’انسٹ4 ‘سیٹلائٹ خلاء میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے تین سو اسّی کلوگرام وزنی سیٹلائٹ ’انسٹ 4‘ کامیابی سے خلاء میں بھیج دی ہے۔ اس کا مقصد ملک میں ٹیلی وژن نشریات کو مزید بہتر کرنا ہے۔ ہندوستان میں سپیس ریسرچ سینٹر کے افسران کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کامیابی سے اپنی منزل پر پہنچ گئی ہے۔ سیٹلائٹ ’انسٹ 4‘ ہندوستانی خلائی ریسرچ ایجنسی نے تیار کیا ہے اور اسے فرنچ گیانا کے خلائی سنٹر کورو سے یورپی جینرک راکٹ ایرینا 5 کے ذریعے خلاء میں چھوڑا گیا ہے۔ خلائی سینٹر ’اسرو‘ کے سربراہ مادھون نائر سیٹلائٹ لانچ کے موقع پر فرنچ گیانا میں موجود تھے۔ اس سیٹلائٹ میں ڈی ایچ ٹی وی یعنی ڈائریکٹ ہوم ٹیلیوژن کے لیے 12 کے یو بینڈ کا ٹرانسپونڈر نصب ہے جس سے بہترین کوالٹی کا ویڈیو نشر کرنے میں مدد ملےگی۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کے لیے بارہ سی ٹرانسپونڈر بھی نصب ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے ٹیلی وژن کی نشریات کے شعبے میں ایک انقلاب سا آئےگا۔ مسٹر مادھون نے پوری کارروائی کا مشاہدہ کیا اور اس سیارچے کی کامیابی سے روانگی کو ’اسرو‘ کے لیے سنگ میل بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’اسرو نے اب تک کہ جو بھی سیٹلائٹ تخلیق کی تھیں ان میں یہ سب سے بہترہے اور سب سے زیادہ وزنی اور اب تک کہ سب سے زیادہ طاقت ور بھی ہے‘۔ سیٹلائٹ لانچ کرنے کی سہولت ہندوستان کے خلائی سینٹر میں بھی میسر ہے لیکن اس میں اتنا وزنی سیٹلائٹ چھوڑ نےکی اس میں طاقت نہیں ہے اسی لیے یورپی ایرینا 5 سے مدد لی گئی۔ مذکورہ سیٹلائٹ کے بارہ کلو گرام کے ٹرانسپونڈر کو ٹاٹا اسکائی نے پہلے ہی سے حاصل کرلیا ہے۔ ٹاٹا کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے گاہکوں کو ایک سو پچاس ٹی وی چینل مہیا کرےگا۔ | اسی بارے میں دو نئے سیارے خلاء میں روانہ05 May, 2005 | انڈیا بھارتی اداروں پر پابندیاں ختم01 September, 2005 | انڈیا بھارت پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ28 June, 2005 | انڈیا گاؤں کا طالبعلم ناسا جا پہنچا17 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||