BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 04:56 GMT 09:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حفاظت کا مسئلہ، انڈیا بھی دوڑ میں شامل

نائن الیون نے دنیا کو لوگوں کی شناخت فراہم کرنے کا بہانہ فراہم کر دیا ہے
اکثر شناخت اور نگرانی سے متعلق تکنیکی سامان کو یہ کہہ کر بیچا جاتا ہے کہ یہ عوام کی حفاظت اور ’ کنٹرول‘ کے لئے ہے۔ کسی بھی مشتبہ شخص کی شناخت کیسے کی جائے تاریخی طور پر یہ ایک بڑی پیچیدگی رہی ہے۔

حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو عالمی سطح پر نائن ایلیون کا واقعہ ایسا واقعہ ہے جس کے بعد پوری دنیا میں لوگوں کی شناخت ایک اہم موضوع بن گیا۔

شناخت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو لوگوں کی پہچان کے لئے ان کے ناموں کی نامزدگی ، ناموں کی برانڈنگ اور انکی انگلیوں کے نشانات لینے جیسے کئی طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

یہ کوششیں اور طریقے کشیدگی کے وقت سب سے زيادہ استعمال میں آتے تھےاور ان سے مشتبہ ملزموں کو پکڑنے میں مدد ملتی تھی۔

مثال کےطور پر اٹھارويں صدی میں فرانس کے انقلاب کے بعد تجارت کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک جانے والے ’انجان‘ تاجروں کے لئے ایک شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھنا لازمی کر دیا تھا۔

ملٹی پرپز نیشنل شناختی کارڈ
جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرا ، سکینگ مشینیں ، پروفائلنگ میکانزم کے بعد اب ہندوستان کی حکومت ہر شہری کے لئے ایک ایسا ’ سمارٹ کارڈ‘ بنانے جا رہی ہے جس میں عام لوگوں کے علاوہ ان کی انگلیوں کے نشان بھی ہوں گے۔اس کارڈ کا نام ’ملٹی پرپز نیشنل شناختی کارڈ‘ ہوگا

بیسویں صدی کے نصف مرحلے میں نگرانی کے کام کاج کو بہتر بنانے کے لئے حکومتوں اور نگرانی ایجنسیوں نے ایک بڑی رقم خرچ کی۔اور نئی نئی تکنیکوں کا استعمال کیا گيا۔

جیسے جیسے وقت بدلا گلوبلائزیشن کے زمانے میں عام لوگوں کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک جانا آسان ہو گیا۔ اب کسی بھی ملک کے لئے مقامی لوگوں اور غیر ملکی لوگوں کی شناخت کا کام مزید پیچیدہ ہو گیا ۔

لیکن نائن ایلیون کے حملوں کے بعد جو ایک بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ لوگوں کی شناخت کے لئے نئی نئی تکنیکوں کی مدد لی گئی۔

اس کے بعد لوگوں کی شناخت کے طریقے بھی بدلے اور شناخت قوم ، مذہب ، جنس اور نسل کی بنیاد پر ہونے لگی۔ اگر نئے ولڈ آڈرمیں نگرانی اور شناخت کی تکنیک نے عالمی جنگ اور سرد جنگ کے دوران سب سے جدید ٹیکنالوجی کا دور دیکھا ہے۔ اور اس کے بعد سے نہ صرف کسی بھی قسم کی کشیدگی کے وقت بلکہ مینوفیکچرنگ یا ریٹیل کی صنعت ، فیشن انڈسٹری اور مہمان نوازی جیسے سکٹرز میں بھی سرویلنس یعنی نگرانی کرنے والی تکنیک کا زیادہ استعمال ہونے لگا۔

کینیڈا میں کوینز یونیورسٹی میں سماجیات کے ماہر ڈیوڈ لایون کا کہنا ہے کہ 'گلوبلائزشن' کے دور میں کسی بھی سماج کی نگرانی کرنا مشکل ہوگیا تھا لیکن نائن ایلیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارے دہشتگرد مخالف قوانین بنے اور عالمی سطح پر حکومتوں کے لئے شہریوں پر نگرانی کرنے کا بہانہ مل گیا۔

صنعتی سامان ایک سوسائٹی سے دوسرے حساس ملکوں میں بھیجے جانے کے لئے باؤمیٹرکس اور ریڈیو فریکونسی جیسی تکنیک کا استعمال ہوتا ہے اور یہی ساری تکنیک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی کام آئیں۔

نگرانی کی یہ نئی تکنیکیں لوگوں کے ’پروفائل‘ تیار کرنے ، قانونی اور غیر قانونی طور پر نقل مکانی کرنے والے اور اصل اور نقلی شہری کی پہچان کرنے میں مدد گار ثابت ہوئيں ۔

دہشتگردی بہانہ بنی
 'گلوبلائزشن' کے دور میں کسی بھی سماج کی نگرانی کرنا مشکل ہوگیا تھا لیکن نائن ایلیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارے دہشتگرد مخالف قوانین بنے اور عالمی سطح پر حکومتوں کے لئے شہریوں پر نگرانی کرنے کا بہانہ مل گیا
ماہرِ سماجیات ڈیوڈ لایون

ژیک ایلیل اپنی کتاب ’دا ٹیکنیلوجیکل سوسائٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ مجرموں کو پکڑنے کے لئے انکی نگرانی کرنا ضروری تھا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد اسّی ہزآر عربیوں اور مسلمانوں کی شناخت کے لئے ’ایلئن رجسٹریشن ایکٹ‘ کے تحت انکی انگلیوں کے نشان لئے گئے ۔ اور اس کے بعد سے ہی امریکہ میں داخل ہونے سے قبل لوگوں کی شناخت کے لئے انگلیوں کے نشان دینا لازمی بنا دیا گیا ۔

امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ نے کہیں نہ کہیں پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور پوری دنیا کے ممالک بنا سوچے سمجھے اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

’لا موندے‘ نامی ایک اخبار امریکہ کی اس جنگ میں پوری دنیا کو ایک ساتھ کرنے کی مہم کے تحت لکھتا ہے کہ ’ہم سب امریکی ہيں‘۔ اور اس کا اثر ہندوستان پر کچھ یوں ہوا کہ اس نے اپنی پوری آبادی کی 'ڈیجیٹل' نگرانی شروع کر دی ۔

جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرا ، سکینگ مشینیں ، پروفائلنگ میکانزم کے بعد اب ہندوستان کی حکومت ہر شہری کے لئے ایک ایسا ’ سمارٹ کارڈ‘ بنانے جا رہی ہے جس میں عام لوگوں کے علاوہ ان کی انگلیوں کے نشان بھی ہوں گے۔اس کارڈ کا نام ’ملٹی پرپز نیشنل شناختی کارڈ‘ ہوگا۔

یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حکومت اس پروجکٹ پر کم از کم دس ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے والی ہے۔

شاید حکومت کی یہ کوششیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ حالیہ وقت میں غیر ممالک حکومتوں کی طرح انڈیا کو بھی اپنے شہریوں کی شناخت کرنا ضروری ہے تاکہ تشدد کے حالات میں وہ یہ جان سکيں کہ مجرم کون ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد