تعزیتی خط لکھنےکاشوقین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم میں سے شاید سبھی نے کسی نہ کسی کو کبھی نہ کبھی خط ضرور لکھے ہونگیں۔اپنے رشتے داروں کو ، دوستوں کو یا کبھی سرکاری دفتر میں عرضی کے طور پر۔ لیکن گووردھن کیشوانی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں کسی کے انتقال ہونے پر متاثرہ خاندان کو تعزیتی خط لکھنے کا شوق ہے۔ کیشوانی کا کہنا ہے کہ دوسرے کے غم میں شریک ہونے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ کیشوانی نےتعزیتی خطوط لکھنے کا یہ سلسلہ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی قتل کے بعد شروع کیا تھا اورگزشتہ چودہ برس میں وہ ملک کے بہت سے لوگوں کو انکے گھر انتقال ہونے پرتقریباً پینسٹھ ہزار تعزیتی خط لکھے ہیں۔ انکا کہنا تھا '' راجیو گاندھی کے قتل حادثے نے مجھےجھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں نے انکے خاندان کو پہلا تعزیتی خط لکھا تھا اور ابھی تک ہر برسی پر انہیں لکھتا ہوں۔ اسکے علاوہ ملک یا بیرون ملک جہاں کہیں بھی پتہ چلے کہ کسی کےگھر انتقال ہوا ہے تو میں انہیں اپنا تعزیتی پیغام بھیجتا ہوں'' ۔ کیشوانی راجستھان میں جے پور کے باشندے ہیں۔ وہ بہت سے اخبارت سے ہرروز تعزیتی پیغام والے کالم سے پتے نوٹ کرتے ہیں اور ہر روز اٹھائیس سے تیس خط لکھتے ہیں۔ اس شوق پر وہ ہر ماہ تقریبا ڈیڑھ ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔ گووردھن کہتے ہیں '' خوشی میں شامل ہونے سے خوشی دوگنی ہوتی ہے اور غم میں یاد کرنے سے غم آدھا ہوجاتا ہے۔ میں سب کی خوشیوں میں تو شامل نہیں ہوسکتا لیکن غم کوتقسیم کرکے اسے آدھا کرنا چاہتا ہوں'' ۔ کیشوانی اس کوشش میں گھر سے زیادہ باہر نہیں جاتے ہیں۔ اور اگر جاتے ہیں تو اخباروں کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے اور واپس آکروہ نئے پتوں پر خط لکھتے ہیں۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہچانے کا کیشوانی اسکا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اخبارات کے تعزیتی پیغامات باقاعدہ پڑھتے ہیں اور پھر انکی مطابقت سے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ گزشتہ چودہ برسوں سے اپنے اس مشغلے کی وجہ سے وہ جذباتی طور پر بہت سے خاندانوں سے انکا ربطہ ہے۔ اور بہت سے خاندانوں کا وہ حصہ ہیں۔ لوگ تقریبات میں دعوت بھی دیتے ہیں۔ ان سے کافی دیر کے تک بات چیت ہوتی رہی اور جب چلنے کا وقت آیا تو وہ کافی جذباتی ہوگۓ ۔کہنے لگے ’ میری سونیا گاندھی سے ملنے کی ایک تمنا تھی۔ انکے شوہر کی موت پر میں نے یہ سلسلہ شروع کیا تھااور چاہتا تھا کہ کاش ان سے ایک بار ملاقات ہوجائے‘ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||