’چہرہ ملنے سے مجرم نہیں بن جاتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ بہار کے شمالی ضلع مظفرپور کے مہدی حسن چوک کی ایرانی کالونی میں گزشتہ چند دنوں سے سنی جا رہی آہ و بکا شہادت حسین کی مجلس کی ہے یا بنارس بم دھماکوں کے سلسلے میں پکڑے گئے آٹھ افراد کے خاندان کی۔ بنارس بم دھماکوں کے بعد پولیس نے مشتبہ حملہ آوروں کے جو خاکے جاری کیئے تھے ان میں سے ایک کی مشابہت اسی ایرانی کالونی کے صادق علی سے ملتی تھی جسے ہردوئی پولیس نے دس مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ صادق کے ساتھ انصار علی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جن کے بارے میں پولیس کا یہ کہنا تھا کہ ان کا چہرہ دلی بم دھماکوں کے بعد جاری مشتبہ فرد کے خاکے سے ملتا ہے۔ ان دو لوگوں کے ساتھ چھ اور لوگ پکڑے بھی گئے تھے مگر بعد میں انہیں پولیس نے چھوڑ دیا تھا۔ ان آٹھ افراد کے لیئے پوری ایرانی کالونی پریشان ہے مگر زیادہ پریشانی ان چھ افراد کے لیئے ہے جنہیں پولیس نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پوری کالونی میں کسی کو نہیں پتہ کہ وہ افراد آخر گئے کہاں؟ ایرانی کالونی میں قریب سو خاندان رہتے ہیں۔ یہ آپس میں فارسی سے ملتی جلتی زبان میں بات کرتے ہیں مگر اردو۔ہندی زبان بھی آسانی سے بول سکتے ہیں۔تقریباً تمام مرد اور خواتین چشمہ اور جواہرات کے کاروبار سے منسلک ہیں اور یہ عام طور پرگروہ بنا کر تجارت کے لیئے نکلتے ہیں۔
جس گروہ کے لوگ پکڑے گئے تھے ان میں چار تو قریبی رشتہ دار ہیں اور عقیدے کے لحاظ سے شیعہ ہیں۔ ان کی کالونی مقامی امام باڑے کے پاس خالی پڑی وقف کی زمین پر بسی ہے اور عمومی طور پر مقامی باشندوں سے ان کے تعلقات بہتر ہی رہے ہیں۔ صادق علی کی ماں کشور بانو نے پیر کے روز اپنے بیٹے سے بات کی تھی۔ پوری کالونی صادق اور انصار علی کی آمد کا انتظار کر رہی تھی کہ صبح صبح معلوم ہوا کہ دونوں کو پولیس نے دوبارہ پکڑ لیا ہے۔ کشور بانو آدھی اردو اور آدھی فارسی میں کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا’ آتنک وادی‘ نہیں۔ وہ بےحد پریشان ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ ایرانی کالونی کی اکثریت گورے اور توانا لوگوں کی ہے اور اگرچہ صادق کا چہرہ پولیس کے بتائے گئے حلیہ سے ملتا جلتا تو ہے مگر ان کی ماں کا کہنا ہے کہ چہرہ ملنے سے آدمی مجرم تو نہیں ہو جاتا۔ کشور بانو کے ساتھ زینت بانو کا بھی برا حال ہے۔ زینت کے شوہر شرافت علی، خسر عباس علی، دیور غلام علی اور بھتیجا راجو علی ان چھ لوگوں میں شامل ہیں جنہیں پولیس رہا کرنے کا اعلان کر چکی ہے مگر ان کا کوئی پتہ نہیں۔ مظفرپور کے آئی جی پولیس مسٹر سنیت کمار نے بتایا کہ جن دو افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا ان کے خلاف مقامی تھانوں میں کوئی شکایت درج نہیں مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یو پی کی پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں بنارس دھماکے: گرفتار افراد رہا 12 March, 2006 | انڈیا مشتبہ بمباروں کی تلاش شروع10 March, 2006 | انڈیا ’لشکر طیبہ ملوث ہے‘ خاکے جاری09 March, 2006 | انڈیا بنارس:دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ07 March, 2006 | انڈیا بنارس کے بڑے مندر میں دھماکہ07 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||