ہریانہ: چھڑپوں میں پینسٹھ زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس اور ہنڈا موٹرسائیکل اور سکوٹر کمپنی کی ذیلی کمپنی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں پینسٹھ افراد زخمی ہوگئے جبکہ دس گاڑیوں کو آگ لگ دی گئی اور ایک سو سے زائد لوگ گرفتار ہوئے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگرس کی صدر سونیا گاندھی نے گڑگاؤں کے قریب ہونے والی ان جھڑپوں پر افسوس ظاہر کیا ہے اور ریاست کے وزیر اعلیٰ سے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہریانہ میں پارلیمانی امور اور ٹرانسپورٹ کے وزیر رندیپ سرجیوالا کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپیں مظاہرین نے شروع کیں اور سب سے پہلے انہوں نے پولیس پر حملہ کیا اور پولیس کی جیپوں کو آگ لگائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان جھڑپوں میں مزدوروں کے علاوہ کسی اور کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ بھارت کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کرنے والے مزدور پچاس معطل اور اپنے چار برطرف ہونے والےساتھیوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق معاملات اس وقت قابو سے باہر ہو گئے جب کچھ مظاہرین نے گڑگاؤں اور دِلّی کو ملانے والی سڑک کو بلاک کرنے کی کوشش کی۔ پولیس اور ہیرو ہنڈا کے کارکنوں کے درمیان لڑائی کا معاملہ لوک سبھا میں اٹھایا گیا جس میں ہنگامہ ہوا اور حزبِ اختلاف کے کچھ اراکین واک آؤٹ بھی کر گئے۔ بھارتی لوک سبھا میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر باسودیو آچاریا نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ معاملہ منگل کو لوک سبھا کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ہریانہ کے وزیر اعلٰیٰ کو کہا ہے کہ وہ گڑگاؤں کا دورہ کریں اور ان واقعات کی تحقیق کرائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کریں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||