BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 June, 2006, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آندھرا: تیرہ افراد زندہ جلا دیئے گئے
تنظیم نے جمعرات کے دھماکوں کی ذمہ داری نہیں لی تاہم جمعہ کے دھماکوں کے بارے میں خاموش ہے
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محبوب نگر ضلع میں دو متحارب گروہوں کے درمیان تنازع میں ایک ہی خاندان کے تیرہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔

ضلع کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کی صبح پیش آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں پانچ خواتین اور چار بچے شامل تھے۔

ریاست کے وزیر اعلٰی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیق کے لیئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

دریں اثناء آسام ہی میں مشتبہ علیحدگی پسند باغیوں نے بم دھماکے کیئے ہیں جن میں سات افراد ہلاک اور پچاس کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکوں میں تیل اور گیس کی پائپ لائن اور ریل کی پٹڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ریل کی پٹڑی کی مرمت کے لیئے حکام کو عارضی طور پر تمام ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کرنا پڑی ہے۔

ایک دھماکہ ہفتہ کی صبح آسام کے دارالحکومت گواہٹی کے ایک مصروف بازار میں ہوا جس میں چھ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا سلسلہ جمعرات سے شروع ہوا تھا جب نامعلوم افراد نے آسام کے چار مغربی اور مرکزی قصبوں میں دستی بم پھینکے۔ ان واقعات میں ایک تاجر ہلاک اور تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

پولیس دھماکوں کی ذمہ داری یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ نامی تنظیم پر عائد کرتی ہے۔ تنظیم نے جمعرات کے دھماکوں کے الزامات کی تو تردید کی ہے تاہم جمعہ کے دھماکوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے نمائندوں سے اس ماہ کے آخر میں مذاکرات کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد