بدعنوان افسروں کے خلاف کریک ڈاؤن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سب سے اہم تفتیشی ادارے سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو نے بدعنوانی میں ملوث مشتبہ سرکاری افسروں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔ یہ کاروائی ملک کے چوّن شہروں میں کی گئی ہے اور ایک سو اٹھانوے سے زائد ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی ہے۔ اس آپریشن کے دوران کئی افسروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور تلاشی کے دوران لاکھوں روپے کی نقدی برآمد کی گئی ہے۔ گرفتار کیے جانے والے افسران کے خلاف بد عنوانی کے انتالیس نئے مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف اس مہم میں سی بی آئی کے تقریبا دو ہزار افسر حصّہ لے رہے ہیں۔ بیورو کے ترجمان جی موہنتی کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا خاص مقصد بدعنوان سرکاری ملازموں کو بے نقاب کرنا ہے۔ مسٹر مہنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ یہ بد عنوانی کے خلاف ایک خصوصی قسم کا آپریشن ہے جس کے تحت کچھ مشتبہ سینئیرافسران کے مکانوں اور دفتروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں‘۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر کسٹم اور انکم ٹیکس شعبے کے افسران کے ٹھکانوں کی تلاشی لی گئي ہے۔ اس سے قبل جنوری، اپریل اور جون کے مہینے میں بھی سی بی آئي نے ملک بھر میں کئی جگہوں پر چھاپے مارے تھے۔ گزشتہ ہفتے دارالحکومت دلی میں بھی بعض افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گيا تھا لیکن ان کے خلاف کاروائی کیا کی گئي کسی کو نہیں معلوم ہے۔ اس سلسلے میں چند افسروں کے خلاف مقدمے بھی چل رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||