’ہم جنس پرستوں کے ساتھ نا انصافی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے بھارتی وزیر اعظم کو خط لکھا ہے جس میں بھارت میں ہم جنس پرستوں کے خلاف قوانین پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھیجے گئے اس خط میں تنظیم نے لکھا ہے کہ موجودہ قوانین اور رویےانسانی حقوق کے خلاف ہیں اور ان سے ایچ آئی وی ایڈز کے بڑھنے کا خطرہ بھی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے یہ خط لکھنؤ میں ہم جنس پرستوں کے خلاف حالیہ کارروائی کے بعد لکھا ہے۔ پچھلے ہفتے لکھنؤ میں پولیس نے انٹرنیٹ کے ذریعے کئی ہم جنس پرست مردوں کو پکڑا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پولیس کے کچھ افسران نے ایک ’گے‘ ویب سائٹ پر جا کر یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ ہم خود جنس پرست ہیں اور ان کو نئے دوستوں کی تلاش ہے۔ ایک ایسے شخص سے جب رابطہ ہو گیا تو پھر اسے پولیس نے مجبور کیا کہ وہ دیگر اور ایسے مردوں کو ان کے ہاں بلا لے اور پھر ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے اہلکار سکوٹ لونگ کہتے ہیں کہ پولیس ان افراد کو اس لیے ہراساں کر سکتی ہے کیونکہ بھارتی قانون کے تحت ہم جنس پرستوں میں تعلقات ایک جرم ہیں۔ بھارتی قوانین کے تحت ہم جنس تعلقات ’غیر قدرتی فعل‘ ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں حکومت نے اس قانونی درخواست کی مخالفت کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس تعلقات کو غیر قانونی قرار نہ دیا جائے۔ |
اسی بارے میں میں پاکستان میں ہی خوش کیوں ہوں02 June, 2005 | قلم اور کالم ’اصل مسئلہ منافقت ہے‘06 October, 2005 | قلم اور کالم خیبر ایجنسی میں ’ گے میرج‘05 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||