کروناندھی نے کمان سنبھال لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ’ڈی ایم کے‘ پارٹی کے صدر ایم کروناندھی نے نئی حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔ ریاست کے گورنر سرجیت سنگھ برنالہ نے ایک شاندار تقریب میں ان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ ان کے ساتھ تیس رکنی کابینہ نے بھی حلف لیا ہے۔ بیاسی سالہ کروناندھی پانچویں بار ریاست تامل ناڈو کے وزیر اعلٰی بنے ہیں۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں انکی جما عت ’ڈراوڈ منیترا کزگم‘ (ڈی ایم کے) نے بانوے نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان کی اتحادی جماعت کانگریس کو چونتیس نشستیں ملی ہیں اور اس نے کرونا ندھی کی غیر مشروط حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کروناندھی نے اپنی وزارت میں پہلی بار اپنے چون سالہ بیٹے ایم کے اسٹالن کو بھی شامل کیا ہے۔ اسٹالن چار بار اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور انہیں کرونا ندھی کا جانشین تصور کیا جاتا ہے۔ کروناندھی تامل زبان کے ادیب ہیں اور بہت اچھے خطیب مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً پچاس تامل فلموں کا سکرپٹ لکھا ہے اور وہ دو سو سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ میکسم گورکی کی مشہور ناول ’مادر‘ کا انہوں نے تامل زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز انہوں نے اس وقت کیا جب آزادی کی جد و جہد اپنے پورے شباب پر تھی۔ ابتداء میں کروناندھی اس گروپ کے ساتھ تھے جو جنوبی ہندوستان کے پورے علاقے کو ایک الگ ملک بنانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ لیکن بعد میں انکی جماعت ڈی ایم کے نے یہ مطالبہ ترک کردیا تھا۔ کروناندھی نے سابق وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور جس طرح انکی جما عت موجودہ منموہن سنگھ حکومت میں شامل ہے اسی طرح اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں بھی شامل تھی۔ لیکن دو ہزار چار کے عام انتخابات سے ذرا پہلے انہوں نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرلیا تھا جو ابھی تک برقرار ہے۔ |
اسی بارے میں رائے بریلی: گرمی سے پولنگ کم08 May, 2006 | انڈیا تامل ناڈو: بارش، ہلاکتیں، فوج طلب26 November, 2005 | انڈیا تامل ناڈو میں اردو زبان 22 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||