BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 April, 2005, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف دورہ، غیر معمولی تیاریاں

پاکستانی صدر پرویز مشرف
صدر مشرف کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے 16 اپریل کو دلی پہنچیں گے
پاکستان کے صدر پرویز مشرف کا ہندوستان دورہ اگر چہ سرکاری نوعیت کا نہیں ہے لیکن تیاریاں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر کی جارہی ہیں۔

سلامتی کے نقطہ نظر سے صدر مشرف کے قیام کا انتظام مان سنگھ روڈ پر واقع تاج محل ہوٹل میں کیا جا رہا ہے۔ اسی ہوٹل میں اسرائیل کے وزیر ا‏عظم اور چند ماہ قبل خود پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز بھی ٹھہر چکے ہیں۔

پریزیڈینشیل سوئیٹ نویں منزل پر واقع ہے۔ اس میں ورزش کے لیے ایک الگ کمرہ ہے۔ ایک چھوٹی سی لائبریری ہے۔ اس میں وینیٹی روم ، پرائیوٹ کچن ، ڈائنگ روم ، ڈرائنگ روم اور لوگوں سے ملنے کے لئے ایک کمرہ ہے۔ صدر کے ساتھ آنے والے وفد بھی اسی ہوٹل میں قیام کرے گا۔

صدر مشرف چونکہ کئی شدّت پسند تنظیموں کے نشانے پر ہيں اس لئے حفاظتی انتظامات میں کوئي کمی نہیں چھوڑی جارہی ہے۔ تاج محل میں ٹھرانے کا سبب بھی سلامتی کا پہلو ہے۔ اس سے قبل 2001 میں صدر مشرف جب دلی آئے تھے اس وقت وہ راشٹرپتی بھون یعنی ایوان صدر میں ٹھہرے تھے۔

اس وقت تاج محل ہوٹل کمانڈوز کی نگرانی میں ہے۔ جمعہ سے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دئے جائیں گے ۔ ہوٹل تک پہچنے کے بعض راستے سکیورٹی کے کنٹرول میں ہونگے۔ اور تلاشی کے بغیر کوئی نہیں جا سکے گی۔

ہوٹل کے چیف خانساماں صدر مشرف اور ان کی بیگم کے لیے مینیوکی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کباب اور بریانی پر مشتمل ایک لمبا مینیو تیار کیا جا رہا ہے۔
صدر مشرف 17 اپریل کی صبح فیروزشاہ کوٹلہ گراؤنڈ پر ہند پاک کرکٹ میچ دیکھیں گے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی ان کے ساتھ ہوں گے ۔

صدر اے پی جے عبدالکلام نے ان کے اعزاز میں ایک ظہرانے کا اہتمام کیا ہے۔ اسی دن وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بات چیت کریں گے۔

صدر مشرف حریت کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے ۔ دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے بھی ایک استقبالیہ تقریب کی تیاری کر رہا ہے۔ ادھر فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں تیاریاں زوروں پر ہیں ۔ وہ بلٹ پروف کیبن تیار ہو گئی ہے

جہاں بیٹھ کر جنرل مشرف میچ دیکھیں گے۔ ٹریفک پولیس نے اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لئے راستوں میں تبدیلی اور کئي راستے بند کئے جانے کے بارے میں آج سے ہی اشتہارات دینا شروع کر دیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے ایک اعلیٰ اختیاراتی اجلاس میں فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔

اس اجلاس میں داخلہ سکریٹری ، وزیر اعظم کےمشیرِ خاص، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ ، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔

اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے دورۂ بھارت کے موقع پر سٹیڈیم میں کیے جانے والے انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔ صدر مشرف اس گراؤنڈ پر 17 اپریل کو ہندوستان اور پاکستان کے مابین ہونے والا ایک روزہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے بھارت آ رہے ہیں۔

صدر مشرف کرکٹ میچ دیکھنے کے لیے 16 اپریل کو دلی پہنچیں گے۔ 17 اپریل کو وہ تقریبا ایک گھنٹے تک میچ دیکھیں گے۔ اسٹیڈیم میں وہ کھیل شرع ہونے سے قبل پہنچیں گے اور اندازہ ہے کہ وہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں سے میدان میں ملیں گے۔

انٹیلی جنس کے سبھی شعبے صدر مشرف کے لیے حفاظتی انتظامات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کسی ممکنہ شدت پسندانہ کاروائی کو ناکام بنانے کے لیے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کے اطراف میں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرنے والے مہمانوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہيں۔

سٹیڈیم میں صدر مشرف کے لیے ایک ایئرکنڈیشنڈ بلٹ پروف کیبن بنایاگیا ہے جس میں ان کے ساتھ آٹھ دیگر اہم شخصیات بیٹھ سکیں گی۔

اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ وزیرِاعظم منموہن سنگھ ان کے ساتھ ہوں گے یا نہیں البتہ یہ کہا جا رہا ہے کہ گاندھی فیملی کے ارکان بھی اس موقع پر صدر مشرف کے ساتھ ہوں گے۔

یوں تو صدر مشرف کرکٹ میچ دیکھنے آئیں گے لیکن درحقیقت وہ ایک بڑے سفارتی مشن پر ہوں گے ۔ ان کے ایجنڈے میں وزیر اعظم من موہن سنگھ سے کشمیر کے مسئلے پر مفصل بات چیت شامل ہے۔

صدر مشرف حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور اس سلسلے میں میر واعظ عمر فاروق کے علاوہ حریت کے سخت گیر سمجھے جانے والے رہنما سید علی شاہ گیلانی کو بھی ملاقات کی دعوت دی جا رہی ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے علی شاہ گیلانی کو ابھی باضابطہ طور پر دعوت نامہ نہیں ملا ہے لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ وہ مشرف سے ملاقات کریں گے۔

وزیرِاعظم منموہن سنگھ بھی اپنے مشیروں سے اس سلسلے میں صلاح و مشورہ کر رہے ہیں ۔ مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ صدر مشرف سے کشمیرکے موضوع پر مفصل بات چیت ہوگي ۔ اس موقع پر اعتماد سازی کے بعض نئے اقدامات کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد