انڈیا بحریہ کے ’جاسوس‘ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے تفتیشی ادارے سی بی آئی نے بحریہ میں جاسوسی کے الزام میں دو سابق کمانڈروں اور ایک کیپٹن سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جاسوسی کے اس واقع میں جس کو ’وار روم لیکیج‘ کا نام دیا گیا ہے سی بی آئی نے دلی ،گوا، چنڈی گڑھ اور ممبئی میں کم از کم سترہ مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق وزارت دفاع کی طرف سے اطلاعات ملنے کے بعد جو ابتدائی رپورٹ درج کرائی گئی ہے اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ بحریہ کے تین افسر اور فضائیہ کے ایک اعلی افسر نے غیر فوجی لوگوں اور بعض سبکدوش افسروں کے ساتھ مل کر وزارت دفاع کے انتہائی اہم دستاویزات غیر قانونی طریقے سے دوسرے لوگوں کو فراہم کئے ۔’ ان دستاویزات کے افشا ہونے سے ملک کے اقتدار اعلی اور سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘ جاسوسی کے اس معاملے میں بحریہ کے دو کمانڈروں وی رانا اور وی کے جھا سمیت نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہيں کہ سی بی آئی بحریہ کے موجودہ سربراہ ارن پرکاش کے ایک رشتے دار روی شنکرن کو بھی پوچھ گچھ کے لئے تلاش کر رہی ہے۔ وزارت دفاع نے یہ معاملہ اٹھارہ فروری کو سی بی آئی کے حوالے اس وقت کیا تھا جب بعض تحقیقات سے پتہ چلا کہ جنگی تیاریوں سے متعلق انتہائی اہم دستاویزات بعض اعلی افسروں نے کچھ غیر ملکی لوگوں کو فروخت کئے ہيں۔ اس کی مزید تفصیلات تو سامنے نہیں آ سکیں لیکن بحریہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات ’تجارتی نوعیت ‘ کی ہیں۔ بظاہر اس سے مراد جنگی ساز و سامان کی خریداری سے ہے۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد بحریہ کے دونوں کمانڈروں اور ایک کیپٹن کو تفتیش کے بعد گزشتہ برس اکتوبر میں ہی انکے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بھارتی ’جاسوس‘ برطرف06 June, 2004 | انڈیا چین: صحافی پر جاسوسی کا الزام05 August, 2005 | آس پاس سفارت کاروں پر جاسوسی کا الزام23 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||