بنارس دھماکے: گرفتار افراد رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتر پردیش پولیس نے بنارس بم دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیئے گئے دو افراد کو رہا کر دیا ہے۔ اتر پردیش کی پولیس کا کہنا ہے گرفتار کیئے گئے لوگوں سے پوچھ تاچھ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ دونوں لوگ اس دن بنارس میں موجود نہیں تھے جس روز یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے روز یہ لوگ بنارس سے پانچ سو کلومیٹر دور شاہ جہاں پور ميں تھے۔ پولیس نے بتایا کہ چشم دید گواہوں نے شناخت کے دوران بتایا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے اس روز بازار میں بم رکھا تھا۔ یہ چشم دید گواہ وہ دکان دار ہيں جنکی مدد سے پولیس نے مشتبہ بم باروں کا حلیہ تیار کیا تھا۔ پولیس نے جمعہ کے روز لکھنؤ کے نزدیک ہردوئی علاقے سے ان دونوں لوگوں کو پوچھ تاش کے لیئے گرفتار کیا تھا۔ مشتبہ حملہ آوروں کےحلیے کی بنیاد پر یہ گرفتاری انجام دی گئی تھی۔ بہار کی پولیس سے ان لوگوں کے بارے میں مزید جانکاری حاصل کرنے کے بعد اتر پردیش کی پولیس نے بتایا کہ ان لوگوں کا تعلق مظفرپور سے ہے اور انکے خلاف کسی طرح کا کوئی معاملہ پولیس ریکارڈ میں درج نہیں ہے۔ سات مارچ کو بنارس کے سنکٹ موچن مندر اور ریلوے اسٹیشن پر دو بم دھماکوں میں 14 افراد ہلاک اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی جانچ کے بعد پولیس نے وقوعہ پر موجود لوگوں کی مدد سے بم دھماکوں میں ملوث لوگوں کے حلیے جاری کیئے تھے۔ پولیس کے مطابق بمباروں نے سنکٹ موچن مندر پر ایک ’پریشر کوکر‘میں بم رکھا تھا اور دھماکے کے لیئے ’امونیم نائٹریٹ‘جیسے خطرناک مادے کا استمعال کیا گیا تھا۔ اب تک کسی بھی شخص یا تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن ابتدائی جانچ کے بعد ریاستی پولیس کوکشمیرکی سرگرم تنظیم لشکر طیبہ پر شک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام ثبوت لشکر طیبہ کی طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے حملہ آوروں کے بارے میں پختہ جانکاری دینے والے اور اسے گرفتار کروانے والے کے لیئے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ ادھر بناررس میں حالات پوری طرح معمول پر آچکے ہیں۔ پر امن ماحول قائم رکھنے کےلیئے اتوار کو سنکٹ موچن مندر سے ایک امن یا پیس مار چ بھی نکالا گیا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس جلوس میں کئی مشہور و معروف ہستیوں نے بھی شرکت کی جن میں نغمہ نگار جاوید اختر اور سمجاجی رہنما سوامی اگنیویش بھی شامل تھے۔ | اسی بارے میں بنارس کے بڑے مندر میں دھماکہ07 March, 2006 | انڈیا بنارس:دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ07 March, 2006 | انڈیا مندر پر حملے کے خلاف بنارس بند08 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||