھی نقائص پیدا ہوگئے۔‘ فاروق کہتے ہیں کہ کشمیری نظربندوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے اور جموں کی جیلوں میں انہیں بدمعاشوں اور مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ جیل میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے فاروق کہتے ہیں کہ، ’مجھے تو کبھی کبھی ایسا لگتا تھا کہ میں جیل میں ہی پیدا ہوا ہوں اور یہیں میری موت ہوگی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||